جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالات*تحریک آزادئ ہند میں مسلم خواتین کا کردار

*تحریک آزادئ ہند میں مسلم خواتین کا کردار

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

کافی دنوں کے بعد آج 30 جولائی 2022 کو ایک سمینار میں شرکت کا موقع ملا _ اس کا مرکزی عنوان تھا : ” ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کا کردار _ “ اس کا انعقاد مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے حیدر آباد میں اویسی ہاسپٹل سے متّصل سالارِ ملّت آڈیٹوریم میں ہوا _ مجلس استقبالیہ کے رکن مولانا عمر عابدین قاسمی نے مجھ سے شرکت کی خواہش کی تھی ، بلکہ انھوں نے عنوان بھی متعین کردیا تھا کہ مجھے تحریکِ آزادی میں مسلم خواتین کے کردار پر اظہارِ خیال کرنا ہے _ سفر کی اب کتنی آسانی ہوگئی ہے کہ میں نے بہ ذریعے فلائٹ صبح دہلی سے سفر کیا اور پروگرام میں شرکت کرکے شب میں واپس آگیا _

سمینار میں متعدد اصحابِ علم کو جمع کرلیا گیا تھا _ ڈاکٹر عامر اللہ خاں حیدر آباد ، پروفیسر محمد سجاد مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ ، خواجہ اکرام الدین احمد جے این یو نئی دہلی ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، مفتی سید ضیاء الدین نقش بندی ، جامعہ نظامیہ حیدر آباد ، پروفیسر محمد عبد المجید صدیقی حیدر آباد ، پروفیسر محمد صغیر افراہیم ، مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ ، مولانا محمد الیاس ندوی بھٹکلی ، ڈاکٹر محمد یامین انصاری ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ انقلاب نئی دہلی ، پروفیسر عبد الحمید گلبرگہ ، پروفیسر راہی فدائی بنگلور ، شاہ مصطفیٰ رفاعی بنگلور ، وغیرہ _ افتتاحی اجلاس کے علاوہ دو اجلاس اور ہوئے ، جن میں ایک درجن مقالات پڑھے گئے _ پہلے اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد عبد العلیم ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی حیدر آباد اور دوسرے اجلاس کی نظامت مولانا عمر عابدین قاسمی نے کی _ ان میں تحریک آزادی میں مسلمانوں کی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی _ مقالہ نگاروں کی طرف سے اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اِدھر کچھ عرصہ سے ملک کی تاریخ ازسرِ نو لکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ، جس میں جان بوجھ کر مسلمانوں کی خدمات کو فراموش کیا جارہا ہے _

میں نے مقالات کے دوسرے اجلاس میں اپنا مقالہ پیش کیا _ میں نے عرض کیا کہ اردو ، انگریزی ، عربی یا دیگر زبانوں میں آزادئ ہند کی تاریخ پر عمومی یا مسلمانوں کی خدمات کو نمایاں کرنے والی جو کتابیں لکھی گئی ہوں ، سب میں مسلم خواتین کے کردار کو نظر انداز کیا گیا ہے _ ہر کتاب میں صرف اکّا دکّا خواتین کا تذکرہ ملتا ہے ، وہ بھی بہت سرسری _ البتہ ڈاکٹر عابدہ سمیع الدین نے ‘ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلم خواتین کا حصہ ‘کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ، جس میں 40 خواتین کا تذکرہ جمع کیا ہے _ بہت سی خواتین نے باقاعدہ میدان میں شمشیر زنی کی ہے ، دشمنوں کو تہہ تیغ کیا ہے ، گرفتار ، زخمی اور شہید ہوئی ہیں _ اس کے علاوہ بڑی تعداد ایسی خواتین کی ہے جنھوں نے اپنے بیٹوں ، اور شوہروں کو آزادی کے لیے جدّوجہد کرنے کا حوصلہ دیا ہے اور ان کا بھرپور تعاون کیا ہے _ میں نے بہ طور مثال بہت سی خواتین کا تذکرہ کیا _ اس اجلاس کی صدارت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے فرمائی _ انھوں نے میرے مقالے کی خاص طور پر ستائش کی _ ان کا میرے بارے میں یہ تبصرہ مزہ دے گیا : ” میرے عزیز دوست رضی الاسلام ندوی اپنی تحریروں کے ذریعے خواتین کے مضبوط وکیل کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں _”

یہ سمینار مجلس اتحاد المسلمین کے صدر جناب اسد الدین اویسی کی خصوصی دل چسپی سے منعقد ہوا _ وہ پورے پروگرام میں موجود رہے _ میرا خیال تھا کہ سمینار میں ان کی بھی پُر جوش تقریر سننے کو ملے گی ، لیکن وہ اسٹیج پر نہیں آئے اور سامعین میں بیٹھے رہے ، البتہ بڑی خاک ساری کے ساتھ مہمانوں کا استقبال اور خاطر و مدارات کرنے میں پیش پیش رہے _ اعلان کیا گیا کہ تمام مقالات کو بہت جلد کتابی صورت میں شائع کیا جائے گا _

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے