تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی

236

(خلوت کی تباہ کاریاں)

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی طالب علم بارہمولہ کشمیر

آج تنہائی کسی ہمدم دیریں کی طرح

کرنے آئی ہے میری ساقی گیری شام ڈھلے

 

منتظر بیٹھے ہے ہم دونوں كہ مہتاب ابھرے

اور ترا عکس جھلکنے لگے ہر سائے تلے

 

روز اول سے اللہ کی سنت رہی ہے کہ اپنے محبوب بندوں کو آزمائے.آزمائش مختلف طریقوں اور مختلف اقسام پر مبنی ہوتی ہے.کائنات کا متفق اصول ہے کہ آزمائش میں کامیابی حاصل کرنے سے ایمان میں نکھار آجاتا ہے جبکہ آزمائش میں ناکامی انسان کو بکھیر کے رکھ دیتی ہے.عصر حاضر میں اگر حقائق پر نظر ڈالی جائے تو سب سے بڑی آزمائش خلوت ہے یعنی تنہائی.ایسا اس لئے کیونکہ انٹرنیٹ (internet) کا دور دورہ ہے.بحیثیت مسلمان انٹرنیٹ کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ دعوت اصلاح پروگرام کو فروغ دینے کے لئے یہ ایک عمدہ platform ہے .تاریخ گواہ ہے کہ انٹرنیٹ کے نزول سے لیکر اب تک دعوتی سرگرمیوں میں کافی حد تک اضافہ آیا ہے.انٹرنیٹ کی مدد سے ہماری زندگی آسان ہوگئی ہے اور اسکے بغیر زندگی گزارنا اب ناممکن ہے.یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انٹرنیٹ نے علوم و فنون کے شعبے میں انقلاب برپا کردیا.لیکن جہاں اسکے لاتعداد ثمرات حاصل ہوئے وہیں معتدد بیماریاں بھی اسکی بدولت وجود میں آئی.اہل ایمان کا ذہن کافی وسیع ہے ,ہم انٹرنیٹ کے استعمال کو مستحب سمجھتے ہیں ,لیکن حدود کے اندر.جب بندہ حدود کو تجاوز کرجائے تو فساد برپا ہوتا ہے.انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے ایمانی اور روحانی بیماریوں کا ظہور ہوا جن کے اسماء سے بھی ہمارے اسلاف بے خبر تھے.اور جب یہ غلط استعمال تنہائی میں کیا جائے تو انسان حیوانیت سے بھی نیچے گرجاتا ہے.

 

دوستو! سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک (facebook) , انسٹاگرام (instagram) ,واٹس آپ (whatsapp) ,سنیپ چیٹ (snapchat) وغیرہ پر آپ کی ایک کلک آپ کے آخرت کو برباد کرسکتی ہے.اختلاط مرد و زن بالاتفاق حرام اور ناجائز ہے لیکن عصر حاضر میں ہمارے نوجوان اس حرمت کو سوشل میڈیا کے ذریعہ حلت میں تبدیل کررہے ہیں.غیر شرعی تعلقات کو فخر سے نبھایا جاتا ہے ,غیر محرموں سے ویڈیو کالنگ (video calling) ,بات چیت رات رات بھر کی جاتی ہے.جب دو غیر محرم تنہائی میں رات کے وقت ایسے منکرات میں مبتلا ہوجائیں تو تیسرا شیطان ہی ہوتا ہے جو انہیں برائی پر ابھارتا ہے.اسی طرح رات رات بھر فحش ویب سائٹس (black websites) پر فحش اور عریاں اداکاریاں دیکھ کر بندے کے ایمان اور شرم و حیا کا جنازہ نکل جاتا ہے.وقت کی بربادی,اپنے مستقبل کی بربادی,اپنے صحت کی بربادی ,اپنی قابلیت کی بربادی اس کے نقد تحفے ہیں.برائی اور گندگی کی طرف اگر بندے کا دل ایک بار مائل ہوجائے تو واپس پھیرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ نفس امارہ آپ کو برائیوں میں مٹھامحسوس کرائے گا.

فرمان باری تعالی ہے کہ ” آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔” (القرآن) یقیناً ایسا ہوگا تو واضح ہوا کہ تنہائی کے غلط استعمال سے آپکو آخرت میں پشیمانی کا سامنہ کرنا ہوگا.کیا چھوٹا کیا بڑا ,کیا بچہ کیا بزرگ ,کیا باپ کیا بیٹا ,کیا ماں کیا بیٹی ہر ایک اس گناہ مںبتلا ہورہا ہے.کچھ عرصہ پہلے ہم اس وہم میں مبتلا تھے کہ ٹیلی ویژن (television) کو گھر سے نکال کر ہمارے بچے عریان اور فحش فلموں سے دور رہ سکتے ہیں لیکن آج وہی کام youtube کر رہا ہے بلکہ اس سے بھی آگے.شھید شوکت احمد شاہ رحمہ اللہ نے دہلی کے ایک اجتماع سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ آج انسان کے ہاتھ میں جنت بھی ہے اور دوزخ بھی .وہ اس طرح کہ ایک کلک کرنے سے آپ کے ایمان میں زیادتی واقع ہوسکتی ہے اور ایک ہی کلپ میں آپ اسلام سے نکل کر کفر کے دلدل میں گرسکتے ہیں.قیامت کے دن کچھ لوگوں کی پہاڑ جیسی نیکیاں گردوغبار کی طرح اڑا کر بے وزن کردی جائیں گی،پوچھا گیا یہ کون لوگ ہوں گے فرمایا،یہ وہ لوگ ہوں گے جو خلوت میں اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود کو پامال کرتے تھے۔(ابن ماجہ)

 

خلوت میں انسان برائی اور اچھائی کے درمیان جمع ہو جاتا ہے، ایک طرف شیاطین زور لگاتے ہیں کہ برائی کرو کوئی نہیں دیکھ رہا تو دوسری طرف اچھائی یاد کرواتی ہے کہ “الله بصیر بالعباد”.اجتماعی زندگی میں ہرکوئی خود کو نیکیوں کا علمبردار باور کرانا چاہتا ہے لیکن وہی افراد تنہائی کے نجس گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں.بڑے بڑے زاہد خلوت کی تباہ کاریوں میں ھلاک ہوگئے.بڑے بڑے ائمہ اور مؤذن خلوت کی تباہ کاریوں سے ذلیل ہوگئے.انسان کا حقیقی تعارف خلوت میں ہی حاصل ہوتا ہے ,خلوت میں انسان کا دل جس طرف مائل ہوجائے وہی اسکی حقیقت اور خصلت ہوتی ہے.دوستو اپنی تنہائیوں کو اللہ سے سرگوشیوں کا عادی بنا لیں یقین جانیں وہ دنیا کے غموں سے دور کر دے گا اور سکون کے ثمرات کی لذت کا مزہ دے گا.نوجوانوں کے ابھرتے ہوئے مسائل میں یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کہ ملت کے نوجوان اپنی خلوت کو کیسے پاک رکھیں جبکہ فحاشی اور عریانی کا دور دورہ ہے.جان لو ! وہ اللہ رب العزت کا خوف ہی ہے جو تمہیں ان لغویات سے بچا سکتا ہے.فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو.” ایک عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ “ہم مٹى سے تو بغير گناہ كے نكلے تھے، ليكن مٹى ميں گناہ لے كر جارہے ہيں”. تنہائی میں اللہ کا خوف(تقوی) آپ کے کردار کو بچا سکتا ہے.سلف صالحین فرمایا کرتے تھے کہ “خلوت کے گناہ انسان کے عزم و ارادے کو متزلزل کر کے رکھ دیتے ھیں یوں ان میں خود اعتمادی اور معاملات میں شفافیت سے بھی ھاتھ دھو بیٹھتا ھے.” خلوت میں انسان کا دل و دماغ اکثر بھٹک جاتا ہے ,خواہشات نفس حملہ آور ہوتے ہیں ,شہوات ابھرتے ہیں ,نفس منکرات کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے ,اسی لئے اپنی تنہائی کو اللہ کی یاد سے ,اللہ کے ذکر سے ,اللہ کی بندگی سے مزین کر.

 

ملت کے والدین بھی خواب خرگوش میں سوئے ہوئے ہیں.شریعت نے تربیت و پرورش کے اصول فراہم کئے تھے ان سے جاہل ہیں.ملت کے والدین بغیر سوچے سمجھے اپنی اولاد کے ہاتھ میں سمارٹ فون (smart phone ) تھما دیتے ہیں جو کہ بچے کے بچپن کے ساتھ علانیہ استحصال ہے.اس سال برصغیر پاک ہ ہند بالخصوص آن لائن تعلیم (online -education) سے متعارف ہوگئی.لاک ڈاؤن کی وجہ سے اساتذہ کرام نے اپنی صلاحیت کی بنیاد پر بچوں کو آن لائن پڑھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی لیکن دیکھا گیا کہ ملت کے طلاب العلم (students) نے اسی بہانے گھر والوں سے فون اور لیپ ٹاپ (laptop) لیا لیکن استعمال دوسرے مقاصد کے لئے کیا گیا.اسکی بنیادی وجہ والدین کی غفلت ہے.جس عمر میں بچوں کے ذہن میں کلام اللہ ہونا چاہئے تھا اب اسی سن میں ہمارے بچے بدفعلی میں مبتلا ہورہے ہیں.اس قوم کے مستقبل کا سرعام قتل ہورہا ہے لیکن پوری قوم ٹس سے مس نہیں ہوتی.بچہ جب بلوغت کی سن کو پہنچ جائے تو خواہشات فطرتاً ابھرتے ہیں ,ان خواہشات کو قابو میں لانا دینی درسگاہوں اور مذہبی دانشگاہوں کا کام تھا لیکن ہمارے مہذب والدین اپنے بچوں کو ان نورانی اداروں میں بیجھنے کے لئے تیار نہیں.اگر کم سنی میں بچہ خلوت کے گناہوں میں مبتلا ہوجائے تو آگے چل کر یہی شرابی,موالی,بدکردار بن کے سامنے آجاتا ہے.لہذا ملت کے والدین محتاط رہیں.

 

عزیز دوستو! اپنے نفس کو ہوس پرستی سے روکنا اہل ایمان پر واجب ہے.اس بات کو ہر لمحہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ رب کائنات ہمارا نگران ہے.ملت کے سرپرستوں کو اپنی اور اپنے اہل خانہ کی تربیت کے لیے ایک عظیم صفت اور جلیل القدر عبادت کی اشد ضرورت ہے جو کہ انتہائی عظیم الشان عبادت اور نیکی ہے، وہ صفت اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں اور گناہوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے، اس کی وجہ سے انسان حرام چیزوں سے بچ کر نیکیوں کی جانب راغب ہو سکتا ہے، بلکہ یہ ہر نیکی اور اچھے کام کی ترغیب دلاتی ہے، نیز اس کی وجہ سے دلوں میں اللہ تعالی کی ہیبت بھی پیدا ہوتی ہے اور وہ ہے خشیئت الہی.

تنہائی میں اللہ تعالی سے ڈرنا صفتِ احسان کا تقاضا ہے، اور احسان کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ تعالی کی بندگی ایسے کرو کہ گویا تم اللہ تعالی کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اللہ تعالی کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے.فرمان ربانی ہے کہ “بےشک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے”.(الملک) دوسری جگہ فرمان باری تعالی ہے کہ “جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتا رہا اور رجوع کرنے والا دل لے کر حاضر ہوا، اس [جنت] میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ دن حیات ابدی کا دن ہے.”.(ق)

 

ملت کے فرزندو! افسوس ہوتا ہے جب ہم امت کے بچوں کو بچپن ہی میں بوڑھا ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں.نوجوان ملت کے چہروں پر بڑھاپے کے اثرات اہل دل و اہل فکر کو تڑپاکے رکھتے ہیں. نہ عزائم میں پختگی اور نہ حوصلوں میں شاہین کی پرواز. ملت کے شاہین صفت نوجوان اپنا بستر چھوڑنے کے لئے تیار نہیں.امت مسلمہ تب بے وزن ہوجائگی جب نوجوان امت اپنی پہچان گنوادیں گے اور ایسا ہورہا ہے.مختلف جسمانی و ذہنی بیماریوں نے ہمارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے.بے روزگاری ایک بہانا ہے ورنہ اس امت کے متبعین کبھی آوارہ گلیوں میں نہیں گھومتے.بدنگاہی ,بدچلن,منشیات کی لت ,آوارہ پن,جسمانی کمزوری,عبادات سے تغافل ,اللہ سے دوری ,گناہوں کی رغبت ,نیکیوں کی نفرت,سیئات سے قربت ,صالحات سے دوری ,سکون سے بیزار ,آرام سے محرومی درحقیقت خلوت کی تباہ کاریاں ہیں.عورتوں کی محفلیں اور برے ہم نشینوں کی صحبت اس مرض میں مزید اضافہ کرتے ہیں.ﻋﻼﻣﮧ ﺷﻨﻘﯿﻄﯽ رحمہ اللہ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ” ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻣﺮﺍﻗﺒﮧ ﯾﻌﻨﯽ ’ ﺍللہ ﮐﮯ ﺩﮬﯿﺎﻥ ‘ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺍﻋﻆ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﮈﺭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﯼ۔ﭘﺲ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﺮﺍﻗﺒﮧ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﻮ ﮈﮬﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﻮ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﺩﮐﮭﻼﻧﺎ ﺑﮍﯼ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ”.

 

ملت کے فرزندو! سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف و صالحین کی راہ کو لازم پکڑو جنہوں نے اللہ کے خوف سے تاریخ رقم کر ڈالی.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ “اے میرے صحابہ ! اگر لوگ وہ جان لیں جو میں جانتا ہوں تو پھر بہت کم ہنسوگے اور کثرت سے روؤگے”.(مرفوعاً) فاروق اعظم رضی اللہ عنہ رو رو کر فرمایا کرتے تھے کہ “کاش میں مینڈھا ہوتا اسے موٹاتازہ کرذبح کرکے کھالیا جاتا مگر انسان نہ ہوتا تاکہ حساب سے بچ جاتا”.وقت کا تقاضہ ہے کہ ملت کے نوجوان اللہ کے نظام کو ,شرعی حدود کو اپنے نفوس پر نافض کریں.یہ امت ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے ,فرقہ واریت اور مسلکی منافرت نے ہمارے قلوب کو پتھر بنا دیا ہے….رجوع الی اللہ کرنا عصر حاضر کے نوجوانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے.باطل نے یہ راہ ہموار ہی اس لئے کی کہ مسلم امت کو نازل کردہ نظام سے محروم کردیں….اب ملت کے گلابوں کو مہکنا ہوگا تاکہ اس ویران گلشن میں بہار آجائے…………ان شاء اللہ.

تیرا پہلو تیرے دِل کی طرح آباد رہے

تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی