جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتتبلیغی جماعت اور سعودی حکومت کاظالمانہ فرمان

تبلیغی جماعت اور سعودی حکومت کاظالمانہ فرمان

تبلیغی جماعت اور سعودی حکومت کا ظالمانہ فرمان

✒️محمد اطہرحبیب

تبلیغ کا لفظی معنی ہے دوسروں کو دین کی دعوت دینا یا تلقین کرنا ہے۔

  تبلیغی جماعت کی ابتدا ہندوستان سے سنہ 1926 میں ہوئی حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس کام کی بنیاد رکھی۔

ابتدا میں حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے دعوت کے کام کی شروعات دہلی کے مضافات میں آباد میواتی باشندے کو دین کی تعلیم دینے سے کی لیکن کچھ عرصے کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ اس طریقہ کار کے تحت ادارے تو وجود میں آ رہے ہیں لیکن اچھے مبلغ پیدا نہیں ہو رہے جو دوسروں کو دین کی تعلیم دے سکے۔ لہذا انھوں نے اپنے طریقۂ کار میں تبدیلی لاتے ہوئے تبلیغ کا کام شروع کر دیا اور اس طرح انھوں نے دہلی کے قریب واقع نظام الدین کے علاقے سے باقاعدہ طورپر بحیثیت تبلیغ کے کام کا آغاز کر دیا۔

تبلیغی جماعت کا پہلا اجتماع سنہ 1941 میں انڈیا میں ہوا جس میں تقریباً 25 ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی۔ 1940 کے عشرے تک یہ جماعت غیر منقسم ہندوستان تک محدود رہی لیکن پاکستان بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اس جماعت نے تیزی سے ترقی کی اور اس طرح یہ تحریک پوری دنیا تک پھیل گئی۔ آج کل اس تحریک کے سب سے زیادہ حامی براعظم ایشیا میں بتائے جاتے ہیں جن میں اکثریت کا تعلق بنگلہ دیش پاکستان اور ہندوستان سے ہے جہاں یہ کام اپنے عروج کو چھو رہا ہے۔

اس تحریک کی بنیاد اسلام کے چھ بنیادی اصولوں پر رکھی گئی ہے جس میں کلمہ، نماز، علم و ذکر، اکرام مسلم (مسلمان کی عزت کرنا)، اخلاص نیت اور دعوت و تبلیغ شامل ہے۔

 اس تحریک کا واحد مقصد یہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان سو فیصد اللہ کے احکامات اور پیغمبر اسلام کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے والے بن جائیں۔

تبلیغی جماعت نے عام لوگوں کو دعوت یا تبلیغ کا کام سمجھانے کے لیے ایک نصاب بھی مقرر کیا ہوا ہے جس کے تحت ابتدائی طورپر اس کام سے روشناس ہونے کے لیے تین دن گھر سے نکل کر جماعت میں لگانے پڑتے ہیں اور پھر اس طرح 40 دن، چار مہینے اور ایک سال کے لیے بھی لوگ ملک سے باہر یا ملک کے اندر تبلیغ کا کام کرنے کے لیے جایا کرتے ہیں۔

تبلیغی جماعت کا بنیادی عقیدہ سنی مسلک کا ہے لیکن ان کے اجتماعات میں دیگر مسالک کے افراد بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔

اس تحریک سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ یہ تحریک سیاست اور فرقہ واریت سے مکمل طورپر پاک ہے اور نہ ہی یہ اختلافی مسلکی مسائل پر یقین کرتی ہے۔ تبلیغی جماعت میں عام طورپر اختلافی مسائل اور ملکی سیاست پر بات کرنے کو برا سمجھا جاتا ہے۔

 تبلیغی جماعت ایک غیر متنازع جماعت ہے ، جس نے اپنے حدود میں رہتے ہوئے اصلاح معاشرہ کے بے شمار نایاب کارنامے انجام دیے ہیں ۔ پوری دنیا میں اس کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ یہ ایسی جماعت ہے جس کے افراد اپنی جان و مال خرچ کر کے اپنے کاندھوں پر اپنا سامان اٹھائے ہوئے بستی بستی گھومتے ہیں ، نہ کسی سرکار سے کوئی فنڈ لیتے نہ کسی ادارہ سے کسی رقم کے خواہاں،اور نہ کسی ستائش کے طلب گار ہوتے ہیں۔ اپنا مال خرچ کرتے ہیں ، اپنا وقت صرف کرتے ہیں اور محض رضائے الٰہی اور اپنی اور لوگوں کی اصلاح کی غرض سے بے لوث پوری دنیا کا سفر کر رہے ہیں ۔ دنیا کی بڑی اصلاحی جماعتوں میں اس کا شمار ہو تا ہے ۔ کروڑوں گمراہ انسانوں کی زندگیاں اس جماعت کی محنت سے راہ راست پر آئی ہیں ۔ یہ کلی طور پر ایک غیر سیاسی اصلاحی جماعت ہے ۔اس جماعت کی بنیاد ایسے وقت میں ڈالی گئی جب کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت میں شرک و بدعات اور خلاف شرع امور رائج تھے ، جن کی اصلاح کی جانب کسی جماعت کی کوئی خاص توجہ نہیں تھی فقط چند مدارس تھے، جن سے ایک مخصوص طبقہ تعلیم حاصل کر کے مسجد کی امامت و خطابت کا فریضہ انجام دے رہا تھا۔ شرک اور بدعات بڑی تیزی سے مسلمانوں میں پھیل رہی تھی ۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ عام مسلمانوں تک پہونچ کر توحید و رسالت کا پیغام اور اسلامی احکام پہونچائے جائیں اور ان کی اصلاح کی جائے ۔الحمد للہ بانی کے اخلاص اور علمائے ہند کی خصوصی توجہ سے اللہ نے اس جماعت سے بڑا کام لیا۔ اس جماعت نے شروع سے ہی اپنی محنت ایک محدود دائرہ میں رہتے ہوئے کی جو اس کے بانیوں نے طے کر دیا تھا ، جس کی بنا پر اس جماعت کا ٹکراؤ کسی مسلک اور کسی دوسری دینی جماعت سے کبھی نہیں رہا ۔ اس کے کاموں کا دائرہ کلمہ، نماز ، علم و ذکر ، اخلاص نیت ،اکرام مسلم اوراپنی اور اللہ کے بندوں کی اصلاح کے لیے اپنا وقت فارغ کرنے تک ہی محدود ہے ۔ کسی بھی نزاع یا اختلافی معاملات سے یہ جماعت ہمیشہ دور رہتی ہے۔

  افسوس کی بات ہے کہ حال ہی میں سعودی حکومت کی وزارت برائے اسلامی امور ودعوت و ارشاد کی جانب سے سعودی عرب کی مساجد کے ائمہ کے نام جاری ایک اعلان میں تبلیغی جماعت کے خلاف جمعہ کے خطبہ میں لوگوں کو خبردار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ وزارت سے جاری اعلان اور وزیر برائے اسلامی امور کے ٹوئیٹ میں تبلیغی جماعت پربدعات و خرافات اور دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔اور ائمہ کرام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو ان سے دور رہنے کی تاکید کریں ۔

 حالانکہ تبلیغی جماعت نہایت سادگی کے ساتھ دین کے کاموں کی طرف بلانے والی جماعت ہے، جسکی تاریخ بڑی تابناک ہے، ساری دنیا اسکی بے لوثی خدمات سے واقف ہے، افسوس ہے کہ سعودی عرب کا یہ فرمان نہایت ہی افسوناک ہے ۔ اس سے صاف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سعودی عرب مغربی تہذیب سے لبریز ہی نہیں بلکہ اسلام سے بیزاری کا اعلان کر رہی ہے ، رقص و سرور کی محفلیں منعقد کر رہی ہیں، حسن کی نمائش ہو رہی ہے، شراب و شباب کے کلب کھولے جا رہے ہیں، عریانیت کو فروغ دیا جا رہا ہے، زنا کا جواز فراہم کیا جا رہا ہے، سعودی عرب کا یہ تازہ فرمان اسی دین کی بیزاری کی مہم کا حصہ ہے، عرصہ سے وہ دینی تنظیموں اور شخصیات پر ظلم و زیادتی کر رہی ہے، خالص دینی جماعت یعنی جماعت تبلیغ جو صرف بے نمازیوں کو نمازی بنانے پر محنت کرتی ہے اور مسجدوں کو آباد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

تبلیغی جماعت کے خلاف اس طرح کا فرمان جاری کرنا افسوسناک نہیں بلکہ عالم انسانیت کو شرمسار کرنے والی ہے۔ عرب کی وہ سرزمین جہاں سے دین کا ڈنکا بجا۔ جہاں سے اس دین نے عروج پایا وہیں پر اس دین کو مٹانے کی سازش کی جارہی ہے۔ اس لیے ہم تمام حضرات کو چاہئے کہ کھل کر سعودی حکومت کے خلاف سامنے آئیں اور ان کے اس فرمان کا سدباب کریں تاکہ وہ اس فرمان کو واپس لے اور اور ہم سعودی عرب کو بتا دیں کہ جس تبلیغی جماعت پر آپ نے جو الزامات لگائے ہیں وہ بالکل غلط ہے بے بنیاد ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔اللہ دین کی سمجھ دے۔

🖊️ازقلم :

           محمد اطہرحبیب

                                   ارریاوی

متعلم :

            الجامعہ الاسلامیہ دارالعلوم وقف دیوبند

Darul Uloom Waqf Deoband

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے