تباہی کا رخ کررہی ہے زمین

30

تباہی کا رخ کررہی ہے زمین

اقوام متحدہ کا انتباہ: آئیندہ بیس سالوں میں عالمی درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ کا اضافہ ہوگا، ہندوستان کے لئے بھی بری خبر

رپورٹ: ڈاکٹر سیما جاوید
ترجمہ: محمد علی نعیم

سائینسداں زمین پر موسمیاتی نظام کے ہر شعبے میں ہورہی تبدیلیوں کا معائنہ کررہے ہیں ، کلائمیٹ میں ہورہی متعدد تبدیلی تو غیر متوقع ہیں جو سینکڑوں یا ہزاروں سال میں بھی نہیں دیکھی گئی ہیں، کچھ تبدیلیاں تو پہلے ہی اپنا اثر دکھانا شروع کرچکی ہیں جیسے سمندر کی آبی سطح میں مسلسل ہورہا اضافہ، ان تبدیلیوں کے اثرات ہزاروں سال تک ختم نہیں کئے جاسکتے ہیں، انٹرگورمینٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) کی حالیہ دنوں جاری ہوئی رپورٹ میں ان باتوں کے لئے آگاہ کیا گیا ہے
آئی پی سی سی ورکنگ گروپ ون کی رپورٹ ’کلائمیٹ چینج 2021: دی فزیکل سائینس بیسز‘ کے مطابق حالانکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ یا دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مضبوط اور مستحکم تخفیف کئے جانے سے موسمیاتی تبدیلی محدود ہوجائے گی، جہاں ہوا کے معیار کے فوائد تیزی سے سامنے آئینگے وہیں عالمی درجہ حرارت کو مستحکم ہونے میں 20 سے 30 سال لگ سکتے ہیں، اس رپورٹ کو آئی پی سی سی میں شامل 195 ممبر ملکوں نے گزشتہ 26 جولائی کو شروع ہوئے دو ہفتے کے آن لائن سیشن کے بعد جمعہ کو منظوری دی ہے

ورکنگ گروپ ون کی رپورٹ آئی پی سی سی کی چھٹی اسیسمینٹ رپورٹ (AR6) کی پہلی قسط ہے ، اے آر 6 سال 2022 میں مکمل ہوگی، یوروپین کلائمیٹ فاؤنڈیشن کے سی ای او لارینس ٹوبیانہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی لیڈران کو موسمیاتی تبدیلی کے تئیں سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے، پیرس معاہدہ نے حکومتوں کے ذریعے کاروائی میں تیزی لانے کے لئے ایک واضح خاکہ تیار کیا مگر افسوس کی بات ہے کہ کئی بڑے آلودگی والے ممالک اس معاہدے کو نظر انداز کررہے ہیں جسکو انہوں نے تیار کرنے میں مدد کی اور 2015 میں کئے گئے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کررہے ہیں، ہم ابھی بھی 1.5 ڈگری سیلسیس سے نیچے رہ سکتے ہیں مگر اسکو مؤخر اور انکریمنٹل اقدامات کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے

رپورٹ میں ہندوستان سے متعلق کچھ اہم نتائج

آئی پی سی سی کی اس رپورٹ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کا وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے اور ایسے میں ہندوستان موسمیات سے متعلق مسائل کا سامنا کررہا ہے خواہ وہ چمولی میں آئی آفت کی شکل میں ہو یا سپر سائیکلون تاؤتے اور یاس کی شکل میں ہو یا ملک کے مختلف حصوں میں ہورہی زبردست بارش کی شکل میں ہو
آلوک شرما COP26 کے صدر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سائینس واضح ہے، موسمیاتی بحران کے اثرات کو دنیا بھر میں دیکھا جاسکتا ہے اور اگر ہم ابھی کاروائی نہیں کرتے ہیں تو ہم زندگی،معیشت اور قدرتی مسکن پر اس کے خراب اثرات دیکھنا جاری رکھیں گے ، ہر ملک،معیشت اور سماج‌ کے حصے کے لئے ہمارا پیغام واضح ہے ، اگلی دہائی فیصلہ کن ہے ،سائنس کی بات مانیں اور ڈیڑھ ڈگری سیلسیس کے ہدف کو حاصل کرنے کی اپنی ذمہ داری قبول کریں
وہ آگے کہتے ہیں کہ 2030 ایمیشن ریڈکشن ٹارگٹ اور صدی کے وسط تک نیٹ زیرو کے راستے کے ساتھ طویل مدتی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ کر، اور کوئلہ بجلی کو ختم کرنے کے لئے ابھی کاروائی کرکے، الیکٹرک گاڑیوں کے رول آؤٹ میں تیزی لاکرکے ،درختوں کی کٹائی سے نپٹنے اور میتھین گیس کے اخراج میں کمی کرتے ہوئے ہم یہ ایک ساتھ کرسکتے ہیں، آئی پی سی سی کے چیئرمین ہولنگس لی نے کہا کہ یہ رپورٹ عجیب حالات میں کی گئی غیر معمولی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے، اس رپورٹ میں ذکر نئی چیزیں اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سائینس میں ہوئے اپگریڈیشن سے ہمیں کلائمیٹ چینج سے متعلق گفتگو کرنے اور فیصلہ سازی میں بکثرت خبریں موصول ہوتی ہیں،

اس رپورٹ پر برطانوی وزیر اعظم بیرس جانسن نے بھی عالمی اخراج میں تخفیف کے لئے فوری کارروائی کا عہد کیا ہے
وزیر اعظم بیرس جانسن کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ اگلی دہائی ہمارے سیارے کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے تئیں نہایت اہم ہونے جارہی ہے ، ہم جانتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کو محدود کرنے کے لئے کیا کیا جانا چاہیے، مجھے امید ہے کہ COP26 سمٹ کے لئے گلاسگو میں نومبر میں ملنے سے آئی پی سی سی کی حالیہ رپورٹ دنیا بھر کے لئے کاروائی کرنے کے لئے ایک ایمرجنسی کال ہوگی
آگے آلوک شرما COP26 کے صدر نے کہا کہ سائینس واضح ہے، موسمیاتی بحران کے اثرات کو دنیا بھر میں دیکھا جاسکتا ہے اور اگر ہم ابھی کاروائی نہیں کرتے ہیں تو ہم زندگی،معیشت اور قدرتی مسکن پر اس کے خراب اثرات دیکھنا جاری رکھیں گے ، اگلی دہائی فیصلہ کن ہے ،سائنس کی بات مانیں اور ڈیڑھ ڈگری سیلسیس کے ہدف کو حاصل کرنے کی اپنی ذمہ داری قبول کریں، ہم یہ ایک ساتھ کرسکتے ہیں

تیزی سے بڑھتی گرمی

یہ رپورٹ آنے والی دہائیوں میں عالمی درجہ حرارت کے ڈیڑھ ڈگری سیلسیس کو پار کرنے کی امیدوں کو لیکر نئے اندازے فراہم کرتی ہے ، ساتھ ہی ساتھ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری طور پر مضبوط اور بڑے پیمانے پر کٹوتی نہ کی گئی تو حرارت میں اضافہ کو ڈیڑھ ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنا تو دور ،دو ڈگری سیلسیس تک محدود کرنا بھی دنیا کی پہنچ سے باہر ہوجائے گا
رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال 1850 سے 1900 کے دوران حرارت میں ہوئے 1.1 ڈگری سیلسیس کے اضافے کے لئے انسانی سرگرمیوں کی بنیاد پر پیدا گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ذمہ دار ہے
رپورٹ میں پایا گیا کہ اوسطاً اگلے بیس سالوں کے دوران عالمی درجہ حرارت میں ڈیڑھ ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ کا اضافہ ہوجائے گا ، یہ اندازہ تاریخی درجہ حرارت کو ناپنے کے لئے بنائے گئے نسبتاً بہتر مشاہداتی ڈاٹا سیٹ کے ساتھ ساتھ انسانی سرگرمیوں کی بنیاد پر پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے تئیں موسمیاتی نظام کے ردعمل کی سائینسی تفہیم کی پیش رفت پر بھی مبنی ہے
آئی پی سی سی گروپ ون کی معاون صدر ویلری میسن ڈیلمارٹ نے کہا کہ یہ رپورٹ ریلیٹی چیک ہے، اب ہمارے پاس ماضی، حال اور‌ مستقبل کی زیادہ واضح تصویر ہے جو یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ ہم کس رخ میں آگے بڑھ رہے ہیں ، ہم کیا کرسکتے ہیں اور کیسے اسکی تیاری کرسکتے ہیں

بڑھتی تبدیلیوں کا سامنا کررہا ہے دنیا کا ہر شعبہ
موسمیاتی تبدیلی کی متعدد خصوصیات سیدھے طور پر گلوبل وارمنگ کی سطح پر انحصار کرتی ہے لیکن لوگ جو محسوس کرتے ہیں وہ اکثر عالمی اوسط سے الگ ہوتا ہے مثال کے طور پر زمین پر وارمنگ کی سطح عالمی اوسط سے زیادہ ہے اور یہ آرکٹک کے مقابلے دوگنا سے بھی زیادہ ہے
آئی پی سی سی گروپ ون کے معاون صدر پنماؤ زئی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی سے دنیا کے ہر علاقوں کو کئی طرح سے متاثر کررہی ہے، ہم جن تبدیلیوں کو محسوس کررہے ہیں وہ تپش میں اضافہ کے ساتھ اور بھی بڑھیں گے
رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ آنیوالی دہائی میں موسمیاتی تبدیلی دنیا کے ہر شعبے میں اور زیادہ ہوگی ، عالمی درجہ حرارت میں دو ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہونے پر تپش بڑھیگی اور گرمی کے موسم لمبے ہوں گے اور سردی کی مدت کم ہوجائے گی ، گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہونے پر گرمی کھیتی اور صحت کے لحاظ سے ناقابل برداشت سطح تک بڑھ جائے گی

لیکن یہ صرف درجہ حرارت سے جڑا معاملہ نہیں ہے

موسمیاتی تبدیلی دنیا کے ہر شعبے میں مختلف طرح کے بدلاؤ سامنے لارہا ہے ‌اور تپش میں اضافہ کے ساتھ ان سبھی میں اور زیادتی ہوگی ، ان بدلاؤ میں نمی سے لیکر خشکی تک برف اور پہاڑی علاقے اور مہاساگر شامل ہیں
مثال کے طور پر
٭ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پانی کا چکر کثیف ہورہا ہے جسکی وجہ سے بے تحاشا بارش اور اسکی بناء پر آنیوالے سیلاب اور متعدد علاقوں میں خشک سالی پڑرہی ہے
٭موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بارش کے طرز پر بھی اثر پڑرہا ہے، اونچائی والے علاقوں میں بارش کی کثرت کی امیدیں ہیں وہیں ساحلی علاقے کے بڑے حصوں میں بارش میں گراوٹ کا اندازہ ہے ، اسکے علاوہ مانسونی بارش میں بھی بدلاؤ آنے کا امکان ہے ، اسمیں علاقے کے حساب سے تبدیلی ہوگی
٭اکیسویں صدی کی مکمل مدت کے دوران ساحلی علاقوں میں سمندر کی آبی سطح لگاتار بڑھیگی جسکی وجہ سے نیچلے علاقے میں شدید ساحلی سیلاب نسبتاً جلدی جلدی آئیگا اور ساحلی کٹاؤ بھی بار بار ہوگا ، سمندر کے آبی سطح سے جڑے سخت واقعات جو پہلے سو سال میں کہیں ایک بار ہواکرتے تھے وہ اس صدی کے آخر تک ہر سال ہوسکتے ہیں
٭مستقبل میں درجہ حرارت کے بڑھنے سے پرمافریسٹ کے پگھلنے،موسمی برف کے ڈھانپنے کے ہونے والے نقصان، گلیشیر اور برفیلی چادروں کے پگھلنے اور گرمی میں آرکٹک سمندری برف کو ہونے والے نقصان میں اور شدت آجائیگی
٭وارمنگ ، جلدی جلدی ہونے والی سمندری گرم لہر، مہاساگرون کی تیزابیت اور آکسیجن کی سطح میں کمی کی شکل میں مہاساگر میں ہونے والے بدلاؤ کا سیدھا تعلق انسانی اثرات سے جڑا ہے ، ان بدلاؤ سے مہاساگر کی صورتحال اور ان پر منحصر لوگوں پر اثر پڑتا ہے اور بدلاؤ کم از کم اس صدی کے بقیہ حصے تک جاری رہیگا
٭شہروں کے لحاظ سے دیکھیں تو موسمیاتی تبدیلی کے کچھ پہلو اور بھی سخت ہوسکتے ہیں انمیں تپش (کیونکہ شہری علاقے اس پاس کے بالمقابل زیادہ گرم ہوتے ہیں) سخت بارش کے سبب سیلاب اور ساحلی شہروں میں سمندری آبی سطح میں اضافہ شامل ہے

ماضی اور مستقبل کے موسم پر انسانی اثرات

میسن ڈیلمارٹ نے کہا کہ گزشتہ کچھ دہائیوں سے یہ بلکل واضح ہوگیا کہ زمین کا ماحول تبدیل ہورہا ہے اور موسمیاتی نظام پر انسانی اثرات کا کردار بلاشبہ ظاہر ہوچکا ہے، پھر بھی آئی پی سی سی کی یہ نئی رپورٹ سخت تپش اور بھاری بارش جیسے خاص موسمی واقعات کو اور شدید بنانے میں کلائمٹ چینج کے کردار کو سمجھنے اور اس سے متعلق سائینس میں ہونے والی بڑی پیش رفت کی بھی عکاسی کرتی ہے.
رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ انسان کے پاس موسم کو ٹھیک کرنے کے لئے مستقبل کی پالیسی سازی کی صلاحیت اب بھی باقی ہے، اس بات کے واضح ثبوت ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ موسمیاتی تبدیلی کا اہم سبب ہے وہیں دیگر گرین ہاؤس گیس اور فضائی آلودگی بھی موسمیات کو متاثر کررہی ہے