بے روزگار صحافیوں کی اگر مدد نہیں کی گئی تو سینکڑوں صحافی خودکشی پر مجبور ہوں گے

62

لوک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں ایک طرف بڑی تعداد میں یومیہ مزدور،پرائیوٹ کمپنیوں اور تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین بے روزگار ہوگئے ہیں وہیں دوسری طرف ملک میں میڈیاسے تعلق رکھنے والے ہزاروں صحافی اورکارکنان بھی اس کوروناکے قہر میں بہت مایوسی کی زندگی جینے پر مجبورہیں.

حالیہ دنوں میں کئی اخبارات اور نیوز چینل بند ہوگئے یاپھر ان کمپنیوں نے بڑی تعداد میں اپنے ملازمین کو ملازمت سے نکال دیا،بڑے صحافیوں کے ساتھ قصباتی سطح کے رپورٹر اور میڈیاسے تعلق رکھنے والے ملازمین ان دنوں بہت پریشانی میں ہیں.

مصیبت کی اس گھڑی میں مرکزی وریاستی حکومت سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کے تمام صحافیوں کیلئے خصوصی راحت پیکج کااعلان کریں اگر بروقت ان کی مدد نہیں کی گئی توذہنی تناؤ اور معاشی فکرمندی کی وجہ سے سینکڑوں صحافی خود کشی تک کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ان خیالات کااظہار سماجی کارکن و یوپی پریس کلب کے رکن شاہنواز بدر قاسمی نے کیا۔