بےنظیر شاعراور زبردست تنقید نگار حنیف ترین کےانتقال سے اردو صحافت کابڑانقصان ہواہے!

55

تحریر :انوار الحق قاسمی نیپالی

کل بتاریخ 3/دسمبر 2020ء مطابق 17/ربیع الثانی 1442ھ بروز جمعرات صبح دارالبنات “معہد ام حبیبہ رضی اللہ عنہا للبنات جینگڑیا روتہٹ نیپال”کےحوالےسےناچیزکا فصلی چندہ کےلیےاسلام پور اور لچھمی پور جانا ہوا،جس کی بنامجھےاتنی بھی فرصت نہیں ملی کہ فیس بک آن کرسکوں اور جب وہاں سے گھر واپس ہوا ،تودفعتاماموں کےیہاں”فتحپور” جاناہوا،اور تقریبا شام 4/بجے فیس بک آن کرنے کاموقع ملا، تویکایک میری پہلی نظر حضرت مولانا محمد شمس تبریز صاحب قاسمی حفظہ اللہ (مشہور ومقبول اردو نیوز “ملت ٹائمز “والے) کی ایک پرملال تحریر پر پڑی ،جس نے دل کو یہ کہہ کر سخت صدمہ پہنچایاکہ اب معروف شاعر، سینئر تجزیہ نگار محترم جناب حنیف ترین صاحب اب ہمیں داغ مفارقت دےگئے:إنا لله وإنا اليه راجعون.

مرحوم ایک بڑے شاعر تھے اور شعر و شاعری سے انہیں کافی دلچسپی تھی، یہ ہروقت اردو کے فروغ کے لیے کوشاں رہتے تھے، ان کی دلی چاہت تھی کہ اردو زبان سے ہرخاص وعام انسان اچھی طرح واقف ہوجائے اور ہرایک اردو زبان میں مافی الضمیر ادااکرنےپرقادر ہوجائے ۔

یہی وجہ تھی کہ مرحوم اکثر موقع ملتے ہی مشاعرہ کااعلان کردیا کرتے تھے ،جس میں بڑے بڑے شعراء عظام کو مدعو کیاکرتے تھے اور ہرایک شاعر بطیب خاطر مشاعرہ میں حاضرہواکرتےتھے اور اس حاضری کو اپنے سعادت اور نیک بختی خیال کرتے تھے ؛بل کہ اکثر شعراء حضرات اس انتظار میں رہاکرتے تھے کہ کب وقت کے بڑے شاعر محترم جناب حنیف ترین صاحب مشاعرہ منعقد کریں گے، کہ ان سے پھر دوبارہ میری ملاقات ہو ۔

اور وقت مجوزہ پرمشاعرہ بڑے ہی شان وشوکت کے ساتھ منعقد ہوتاتھا،اور بحمدہ تعالی بحسن خوبی مشاعرہ پایہ تکمیل کو پہنچتاتھا۔

ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ مرحوم ایک بڑے تنقید نگار بھی تھے۔

یہ عجیب اتفاق ہے کہ جتنے بھی اہل قلم ہیں، جن کےمضامین اردو اخبارات یااردوآن لائن نیوز میں شائع ہوتے ہیں،ان میں سے اکثر کاتعلق پڑوسی ملک ہندوستان سےہےاورناچیزکاتعلق ایک غریب ملک نیپال سے ہے، جن کی بنا نہ ہی ہندوستان جاناہوتاہےکہ ان اہل قلم سے ملاقات ہوسکےاور نہ ہی ملاقات کی کوئی دوسری شکل موجود ہے ،بس ان سےملاقات کا ایک ہی ذریعہ رہ گیااور وہ “تحریر” ہے، جس کے ذریعہ بار بار اچھی اور کامیاب ملاقات حاصل ہوتی رہتی ہے ۔

کچھ ایسا ہی معاملہ بےمثال تنقیدنگار محترم جناب حنیف ترین کے ساتھ بھی پیش آیا؛کہ ان سے کبھی حقیقی ملاقات کاموقع نہیں مل سکا؛ البتہ تقریبا ہرہفتہ اردو اخبارات میں ان کےشائع شدہ مضامین کےواسطے ان سے حقیقی نہیں، تومجازی ملاقات ضرور حاصل ہوتی تھی،اب ان کے داغ مفارقت دینےسےناچیز اب مجازی ملاقات سے بھی محروم ہوگیا،جس کاقلق اور صدمہ ایک زمانہ تک رہے گا۔

مرحوم شاعر و تنقید نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین معالج بھی تھی ،وہ بٹلہ ہاؤس میں رہاکرتے تھے اور وہیں ان کی کلنک بھی تھی ،جہاں وہ علاج ومعالجہ کرتے تھے،مرحوم کی کلنک میں کثرت سے مریض آتے تھےاور- بفضلہ تعالی- اکثر مریض شفایاب ہو کر اپنے گھروں کی طرف لوٹتے تھے ۔

مرحوم ایک اخلاق مند انسان تھے،کم گو تھے ؛مگر ان کاقلم خوب بولتاتھا،ان کی ہرتحریر انقلابی ہوتی تھی،بڑے ملنساراور متواضع تھے؛الغرض آپ میں بیک وقت بہت سی خوبیاں پائی جاتی تھیں۔

 

واضح رہے کہ مرحوم کئی مہینوں سےاپنے آبائی وطن “سری نگر” میں مقیم تھے،طبیعت خراب ہوکر، پھر سنبھل گئی تھی؛مگر وقت مقررہ کوکون ٹال سکتاہے؟بالآخر وہی ہوا،جوہرایک کےساتھ ہوناطےاور یقینی ہے،یعنی محترم جناب حنیف ترین صاحب کل صبح داعی اجل کولبیک کہہ گئے،إنا لله وإنا اليه راجعون۔

آہ !!آج ان کی جدائی سے علمی ادبی حلقوں میں ماتم کاماحول بناہواہے،ان کے مضامین کے قارئین کرام بےحد رنجیدہ اور افسردہ ہیں، واقعی ان کے انتقال سے اردو صحافت کابڑانقصان ہواہے،جس کی تلافی ناممکن نہیں، تومشکل ضرور ہے ۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے*

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

اللہ مرحوم کی مغفرت کاملہ فرمائے، درجات بلند فرمائے، پس ماندہ گان کوصبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔