بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ یا بیٹی سجاؤ بیٹی لٹاؤ

64

(حقائق کے آئنے میں)

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفیطالب علم بارہمولہ کشمیر

حد سے مہرباں، بیان سے اچھی

بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں

 

ملک ہندوستاں میں حکومت ہند کی طرف ملت کی بیٹیوں کی تعلیم و حفاظت کی خاطر مختلف اوقات میں مختلف قانون بنائے گئے…انفرادی سطح سے لیکر اجتماعی سطح تک بھارت کی بیٹیوں کو اعلی تعلیم حفاظت کا یقین دلایا گیا مثلاً 1961 میں جہیز کے خلاف ملکی سطح پر قانون بنایا گیا جس کا مقصد بیٹیوں کے نکاح کو آسان بنانا تھا ,پھر 1986 میں اس قانون کی ترمیم کی گئی.لیکن صورتحال ویسی کی ویسی ہی رہی ,اسکی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ قانون بنانے والے ہی اس جرم میں مبتلا تھے.الحمد للہ ہمارے دین مبین دین رحمت نے اس خباثت کو پہلے ہی ممنوع ٹھہرایا تھا.اسی طرح 1987 میں The Commission of Sati (Prevention) Act عمل میں لایا گیا جس کا مقصد بیوا عورتوں پر ہورہے ظلم و جبر پر روک تھام لگانا تھی.لیکن مذہب کی آڑ میں بعض اند بھکت اور تعصب پرست اپنی حرکات سے باز نہ آئے.لیکن قربان جاؤں اسلام کی مبارک تعلیمات پر کہ جس نے عورتوں کو ملکہ ( princess) کا عہدہ و منصب عطا کیا.پھر 2013 میں The Sexual Harassment of Women at Workplace (PREVENTION, PROHIBITION and REDRESSAL) Act بنایا گیا جس کا مقصد جنسی جرائم کی روک تھام تھی.لیکن ہوس پرست,شہوت پرست درندے اپنی گندی حرکتوں سے باز نہ آئے ,ہوتے بھی کہاں ارباب اقتدار کے علمبردار ہی اس گنھاؤنے فعل قبیح میں مبتلا تھے.الحمد للہ دین الہی نے جنسی درندوں کو پہلے ہی قابو میں لایا تھا جب کوڑے اور سنگسار کی سزا نازل کی گئی.

 

میرے دوستو! اس سے قبل 2005 میں حکومت ہند کی طرف سے Protection of Women from Domestic Violence Act عمل میں لایا گیا جس کے نافض کرتے ہی خواتین ملت کو گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنا تھا.لیکن ملک کے علمی جاہل اپنی ہٹ دھرمی سے رجوع نہ کر پائے ,وجہ یہی ہے کہ جن افراد کی رگوں میں جہالت بستی ہو وہ قوم علم کی جانب مائل کرنا کار درد والا معاملہ ہے.میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا کہنا ….کہ جنہوں نے اپنی مبارک تعلیمات میں قوم کے اندھیروں کو نور میں منتقل کردیا.قرآنی آیات,احادیث صحیحہ اور اقوال سلف کا مطالعہ کرکے دیکھئے…شاید کی بصارت اور بصیرت کی نعمت حاصل ہوجائے.اسکے بعد جب مرکز ہند یعنی دہلی میں نربھیا جو کہ ملت کی بہن تھی ,اسکی عفت کو لوٹا گیا ,تب جاکے 2013 میں The Criminal Law(Amendment) Act بنایا گیا جسے دوسرے الفاظ میں (Nirbhaya Act) کے نام سے موسوم کیا گیا.لیکن جرائم کی سطح دن بہ دن بڑھتی چلی گئی.جب کہ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی طرح عملاً یہ قوانین نافض نہ کئے جائیں تب تک جرائم پر قابو پانا ناممکن ہے.

 

مودی جی نے اپنے دور اقتدار میں مختلف عناوین و موضوعات کے تحط ملت کی بچیوں کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے قوانین و پروگرامز میدان عمل میں لائے.مودی جی کے دور اقتدار میں Muslim Women (Protection of Rights on Marriage) Bill پاس کی جو دراصل حقوق کے نام پر شرعی تعلیمات کی خلاف ورزی تھی.اہل اسلام و اہل ایمان کے پاس شریعت کا ایک ایسا طرز زندگی ہے کہ ہمیں کسی اور نظام کی طرف رجوع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں.دراصل یہ مذہبی منافرت کی آگ کو ہوا دینی تھی جس مقصد میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوگئے.مودی جی نے ایک اور تحریک بھی چلائی جسے Surakshit Bharat کے نام سے چلایا گیا لیکن صد افسوس کہ یہ تحریک بھی زبان کے بے اثر الفاظ تک محدود رہ گئی.اسکے برعکس آپ دیکھئے کہ شراب کے بازار جگہ جگہ سجائے گئے,عفت و عصمت فروشی کو اعلی معیار پر فروغ دیا گیا,مسلم بہنوں کو جگہ جگہ نشانہ بنایا گیا جس کی زندہ مثال اتر پردیش کی YOGI حکومت ہے.اترپردیش اب جنسی جرائم کا مرکز بنتا ہوا نظر آرہا ہے جس کی طرف opposition بے بھی اشارہ کیا ہے.بلا لحاظ مسلک و مذہب,کیا ہندو کیا مسلمان,کیا سکھ کیا عیسائی ….اہل دانش حیران ہیں کہ مرکزی حکومت کیوں خواب خرگوش میں سوئی ہوئی ہے.گھریلو تشدد سے لیکر جنسی استحصال تک ملک بھارت صف اول میں کھڑا دکھائی دے رہا ہے.

 

کائنات کا ایک متفق علیہ اصول ہے کہ history repeats itself .ہم اہل وطن کو دعوت فکر و دعوت اصلاح دیتے ہیں کہ ایک بار خلوص دل سے تعصب کی عینک اتار کر شرعی تعلیمات کامطالعہ کیا جائے اور دوسری طرف ملک کی بڑھتی جرائم کی تعداد پر نظر ڈالی جائے.فرمان ربانی ہے کہ “آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا ہے اور تم پراپنی نعمت کو مکمل کردیا ہے اور تمہارے لیے اسلام کودین کے طورپر پسند کیا ہے”.(القرآن) فرمان نبوی صلی اللہ ہے کہ “یقینا میں نے تم کو ایک واضح راستے پر چھوڑا ہے ، جس کی رات اس کے دن ہی کی طرح (واضح) ہے ۔ میرے بعد اس سے صرف ہلاک ہونے والا شخص ہی ہٹے گا”.(مسند الامام احمد) حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ ”یہ اس امت پراللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے کہ اس نے ان کے لیے ان کا دین مکمل کردیا ہے ، وہ کسی اور دین کی طرف محتاج نہیں ، نہ اپنے نبی کے علاوہ کسی نبی کی طرف محتاج ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر جن وانس دونوں کی طرف بھیجا ہے ۔ حلال وہی ہے ، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال کیا ہے اورحرام وہی ہے ، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے اوردین صرف وہی ہے ، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کردیا ہے”.(تفسیر ابن کثیر) اللہ عقل و فہم عطا کرے….آمین یا رب العالمین