ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتبیٹیوں کی حفاظت کیجئے!

بیٹیوں کی حفاظت کیجئے!

حضرت مولانامحمدشمشادصاحب رحمانی،قاسمی
نائب امیرشریعت امارت شرعیہ،بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ
بھارت میں ایک بارپھر شدھی تحریک نے اپنے قدم جمانے شروع کردئیے ہیں،مسلم لڑکیوں کا ہندولڑکوں کے دامِ محبت میں گرفتارہوکرمذہب تبدیل کرنے اور ایک ساتھ زندگی گذارنے کے واقعات میں،تیزی سے اضافہ ہونے لگاہے،حالانکہ ایمان جیسی عظیم نعمت و دولت کے مقابلہ میں عشق ومحبت،اور ہوس پرستی کی کوئی حیثیت نہیں ہے؛لیکن جس انداز سے ارتداد کی لہر چل رہی ہے وہ آندھی بن کر ہمارے گھروں کو تباہ وبربادکررہی ہے،یقیناًیہ افسوس کامقام ہے،اگربر وقت اس پر روک،تھام کی کوششیں نہیں کی گئیں،تو مستقبل میں اس کا انجام بھیانک اور خطرناک ہوسکتاہے۔

شدھی تحریک کیاہے؟ بات 1923کی ہے،ایک ہندومذہبی رہنما سوامی شردھانندنے مسلمانوں کو اسلام مذہب چھوڑکرہندومذہب میں داخل کرنے کی غرض سے بھارتیہ ہندوشدھی مہاسبھا نام کی ایک تنظیم کی بنیادڈالی،شدھی کے معنی پاک کرنے کے ہیں،اس کے بینرتلے مسلمانوں کو ہندومذہب میں تبدیل کرنے کی مہم چھیڑ دی گئی،اس گھناؤنے کھیل میںغریب،بے بس،لاچار،اوردینی تعلیم سے دورمسلمانوں سے ہمدردیوں کو خاص طورپر نشانہ بنایاگیا،کہیں پیسے کے لالچ دئیے گئے،کہیں مجبورکیاگیا،محض تین سال کی مدت میں ہزاروں کی تعدادمیں مسلمانوں کامذہب تبدیل کردیاگیا۔

23دسمبر1926ء کو دہلی کے نیابازارمیں اس تنظیم کابانی سوامی شردھانندقتل کردیاگیا،جس کی وجہ سے یہ فتنہ دب گیاتھا،اور اس تحریک کابھی خاتمہ ہوگیا، بہار کے ضلع چمپارن ، چھپرہ اور اتر پردیش کے گورکھپور میں اس تحریک سے ہزاروں مسلمان مرتد ہو گیے تھے، بانی امارت شرعیہ مولانا ابو المحاسن محمد سجاد اور اس وقت کے مبلغین کی جد وجہد سے اس پر قابو پایا گیا تھا اور ہزاروں مسلمان تائب ہو کر دوبارہ حلقہ بگوش ہوئے تھے،ہندو مہاسبھا تحریک نے ایک بار پھر اس کو منظم کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے اور مضبوط پلان کے ساتھ اس کام کو انجام دیا جارہا ہے،آج کی صورت ِ حال اس سے مختلف نہیں ہے،سب کچھ وہی ہے،بس نام بدل دیاگیا،پہلے شدھی نام رکھاگیا،اور اب گھرواپسی جیسے ناموں سے بھولے،بھالے مسلمانوں کودامِ فریب میں پھنسانے کی کوششیں کی جارہی ہیں،پونم پانڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق گھر واپسی کے نام پر مسلم لڑکیوں کو ہندو بنانے کی مکمل تیاری ہوچکی ہے۔آرایس ایس سے وابستہ تنظیم ہندو جاگرن منچ نے یوپی سے اس کا آغاز کردیا ہے اور ان کا ٹارگیٹ ہے کہ 6 /مہینے کے اندر صرف یوپی میں 2100/ مسلم لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروانا ہے،جس کے لئے ہندو جاگرن منچ کی طرف سے آگرہ میں پریس کانفرنس کرکے باضابطہ اس بات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔اسی طرح ہندو جاگرن منچ کے ریاستی صدراجو چوہان نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بھی اس کااقرارکیاہے کہ یوپی کی ہندو سنگھٹن کی سبھی تنظیموں کو 6 مہینے کے اندر کم سے کم 2100 مسلم لڑکیوں کو ہندو گھروں میں لانا ہے۔اس درمیان چوہان نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ صرف ہمارے پاس 150 ہندو لڑکے موجود ہیں جو مسلم لڑکیوں کے رابطہ میں ہیں وہ شادی بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن ڈر کی وجہ سے نہیں کرپارہے ہیں، ہم اُن 150/ ہندو لڑکوں کی مسلم لڑکیوں سے شادیاں کروائیں گے اور اُن کی حفاظت بھی کریں گے، ساتھ ہی ہم اُن ہندو خاندانوں سے رابطہ کریں گے جن کے گھر میں شادی کے لائق لڑکے ہیں ہم انہیں بھی کہیں گے کہ وہ بھی مسلم لڑکیوں سے شادی کریں۔ اس کے علاوہ ہم اُن اسکولوں میں جائیں گے جہاں مسلم لڑکیاں زیادہ پڑھتی ہیں اور انہیں بھی ہندو لڑکوں سے شادی کرنے کے لئے سمجھائیں گے‘‘۔

یہ صرف پونم پانڈے کی رپورٹ اور چوہان کا اقرارواعلان نہیں ہے،بلکہ اس پر بہت ہی مضبوطی کے ساتھ پورے ملک میں کام بھی شروع ہوچکاہے،منصوبہ بندی کے تحت اپنے اپنے علاقہ کے اسکولس،کالجیز،یونیورسیٹز،اور کام کرنے کی جگہوں پر مسلم لڑکیوں سے پہلے تو میٹھی میٹھی باتیں کی جاتی ہیں،انہیں جان،بوجھ کرکسی پریشانی میں ڈال کر پھرنکالنے کی کوششیں کی جاتی ہیں،جھوٹی ہمدردی اور خیرخواہی کا ڈرامہ کیاجاتاہے،یہاں تک کے بھولی،بھالی اورمعصوم لڑکیوں کا اعتبارویقین حاصل کیاجاتاہے،پھر انہیں،محبت،پیار،اورعشق کی گولی دی جاتی ہے،ان کادماغ اس طرح واش کیاجاتاہے کہ وہ اپناگھر،والدین،بھائی،بہن،سماج،معاشرہ،یہاں تک کے اپنامذہب چھوڑنے کے لئے تیارہوجاتی ہیں،ان کی ٹریننگ اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ ایک خداکے بجائے 360خداؤں کی پوجاکرنابھی اپنے لئے معیوب نہیں سمجھتی ہیں،بلکہ اپنے ہی مذہب کے خلاف باغی ہوجاتی ہیں،مہاراشٹرمیں 19/ مسلم لڑکیوں کی جو فہرست سامنے آئی ہے کہ وہ غیرمسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کرناچاہ رہی ہیں،بہت چونکانے والاہے۔بقول علامہ اقبال ؒ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیاخبرتھی کہ چلاآئے گا الحاد بھی ساتھ

یادرکھئے!پیار،محبت،عشق،چاہے جس خلوص کے ساتھ انجام دیاگیاہو،اسلام کی نگاہ میں شادی سے پہلے یہ جائز نہیں ہے،نکاح ایک مقدس عبادت ہے، اور یہی زوجین کے مابین الفت ومحبت کا بھی ذریعہ ہے،مگر اس کے لئے اسلام ضروری ہے،اگران میں سے کسی ایک میں بھی اسلام نہ ہو،توالفت ومحبت کا قیام ممکن نہیں ہے،چونکہ اسلام شرک وبت پرستی کا سخت مخالف ہے،اسی لئے قرآن کریم میں مردوں سے کہاگیاہے کہ:مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو،جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں،اسی طرح عورتوں کے بارے میں مردوں کوہدایات دی گئی ہیں،کہ:اپنی عورتوں کو مشرکین کے نکاح میں مت دو،جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں،یہ اسی بات کو بتلانے کے لئے ہے کہ زوجین کے مابین محبت،الفت اور مودت ورحمت اسی وقت ممکن ہے جب تک کہ وہ دونوں مسلمان ہوں،مخالفت کی صورت میں وقتی طورپر ممکن ہے کہ محبت ہوبھی جائے،لیکن یہ محبت پائدار نہیں ہوسکتی ہے،آج ایک عورت کے بارے میں وی ڈیوکے ذریعہ خبروائرل ہوئی ہے کہ وہ مسلمان تھی،پیارکے دام فریب میں کسی غیرمسلم سے شادی کرلی،چارسال ہوگئے،ایک بچی ہے،شوہردھمکی دے رہاہے تمہاری بچی کو ماردیں گے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ وہی لڑکی ہے جس نے اپنے گھروالوں کے ساتھ ساتھ،مذہب اسلام جیسی عظیم الشان دولت سے بھی بغاوت کرلی تھی،لیکن آج وہ دردربھٹک رہی ہے،اور یہ کوئی نیاواقعہ نہیں ہے،اس طرح کے واقعات ہرآئے دن بڑی تیزی سے وقو ع پذیر ہورہے ہیں،اس کے باوجود اگر ہماری بہنیں اور بیٹیاں اپنے ایمان کا سوداکررہی ہیں،تو شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

صورتِ حال یقینابہت ہی زیادہ تکلیف دہ ہے،مگر اس سیلاب کو دیکھ کر آگے بڑھ جانا کوئی دانشمندی نہیں ہے،اس کو روکنابیحد ضروری ہے،سب سے پہلی ذمہ داری تو ماں،باپ کی ہے،کہ وہ اپنی بچیوں کی حفاظت کریں،مخلوط تعلیم سے حتی الامکان انہیں بچائیں،ان کی جان،پہچان،اور دوستی کن کن لڑکوں اور لڑکیوں سے ہورہی ہے،اس پر کڑی نگرانی رکھیں،عید،بقرعید،یاہندوؤں کے کسی تہوارکے موقع پر ان کاآنا،جاناکدھرہورہاہے؟صرف یہ کہہ کرخاموش نہ رہیں کہ ابھی تو بچی ہے،یادرکھئے!یہ آپ کی بیٹیاں ہیں،جس طرح ان کی جسمانی صحت کے لئے اپناسب کچھ قربان کردیتی ہیں، ایمان کی فکر اس سے زیادہ ضروری ہے،اس لئے کہ ایمان واسلام کوئی معمولی چیزنہیں ہے،دنیااوردنیاکے سارے سازوسامان کو بھی اگرجمع کردیاجائے توبھی ایمان کا مقابلہ نہیں کیاجاسکتاہے،اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشادفرمایا: اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے۔حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ راوی ہیں،وہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کیاکہ اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہیں ٹھہراناہے(ایمان کو نہیں چھوڑناہے)اگرچہ تمہیں ٹکرے ٹکرے کردیاجائے،یاجلادیاجائے،اس وقت خاموش تماشائی بننا جرم ہے، اس لئے تمام دینی،ملی،تنظیموں،مدارس ومکاتب کے اساتذہ اور ائمہ کی یہ دوہری ذمہ داری ہے کہ تحفظ نسواں کے عنوان پرتحریک چلائیں،ایمان کی حفاطت،جیسے عناوین کے ذریعہ چھوٹے،چھوٹے پروگرامس منعقد کریں،گاؤں گاؤں،شہرشہر،شدھی تحریک اور گھرواپسی تحریک کے خلاف ایک مہم چھیڑیں،باپردہ اپنے سماج کی بیٹیوں،بہنوں کے دلوں میں ایمان کی محبت اور اس کی چاشنی کو جگائیں،انہیں ان کے مقاصد کی طرف توجہ دلائیں،صحابہ کرام اور صحابیات کے ان واقعات کو بتائیں جن سے ایمان کی لذت میں اضافہ ہوتاہو،کہ انہوں نے اپناسب کچھ قربان کرنے کے باوجود دمذہب اسلام کو چھوڑناگوارہ نہیں کیا،اللہ کاخوف،جنہم کے عذاب کا ڈر،اور جنت میں جانے کا شوق ان کے دلوں میں پیداکریں، باپردہ لڑکیوں کے لئے خالص دینی اور عصری تعلیم گاہوں کا بہترانتظام کریں،نکاح کو آسان بنائیں،جہیز،تلک، بارات کی رسومات ودیگرخرافات کو جڑسے اکھاڑپھینکنے کی کوششوں میں لگ جائیں یعنی خاندانی نظام کے استحکام اور صالح اسلامی معاشرہ کی تعمیر و تشکیل کے لئے درج ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے :

(۱)اسلامی نظام کے مطابق مسلمان بچیوں میں حیاداری، عفت و عصمت کی حفاظت کاجذبہ،اورعقیدئہ توحید و رسالت کی عظمت پیدا کی جائے۔روزانہ ہمارے گھروں میں آدھے گھنٹے ہی سہی کسی اچھی مستند اور ذہن و دل کو متاثر کردینے والی کتاب کی تعلیم کی جائے۔

(۲)مخلوط نظام تعلیم سے اپنی بچیوں کو بچایا جائے اور محفوظ ماحو ل میں معیاری تعلیم کاانتظام کیا جائے۔

(۳)جو لڑکیاں اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہی ہیں، ان کی عادات، اطوار، اخلاق پر پوری نظررکھی جائے، کردار سازی میں معاون بننے والا لٹریچر انہیں مطالعے کے لیے دیا جائے۔

(۴)اینڈرائڈ موبائیل اور بائک خرید کر نہ دی جائے، یہ دونوں چیزیں بے حیائی کے دروازے کھولنے والی اور عفت وعصمت کی تباہی کے دہانے تک پہونچانے والی ہیں۔

(۵)موبائیل ریچارج یا زیراکس کے لیے کسی دوکان پرجانے کی اجازت نہ دی جائے، اسی طرح کالج کے اندر یا اس سے قریب کے کینٹین سے بچنے کی ہدایت دی جائے۔

(۶)بسا اوقات غیر مسلم لڑکیوں کی دوستی بھی کسی فتنہ کادروازہ بن سکتی ہے،اس سے دوررکھا جائے۔

(۷)اگربچیاں کسی تعلیمی ضرورت سے انٹرنیٹ استعمال کررہی ہیں تو ان کی بھرپور نگرانی کی جائے، اس لیے کہ بھٹکنے اور بہکنے کے اکثر دروازے انٹر نیٹ کے ذریعہ کھلتے ہیں۔

(۸) سب سے آخر لیکن سب سے اہم یہ کہ اپنی بچیوں کو داعیہ بنائیں، کیونکہ ’’اگر داعی نہیں بنوگے تو مدعو بن جاؤ گے‘‘ اس لئے جو بچیاں داعیہ ہوں گی وہ ان شاء اللہ ان تمام خطرات سے محفوظ رہیں گی۔

بچیوں کی صحیح اسلامی تربیت کے اور بھی جو بہتر طریقے ہو سکتے ہیں انہیں اختیار کیا جائے،دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح ایمانی عقیدے کے ساتھ زندگی گذارنے کی توفیق بخشے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے