بہار چناؤ… کچھ باتیں..

43

تحریر :خورشید انور ندوی

الیکشن پر ہمیشہ ہی کچھ نہ کچھ لکھتا ہوں.. اس بار بہار کا الیکشن، اہم ترین الیکشن تھا. جس سے دلچسپی میری اتنی ہی رہی جتنا اہم یہ الیکشن تھا.. میں الیکشن کو عمومی نقطہ نظر سے بھی دیکھتا ہوں اور خصوصی پہلو، اقلیتوں کے نفع نقصان اور ان پر مرتب ہونے والے اثرات کے زاویہ سے بھی دیکھتا ہوں… وہ اس لئے کہ مجھے اقلیتوں کی طرف سے اطمینان نصیب نہیں ہے. ہندوستان میں وہ سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ اپنی شناخت کے ساتھ زندہ رہنے کے لئے جدوجہد سے بھی دوچار ہیں .. اپنے حقوق کی بازیابی میں وہ دو قدم پیش قدمی تو چار قدم پس روی کا شکار ہیں .. پہلے ان کے شہری حقوق پر بالواسطہ وار ہوتا تھا اب براہ راست وہ سماجی اور قانونی یلغار کا سامنا کررہی ہیں .. اقلیتوں میں خاص طور سے مسلم اقلیت.. پچھلے کئی سال سے سماجی اصلاحات کے عنوان سے جتنی قانون سازی ہوئی، دستوری ترمیم ہوئی سب میں ٹارگٹ رہی.. اصلاحات سے زیادہ کونے میں دھکیلنے کا کام کیا گیا.. قانون میں تبدیلی کے بعد کچھ دنوں تک صورت حال مانیٹر کی جاتی ہے کہ نئی تبدیلی کا کیا اثر پڑا؟ ملک اور قوم کو قانون کی افادیت سے واقف کرایا جاتا ہے.. مثبت اثرات کی تشہیر کی جاتی ہے.. یہ سب کچھ ہوتا ہے جب نیت صاف ہو اور ارادے اچھے ہوں.. ہندوستان میں ایسا کچھ نہیں ہورہا ہے.. نوٹ بندی کے اثرات پر کوئی ڈیٹا سیٹا نہیں آیا.. صرف اور صرف کالادھن کالادھن کی دھن چل رہی ہے.. اور اس بے سری دھن پر سر دھننے والے آج تک نہ دھن سے نہال ہوئے نہ کالے سفید سے واقف ہوئے.. مقام افسوس اور جائے ملال ہے کہ ملک کی سیاسی ثقافت ملیامیٹ ہورہی ہے.. آزاد ادارے پابند بنائے جارہے ہیں.. سارے بڑے ادارے جگتی جگالی کررہے ہیں.. سالیسٹر جنرل حکومت کا نمایندہ بن گیا ہے، آڈیٹر جنرل بڑے کیسز کی فائل کو ہاتھ نہیں لگاتا، آر بی آئی شیئر مارکٹ میں تیزی لگانے پر لگا ہوا ہے.. اور حکومت کی ہر فرمائش پوری کردیتا ہے.. نقدی کا بہاؤ پیدا کردیتا ہے اور پیشگی دیویڈنٹ بھی فیاضی سے جاری کردیتا ہے.. سپریم کورٹ صحافتی بھانڈوں کا پشتی بان ہے.. آٹھ دن کا کالا کتا رات میں دکھ جاتا ہے لیکن دیڑھ سال کے اسیران آزادی اظہار برف کی سفیدی میں بھی نہیں دکھتے.. قصر صدارت بے نام ماموریں بے دام کے حوالے ہے..الکشن کمیشن ضلعی انتظامیہ سے بھی کم تر سطح پر کام کر رہا ہے.. ووٹ شماری کے بعد کامیابی کا سرٹیفکیٹ جاری کرکے اور اعلان موخر کرکے زبردستی چھین لیا جاتا ہے اور کوئی دہائی نہیں..یہ بہار الکشن کا ایک منظر ہے.. بیس سیٹیں مشکوک ہیں.. لیکن آج میرا موضوع یہ نہیں یہ ہندوستان کی الکشنی سرگرمی کا معمول بن چکا ہے.. صورت حال پچھلی کئی دہائی سے مائل بہ بہتری تھی، اصلاحات کا عمل مسلسل اور فروغ پذیر تھا کہ اچانک پھر ابتری کا شکار ہوگیا.. یہ سب روز کا موضوع ہے..اقلیتوں کے لئے بہار الیکشن میں سب سے زیادہ اہمیت ایم آئی ایم کی پر زور شرکت تھی.. کسی مسلمان سیاسی پارٹی کی مسلمانوں کے قابل لحاظ آبادی والے انتخابی حلقوں میں یہ پہلی چونکادینے والی شرکت تھی،، ایم آئی ایم پچھلے صوبائی الیکشن میں بھی حصہ لے چکی ہے لیکن اس مرتبہ اس نے اپنے آپ کو منوالیا ہے.. سی اے اے جیسے قانون کی منظوری کے بعد مسلمانوں کی سوچ میں ایک تبدیلی آئی ہے، اور ملک گیر بڑی سیاسی پارٹیوں کے رول سے مسلمانوں کے اندر مایوسی ہے.. علاقائی پارٹیاں جن کو وہ یوپی بہار میں روایتی طور پر سپورٹ کرتے رہے ہیں وہ ان کی نمایندگی میں یکسر ناکام رہیں.. اور مسلمانوں کے احتجاج تک میں ان کی نیم دلانہ شرکت بھی نہیں تھی.. جس سے مسلم اقلیت سخت مایوس ہوئی.. ادھر اسد الدین اویسی صاحب کی پارلیمنٹ کے فلور پر اکیلی گھن گرج اور ہندتوا کے زیر اثر تنظیموں اور میڈیا گھرانوں کی گھیرا بندی نے اویسی صاحب کو مسلمانوں کے درمیان شہرت اور مقبولیت کے آسمان پر پہونچا دیا.. جس کا صاف اثر الیکشن کے نتیجہ پر دیکھا جاسکتا ہے..

ایم آئی ایم کی اس انتہائی موثر اور طاقتور شرکت سے مہاگٹھبندھن کا کھیل کچھ نہ کچھ خراب ضرور ہوا، جو بظاہر مسلمانوں کی توقع اور خواہش کے لئے ایک دھکہ ہے.. لیکن مہاگٹھبندھن کی اکڑ بھی اس نتیجہ کی ذمہ دار ہے.. راجد کھلم کھلا مسلم ووٹ کی سیاست کرتی رہی ہے لیکن اس کی سب سے بڑی حلیف کانگریس اپنی نام نہاد سیکولر ازم کی نظریاتی پالیسی کی قیدی بنی رہی اور ایم آئی ایم سے فاصلہ رکھنے پر اڑی رہی.. اس میں شک نہیں کہ کانگریس کو سیٹوں کے نقصان کی ایک بڑی وجہ ایم آئی ایم کی طرف اقلیتوں کے روایتی کانگریسی ووٹوں کا بہاؤ بھی ہے.. سیاست میں بدلتی سماجی صورت حال اور عوامی رجحان کا ادراک معنی رکھتا ہے، کانگریس یہ سمجھنے میں ناکام رہی.. اس کو ابھی بھی یہی سمجھ میں آرہا ہے کہ مسلمان بی جے پی کے خوف سے اس کی طرف ہی دیکھیں گے. جب کہ مسلمان اب سیاست میں کشتی جلاکر کچھ کرنے کی سوچ بیٹھا ہے.. ایم آئی ایم کی اس طرح کی چھلانگ بیشک بہت کچھ سیاسی نقصان کا سبب بن سکتا ہے اور مسلم دشمن سیاسی قوتوں کے لئے ایک نفع کا سودا بھی بن سکتا ہے، لیکن یہی سوچ سوچ کر اگر ہمیشہ قدم پیچھے کرلیا جائے تو مسلم سیاسی قیادت اور سیاسی جماعت یا جماعتوں کا وجود کس طرح ہوگا؟ .. تمام سیاسی جماعتوں کو مسلمان ستر سال سے آزما رہے ہیں.. اور بے نتیجہ آزما رہے ہیں تو کوئی اور تجربہ کرنے میں کیا مضایقہ ہے؟ سیاسی پارٹی بننے کا یہ فائدہ تو ہوگا ہی کہ مختلف قومی اور علاقائی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مفاہمت ایجنڈہ پر ہوگی، موہوم امیدوں پر نہیں.. سیاسی پارٹی کا اپنا کیڈر ہوتا ہے، اپنی تنظیم ہوتی ہے، مائنڈ سیٹ ہوتا ہے.. ایشوز اپنے ہوتے ہیں، ایجنڈہ طے کیا جاتا ہے.. پالیسی اور اہداف سے انحراف پر پارٹی میں اختلاف اور ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے جو پارٹی کے معلنہ عمومی رجحان سے ہٹنے نہیں دیتی.. کیرالا کی مسلم لیگ نے پورے ملک کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایجنڈہ کی بنیاد پر سیاسی مفاہمت سے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے، ورنہ 24٪ مسلم آبادی کا تناسب رکھ کر کیرالا میں تو 5 کابینی برتھ حاصل کی جائے اور یہی تناسب بنگال میں رکھ کر کچھ حاصل نہ کیا جاسکے ..؟ اپنی آواز سیاسی پارٹی کے ذریعہ اونچی کرنے اور بغیر اینی سیاسی پارٹی کے اونچی کرنے میں، نتیجہ کا یہ فرق ہوتا ہے.. نظریاتی سطح پر کسی بھی مسلم سیاسی پارٹی کی الیکشن میں شرکت کو خوش آمدید کہنا چاہئے اور سارے من چاہے نتائج دوچار الکشنز میں حاصل کرلینے کی بیجا توقع نہیں رکھنا چاہیے.. تاہم وقت اور سیاسی حالات کے کچھ ناقابل نظر انداز موڑ کا خیال بھی رکھنا ازحد ضروری ہے.. بہار میں ایم آئی ایم کی جیت اہم ہے.. اور اس سیاسی جماعت کو ہدف تنقید بنائے بغیر، یقیناً بی جے پی کی شکست زیادہ اہم تھی، جس کا پورا پورا موقع بھی تھا..یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی مبصرین نتیجے پر غور کرکے ایم آئی ایم کو بی جے پی کی B ٹیم قرار دیتے ہیں جو میرے خیال میں زیادتی پر مبنی ہے.. اس نتیجہ کا ذمہ دار تنہا ایم آئی ایم کو ہی کیوں ٹھہرایا جائے؟ کانگریس اور راجد گٹھبندھن کو ایم آئی ایم کو اچھوت کیوں سمجھنا چاہیے تھا؟ تین الیکشن بعد آپ اقتدار سے قریب ہورہے تھے تو کچھ رواداری اور لچک کا مظاہرہ کرتے اور ساتھ لیتے… اس سے زیادہ اہم بات یہ تھی پچھلے الیکشن میں کانگریس نے 42 سیٹ لڑ کر 27 جیتی تھی، کس بنیاد پر اس کو 70 سیٹیں الاٹ کی گئیں؟ اگر راجد کانگریس کو 50 سیٹوں تک محدود رکھتی اور خود 20 زائد سیٹوں پر لڑ جاتی تو نتیجہ بہت مختلف ہوسکتا تھا .. تیجسوی یادو کی مقبولیت کا گراف بہت اونچا تھا، اور کانگریس کے پاس صوبائی سطح پر کوئی قابل توجہ چہرہ نہیں تھا.. اس کا کیڈر کمزور اور تنظیم بے ربط ہے.. اس طرح کی گھسی پٹی، حوصلے سے عاری سیاست، اور حکمت عملی کی غلطی کرکے ایم آئی ایم کو قصور وار گرداننا ریت میں منہ گاڑ کر طوفان سے بچنے کی کوشش ہے..

اگر مقامی سطح پر مسلم سیاسی پارٹیاں نہیں بنتیں تو ایم آئی ایم کی اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے اور تعاون کرنا چاہیے.. دوسری جانب ایم آئی ایم کی ملی اور سیاسی ذمہ داری ہے کہ مسلم ووٹ کے ارتکاز کے علاقوں میں ووٹوں کی بے تکی تقسیم کا سبب نہ بنے اور تنازل کی آخری حد تک جائے.. آخر مجلس اتحاد المسلمین نصف صدی سے زائد کا سیاسی سفر طے کرکے اپنی جنم بھومی تلنگانہ میں اپنی سیاسی عملداری کل 7 انتخابی حلقے تک محدود رکھے ہوئے ہے، پھر کس منطق سے مہاراشٹرا میں 42 اور بہار میں 24 سیٹوں پر لڑنے پر اصرار کرتی ہے.. اس کو یہ طے کرنا پڑے گا کہ بی جے پی جیسی سیاسی قوت کو اس کی وجہ سے فائدہ نہ پہونچ جائے، ورنہ آپ کی ملی سیاست کا کیا فائدہ..؟ یہ دیکھنا ازحد ضروری ہے کہ ایم آئی ایم کی سیٹیں ضرور آئیں لیکن پچھلی اسمبلی کے مقابلہ میں اس اسمبلی میں مسلم نمایندگی 24 سے گھٹ کر 19 رہ گئی ہے… یہ ایم آئی ایم خود دیکھے کہ اس میں اس کی کتنی ذمہ داری ہے… آگے بنگال کا الیکشن مہابھارت سے کم نہیں.. یاد رکھنا چاہیے کہ بی جے پی ہر حال میں سقوط بنگال کا ہدف رکھے گی.. آسام اور بنگال اگر دونوں جگہ بی جے پی اقتدار حاصل کرلیتی ہے تو یہ ہندوستان میں اقلیتوں پر ایک نئی فتح کے مماثل ہوگی، اور این آر سی کے کیس میں مسلمان ایک المیہ سے زیادہ المیہ کا شکار ہوجائیں گے.. بطور صوبائی حکومت ممتا جی کی حکومت کے علاوہ کوئی دوسری حکومت اس کیس میں مزاحمت کی تاریخ نہیں رکھتی.. اس صوبے کے الیکشن میں ایم آئی ایم کو سخت محتاط رہنا چاہئے، اور کسی طور ووٹوں کی ایسی تقسیم سے گریز کرنا چاہئے، جو ترنمول کانگریس کے خلاف پڑے،کیوں کہ وہ بدنیت بی جے پی کی واحد طاقتور حریف ہے، اور بڑی سخت جان مزاحمت کررہی ہے.. دوسری طرف ترنمول کانگریس کو کانگریس، سی پی ایم اور اگر بات بن سکے تو ایم آئی ایم کے ساتھ سیٹ تو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنا چاہیے .. مفاہمت تو ممکن نہیں ہوگی کیونکہ سی پی ایم اپنے لادینی امیج کی قیدی ہے اور کانگریس بھی ظلی سیکولرازم کے الزام سے بچنا چاہے گی اور براہ راست ایم آئی ایم سے کوئی انتخابی مفاہمت نہیں کرے گی .. جس کا بہترین حل سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہے.. جو بھی سیاسی زائچہ بنے ایم آئی ایم کی بطور مسلم سیاسی جماعت یہ ذمہ داری ہے کہ وہ منفی نتیجہ کا سبب نہ بنے.. خصوصاً ان حالات میں.. سیاست میں مواقع ہی مواقع ہوتے ہیں.. سب کچھ آج ہی حاصل کرلینا ممکن نہیں ہوتا.. مسلمان دانشور اور مبصرین بھی اسد الدین اویسی صاحب کو بطور مسیحا پروجکٹ نہ کریں نہ بلاوجہ ویلن اورآلہ کار گردانیں.. مختلف علاقوں میں مختلف سیاسی آپشنز پر بھی غور ہونا چاہئے ورنہ علاقائی حساسیت بھی اچانک طوفان کھڑا کردیتی ہے.. ایم آئی ایم بھی اپنی تنظیم میں مرکزیت کو مقامی قیادت پر ترجیح نہ دے بلکہ تقسیم اختیارات اور فیصلہ گیری میں لوکل سیٹ اپ کو بالادستی دے.. تاکہ کنٹرول اور سپرمیسی کا احساس نہ ابھرے جو بکھراؤ کی پہلی وجہ بنتا ہے.. ایم آئی ایم میں خاندانی پارٹی کا تصور ابھرتا جارہا ہے، اور کافی حد تک ون مین آرمی کا ٹیگ لگتا جارہا ہے.. دکن میں پچھلے تیس سال سے زائد عرصہ سے کوئی قابل ذکر بڑا کام نہیں ہوا ہے جہاں ایم آئی ایم کی نمائندگی بلا وقفہ ہے.. نہ سیٹوں کی خاطر خواہ توسیع ہوئی نہ متبادل دوسرے درجہ کی قیادت موجود ہے.. نئی نمائندگی بہت سست رفتار ہے.. جو عزائم سے میل کھاتی بات نہیں ہے .. یہ ماننا پڑے گا کہ بی جے پی میں کیڈر سے قیادت پیدا کرنے کا کلچر تمام سیاسی جماعتوں سے زیادہ پائیدار ہے اور مسلسل ہے.. کانگریس میں قیادت کا چیر گیم ہوتا ہے اور چیر بھی دو ہی ہوتی ہیں.. جس نے اعتماد کا بحران پیدا کردیا ہے….

بہار الیکشن نے بہت کچھ سکھایا اور بہت کچھ سجھایا ہے.. اس تجربہ کی محتاط توسیع ہونی چاہئے.. لیکن پہلے سے موجود غیر بی جے پی بڑی سیاسی پارٹیوں کے رویے کی قریبی نگرانی بھی ہونی چاہیے.. سیاست میں دروازے بند نہیں کئے جاتے.. اگر یہ پارٹیاں مثبت اشارے دیں تو ان سے باقاعدہ مذاکرات اور ماقبل انتخاب معاہدہ ہونا چاہئے.. جس کو مذہبی اور ملی اداروں اور تنظیموں کے نمائندے مرتبت کریں.. تمام سیاسی جماعتوں سے کنارہ کش ہوکر محض مسلم سیاسی پارٹی کے تحت سیاسی شرکت تنہائی کا سبب بھی بن سکتی ہے، جو مسلمانوں کی آواز محدود کردے گی… اس کا خیال کرنا ازحد ضروری ہے…