بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتبہار میں دم توڑتی اردو صحافت

بہار میں دم توڑتی اردو صحافت

اللہ خیر کرے!!
اردو صحافت بہار کی دم توڑ رہی ہے تمام اخبارات حکومت وقت کی قصیدہ خوانی میں مصروف ہیں ۔اہم لیڈ خبر وزیر اعلی یا وزیر ا عظم کی لگتی ہے ۔جب کہ ہندی اخبارات عوامی مسائل کو فوکس کرتے ہیں ۔یہ مسلم اداروں کی کار کردگی کا منصفانہ جائزہ کبھی پیش نہیں کرتے بلکہ عہدہ کے سربراہ کو خوش کرنے کی پالیسی پر گامزن رہتے ہیں کوئی کسی تحریک سے جڑے ذمہ دار خبر اخبار کو ارسال کرتے ہیں تو اسے سرد خانے میں ڈال دیا جاتا ہے یکطرفہ خبریں شائع ہوتی ہیں ۔حکومت کی طرف سے ملنے والے اشتہارات کا اردو ترجمہ کرنا مناسب نہیں سمجھتے صفحہ اول پر بھی جیکٹ میں ہندی کا بڑا اشتہار شائع ہوتا ۔تمام اخبارات یو این آئ کی خبر وں پر منحصر کرتے ہیں ان کے پاس ذرائع وسائل تو ہیں نہیں اس لئے اردو قا ر ئیں کے ذوق کی تسکین نہیں ہوتی ۔آج بہار کے تمام رننگ اردو اخبارات نے لیڈ سرخی محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ سے موصولہ وزیراعلی کی خبر ’ذاتیات پر مبنی مردم شماری پر شائع ہوئی ہے جبکہ تمام ہندی اخبارات نےوزیراعلی کے جنتا دربار میں فریادیوں کی شکایت کو بہتر طور پر فوکس کیا ہےاورسوشاسن کی پول کھول دی ہے۔ بالمیکی نگر سے آئی ایک خاتون وزیراعلی کے سامنے زاروقطار رونے لگی اس نے کہا کہ اس کے خاوند کوآپ کی پارٹی کے ایم ایل اے نے قتل کردیا ہے اس سلسلے میں میں متعدد بار تھانہ گئی تو میری شکایت کو تھانہ والوں نے نہیں سنا، ایس پی نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی الٹا تھانہ والے نے پچاس ہزار روپئے رشوت طلب کیا یہ رقم جب ملے گی تب آپ کی طرف سے ایف آئی آر ہوگا۔اس خبر کو تمام ہندی کے بڑے اخبارات نے اہم سرخی بنایا ہے۔لیکن اردو اخبارات بس کاپی پیسٹ پر زندہ ہے۔ لیکن اردو اخبارات میں یہ خبر کہیں پر نہیں ہےجو افسوسناک ہے۔اردو صحافت 200سال مکمل کرنے جارہی ہے لیکن جب ہم موجودہ اردو صحافت پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوتی ہے اردو اخبارات سے لوگوں کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے ۔
بیشتراردواخبارات مضامین بھی نیٹ سے لے کرشامل اشاعت کرتے ہیں ۔اچھے معتبر قلم کار کالم نویس اخباروں میں مضامین اورکالم سلگتے موضوعات پر ارسال نہیں کرتے اس لئے کہ یہ لوگ مفت میں شائع کرتے ہیں ۔ظاہر سی بات ہے مفت والی چیز دیرپا نہیں ہوتی۔امید ہے کہ اردو اخبارات اس طرف توجہ کریںگے تاکہ اس وقار اور اعتبار بنا رہے۔نتیش کے دور اقتدار میں محکمہ تعلقات عامہ سے ملنے والے تمام اشتہارات ہندی زبان میں آتے ہیں اور اردو اخبارات اسے فزیہ طور پر شائع کرتے ہیں۔تمام بڑے اشتہارات اور ٹینڈر صرف ہندی زبان میں شائع ہوتے ہیں۔ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے اس طرف حکومت کی مطلق توجہ نہیں ہے۔
اشرف استھانوی

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے