بہار میں اُردو – از قلم ابو خالد

209

از قلم ابو خالد متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء مقام :کشن گنج بہار
اردو جن علاقوں میں پھلی پھولی اور پروان چڑھی ان میں بہار خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور یہاں اردو کا چراغ پوری آب وتاب سے جگمگا رہا ہے زمانہ قدیم سے یہاں اردو کا چرچا ہے- یہاں منیر شریف کی درگاہ میں حضرت شرف الدین یحییٰ منیری کی تصنیف کا ایک نسخہ موجود ہے -یہ 911ھ یعنی 1515ء کا ہے اس تصنیف کے بارے میں یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ ہماری زبان کی قدیم ترین تحریر بھی ہو سکتی ہے
زمانہ قدیم کی ایک اور نثری تصنیف ‘سیدھا راستہ ‘ہے اس کا سنہ تصنیف 1670ء ہے یہ کتاب بہار سے شائع ہو چکی ہے اسے شمالی ہند کی پہلی نثری تصنیف قرار دیا گیا ہے جو زبان اردو میں وجود میں آئی –
اردو نثر کی طرح اردو نظم کو بھی یہاں زمانہ قدیم میں خاصا فروغ ہوا -بعض ایسے شاعروں کے نام بھی دستیاب ہیں جو محمد شاہ بادشاہ سے پہلے طبع آزمائی کر رہے تھے ان عماد اور بی بی دلیہ کے نام مشہور ہیں
محمد شاہ بادشاہ کے دور کا ایک شاعر ملا محمد علیم تحقیق عظیم آبادی گزرا ہے جس نے خاصی شہرت پائی -میرزا موسوی خاں معز و فطرت کے تلامذہ میں اس کا شمار ہے
سنہ ولادت 1659ء اور سنہ وفات 1749ء ہے نمونہ کلام
سر جن ترے مکھرے میں سورج کی کرن دھا ہے
دیکھا ہوں جو تجھ مکھ کوں نیناں مرے چندھا ہے
مرزا جان جاناں مظہر کے شاگرد میر محمد باقر و حزیں بھی ایک خوش گو شاعر تھے جو احمد شاہ بادشاہ کے زمانے میں دہلی سے یورپ گئے اور وہاں شعر و سخن کی شمع روشن کی – شورش جنھوں نے شعرائے اردو کا تذکرہ لکھا انہی کے شاگرد تھے
مرزا مظہر کے ایک اور شاگرد فقیہ صاحب درد مند بھی کچھ عرصے عظیم آباد میں رہے ان سے ایک ساقی نامہ یادگار ہے -اسے بھی قدیم اردو شاعری کے اہم نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے
عظیم آباد بہار کا ایک ادبی مرکز رہا ہے اور اُردو شاعری کے قدیم دبستانوں میں بھی اسے بہت اہمیت حاصل رہی ہے اُردو شاعری کی نشو نما میں دبستان عظیم آباد نے بھی نمایاں طور پر حصہ لیا اور بہت سارے شاعروں نے یہاں رہ کر شعر و سخن کی خدمت کی – شاہ عالم ثانی ہی کے عہد میں اس دبستان کی اہمیت مسلم ہو چکی تھی – دبستان عظیم آباد کے کچھ شاعروں کا یہاں اسماء کرام مع چند اشعار جن سے آپ خود بہار میں اُردو کی نشو نما اور خد و خال کے بناو سنگھار اور اس کو نکھارنے کے لئے بہار کو لوگوں کی گوناگون کوششوں سے آپ بھی واقف ہوگے
موزوں
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
ودانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری
جوہر ومزاقی
اہل حرم کے مقتل اوپر جس دم ہائے سواری آئی
لاش کے پاس آئی سب بی بی رونے غم کی ماری آئی
حسرت
رات کا سچ ہوا خواب مرا
مل گیا صبح آفتاب مرا
لاکھ کوئی اس کا مبتلا ہوگا
لیک مجھ سا نہ دل جلا ہوگا
جوشش
تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیا
ہم نی کیا جبر اختیار کیا
اظہر
میں دیکھوں تجھے اور تو اغیار کو
کوئی گل۔کو چاہے کوئی خار کو
خراماں تجھے دیکھ کبک دری
گیا بھول یکبار رفتار کو
ہما کو نہ دینا مرا استخواں
یہ تحفہ ہے اظہر سگ یار کو
کلیم عاجز
کلیم بر صغیر کی اُردو شاعری کا ایک مقتدرن، معروف اور مقبول نام ہے جسے دبستان بہار کی آبرو سمجھا جاتا ہے
عالمی شہرت یافتہ شاعر پدم شری ڈاکٹر کلیم عاجز کی ادبی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں -وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور ان فن غزل کا فن ہے
کلیم عاجز کا یہ شعر جہاں بھر میں مشہور ہے
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل۔کرو ہو کی کرامات کرا ہو
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
شاد عظیم آبادی
مقام پیدائش
پٹنہ سیٹی
دل مضطر پوچھ اے رونق بزم
میں خود آیا نہیں ہوں لایا گیا ہوں
شوق نیموی
وہی اشعار جن میں لطف کچھ رہتا ہے رکھتے ہیں
غزل میں شوق ہم بھرتے نہیں ہر رطب ویابس کو
عطاء کاکوی
تم اپنی بزم میں گفتار کی اجازت دو
تو ایک حرف سے ہم داستاں بنائیں گے
انکے علاوہ بھی جمیل مظہری، رضا نقوی اور رمز عظیم آبادی کے علاوہ بھی بہت امسے اُردو کے زلف سوارنے اور اسکے آبیاری میں گرم جوشی سے حصہ لئے ہیں