بہار الیکشن اور ہم باشندگان بہار

85

سرفراز عالم ابو طلحہ ندوی بابوآن ارریہ

ہندوستان مختلف زبان تہذیب و ثقافت اور مختلف مذاہب کا مرکز ہے، اور یہاں کی خوبصورتی یہ رہی کہ یہاں ہر کوئی آزاد ہے اور ہر کسی کو بولنے اور اپنی آواز بلند کرنے کا پورا پورا حق ہے،اسی آواز کو ایوان بالا تک پہچانے کے لئے ہر اسٹیٹ اور ریاست میں الیکشن کرایا جاتا ہے، تاکہ تمام لوگوں کی رائے لی جائیں ، اور ایک اچھے باکمال انسان کو اپنا لیڈر چن کر ایوان اسمبلی و ایوان پارلیمان تک پہنچا کر انہیں اپنا خیرخواں تسلیم کیا جائے ،جس کے لئے ہندوستان کے دراندیش اور خردمندوں نے ہر ریاست میں الیکشن کمیشن بنایا ، جہاں سے چناو کا اعلان کیا جاتا ہے کہ فلاں تاریخ کو فلاں اسٹیٹ میں الیکشن ہونا طے ہے ، اور یہ اعلان سنتے ہی ہر جماعت و پارٹی اپنی سر گرمی کو تیز کرتی نظر آتی ہیں، اور اس کے لئے لیڈران ایک دوسرے پر سیاسی کیچڑ اچھالتے ہیں، اور ہر ممکن اپنی سرکار بنانے کی کوشش ہوتی ہے،جس میں بعض پارٹی کو کامیابی ملتی اور بعض کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ٹھیک اسی طرح ریاست بہار میں سیاسی گہماگہمی تیز تر ہوتی جارہی ہیں ہر محاذ اور پارٹی اپنی اپنی ریلیاں جاری کر دی ہے” بے جے پی جے ڈیو اور آر ایل ایس پی” ان تمام لوگوں نے ملکر اپنی حکومت بنانے کے لیے کافی زور لگا رکھیی ہیں، ویہں مہاگھٹبندھن کی تمام پارٹیاں شباب پر ہے اسی طرح” پپو یادو اور اسد صاحب” اور ان کے حلیف جماعتیں اپنا اقتدار مضبوط کرنے پر پوری طاقت جھونک رکھی ہیں اسی طرح “ایس ڈی پی “اور ان کے حلیف جماعتیں اپنا اقتدار مضبوط کرنے اور کوشواہا کو راج گدی پر بھٹانے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس کے شانہ بشانہ آزاد پارٹیاں بھی اپنے انداز میں ریلیاں پر ریلیاں منعقد کئے جارہی ہیں، اور وعدہ وعید کرتی ہوئی ہر پارٹی اپنا منشور پیش کر رہی ہیں، اب دیکھنا ہے کہ بہار کی عوام کس کو راج گدی پر بٹھاتی ہیں ،اور کس کی پلڑا بھاری نظر آئے گی ، وہ تو 10 نومبر کی تاریخ ہی فیصلہ کرے گی، ہر لیڈر ایک دوسرے کی فضیحت کرتے نہیں تھکتے ہیں ،اور اپنے پورے کاموں کا حساب بھی دے رہے وہی اپوزیشن پارٹیاں نتیش کمار اور انکے حلیف جماعتوں پر نشانہ سادھتے ہوئے بہت سارے الزامات عائد کرتے ہیں، ٹھیک وہی لالو پرساد یادو کا سپوت اور میدان سیاست کے شہ سوار شری تیجسوی یادو جی اپنے چناوی ریلیوں میں بار بار اس چیز کا بڑے زور و شور کے ساتھ یہ کہ رہے ہیں کہ ہماری سرکار بنی تو پہلا قلم جو چلے گا وہ دس لاکھ نوجوانوں کی نوکری پر چلے گا اسی طرح بہت ساری پارٹیاں اپنے اپنے سیاسی چال کو لوگوں کے سامنے اجاگر کر رہے ہیں، لیکن کیا یہ تمام وعدے سچ ثابت ہونگے یا نہیں وہ تو وقت ہی بتائے گا۔
ان چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری اور آپ کی ذمہ داری بنتی ہیں کہ ایسے لیڈر کو ووٹ کریں جو ہم باشندگان بہار کے لئے سود مند ثابت ہو، اسی طرح جو ہمارے لئے حق کی آواز بن سکیں اور ہمارے حقوق کو ہمیں دلا سکیں اسی کو اپنا ووٹ دیں، کیونکہ اس بار ریاست بہار کا الیکشن ہمارے مستقبل کو سنوارنے ہ کا فیصلہ کرے گا،
بہت ساری پارٹیاں مسلمانوں کو سامنے رکھ کر سیاست کر رہی ہیں، ایسے میں مسلمان اپنا ووٹ کس کو کریں، یہ ایک اہم سوال ہے ،کیا مسلمان ایم اے ایم کو دے یا آر جے ڈی کو دے یا جے ڈیو کو دے ، ان تمام پارٹیوں کو سامنے رکھ کر مسلمان ایسے لیڈر کو ووٹ کریں جس کی سرکار بنے کی امید ہو ،سوائے کئی پارٹیوں کو چھوڑ کر اس کو صیغہ راز ہی میں رکھیں، ووٹ کاٹنے والی تمام پارٹیوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں کیونکہ اس بار کا الیکشن مسلمانوں کو ایک بہترین موڑ پر لے جائے گا یا انہیں برباد کر کے رکھ دے گا، ہم اور آپ امن اور شانتی کا ماحول چاہتے ہیں تو ایسے کو سرکار بنائیں کو آپ کی ہت میں بات کریں آپ کو حق دلانے کی بات کریں،سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کریں، ہم لا پرواہوں اور بے غیررتوں کی سرکار نہیں چاہتے ہیں ،ہم ایک اچھے ایماندار کو سرکار بنائیں، تاکہ باشندگان بہار ہر محاذ پر کامیاب بنیں ۔
اللہ تعالی ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین ۔