بہار الیکشن امید و نا امیدی کی کشا کش

90

از قلم :_شیبا کوثر (آرہ )۔

سیاست سیاست آج کل بہار میں جہاں دیکھو بس سیاست کی بات ہو رہی ہے کیا عام کیا خواص سب اپنی رائے رکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ اندیشے کے گھوڑے بھی دوڑ اتے ہیں۔گویا ہر کوئی ایک ماہر سیاست داں کی طرح اپنی رائے کو مستحکم قرار دیتا نظر آتا ہے اور اپنے آپ کو ماہر سیاست داں سمجھتا ہے یہ تو شروعاتی دور کا عالَم ہے لیکن سچائی یہی کہ جس دن وہ ووٹ دینے کیلئے جاتا ہے اس وقت بھی وہ ذہنی طور پر تیار نہیں ہو پاتا کہ وہ کس کو اپنا ووٹ دے بلکہ جدھر کی ہوا ہوتی ہے ادھر ہی اڑ جاتا ہے اور اس کا فائدہ ویسی پارٹیوں کو ہوتا ہے جو الیکشن کے دوران بہتر ین پلا ننگ اور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے ۔

سیاست آج کے دن یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں نہ کوئی کسی کا مستقل دوست ہوتا ہے نہ دشمن بلکہ اس سے جڑے ماہر سیاست داں وہی ہوتے ہیں جو وقت کی رفتار کو دیکھ کر اپنی رفتار بڑھا تے یا گھٹا تے ہیں ۔اس لئے کہ اگر رفتار تیز ہوتی ہے تو بھی حادثہ کا ڈر ہوتا ہے اور رفتار زیادہ دھیمی ہوگی تو بھی نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔یعنی بڑا نپا تلا معا ملہ ہوتا ہے جو ایک ماہر کھلاڑی ہی طئے کر سکتا ہے لیکن جہاں تک ایک عام رائے دہندگان کی بات ہے انکے یہاں دوست بھی ہیں تو مستقل اور دشمن بھی ہیں تو ازلی ۔یعنی جسکو اپنا دوست سمجھتے ہیں خواہ اس کے اندر لاکھوں برائیاں کیوں نہ ہو وہ ان کا دوست ہی رہتا ہے اور جسے وہ دشمن سمجھتے ہیں وہ ہمیشہ دشمن ہی رہتا ہے ۔چاہے اس کے اندر خوبیا ں ہی کیوں نہ ہوں ۔جس کا فائدہ یقینی طور پر ہر ایک ماہر سیاست داں اٹھاتا ہے ۔ویسے بھی ایک پرانی کہاوت ہے جب تک بے وقوف رہینگے عقلند بھوکا نہیں رہتا ۔یہ تو ہوئی سیاست کی بات لیکن اگر حقیقت کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا جائے تو کہانی کچھ اور ہی نظر آتی ہے ۔اس لئے کہ حقیقت تو حقیقت ہے اس سے دامن بچانا مشکل ہے ۔اور حقیقت یہی ہے کہ اگر بہار صحیح مانوں میں ترقی کرتا ہے تو کیا خواص کیا عام اسکا فائدہ سب کو پہنچے گا ۔اس لئے کہ اگر آپ کسی صورت بہار سے جڑے ہیں تو یہاں کی سر زمین سے جڑے رہنا ہر ایک کی مجبوری ہے ۔کیونکہ رہنا آخر کار یہیں ہے ۔مان لیا کہ آپ بہت بڑے سیاست داں ہیں تو کیا آپ بہار کی آب و ہوا دور رہ سکتے ہیں،یہاں کی فضائی آلودگی سے دور رہ سکتے ہیں،یہاں کی سڑک کی خستہ حالی سے آپ دور رہ سکتے ہیں،سڑکوں پر ٹر یفک کی بد حالی سے آپ بچ سکتے ہیں،سڑکوں اور گلیوں میں بہتے گندے پانی اور غلاضتو ں سے آتی بو سے بچ سکتے ہیں نہیں کیونکہ اکثر ہم نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے سیاسی لیڈر کی گاڑیاں ٹر یفک جام میں پھنسی نظر آتی ہیں۔اگر زیادہ بارش ہوجاتی ہے تو نیتا جی پائجا مہ اٹھائے نظر آتے ہیں ۔یہاں تک کہ معا ملہ اب تو چوری اور چماری تک پہنچ گیا ہے کئی بار ایسی خبریں اخبار کی زینت بنتی ہیں کہ فلاں نیتا جی کے بنگلے میں چوری ہو گئی ۔

سچ یہی ہے کہ سماج اگر بہتر ہوگا تو اس کے اثرات سب پر پڑ تے ہیں سچ مچ اگر ترقی ہوگی تو اس کا فائدہ سب کو ہوتا ہے اس لئے ہر ایک کو سماجی ترقی کی بات کرنی چاہئے۔اس لئے کہ انسان سماج سے جڑا ہوتا ہے بغیر سماج کے انسان کا جینا مشکل ہے اور بہتر سماج کی تعمیر کے لئے سیاست کے پل کو پار کرنا ہی پڑتا ہے ۔اس لئے سیاست داں ہوں یا سماج کا کوئی فرد سب کو یہی سوچنا ہوگا کہ بہار کی ترقی کیسے ممکن ہے کیسے یہاں کے مسائل حل ہونگے ۔کیسے یہاں کا تعلیمی نظام بہتر سے ہوگا ۔کس طرح سماجی ڈھانچہ مضبوط ہوگا ،کون سا لائحہ عمل یہاں کے صحت کے میدان کو بہتر سے بہتر بناۓگا ۔یہاں کس طرح صنعتی انقلاب لایا جا سکتا ہےتا کہ معیشت بھی بہتر ہو اور لوگوں کے اندر سے بیکار ی کا بھی خاتمہ ہو ۔

آج کل سب سے بڑا مسئلہ روزی روٹی کا مسلہ ہے کرونا کی وجہکر لاکھوں نوجوان جو بہار سے باہر رہ کر اپنی روزی روٹی کماتے تھے وہ واپس اپنے اپنے گاؤں یا شہر آچکے ہیں اور بیکار ی کی مار جھیل رہے ہیں ، پرا ئیوٹ اسکولوں کے ٹیچر فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ۔قدرت کی مار الگ ہےباڑھ سے ہزاروں ایکڑ کی فصل ہر سال تباہ ہو جاتی ہے سڑکیں تو بنتی ہیں مگر نالوں کے بہتر نظام نہیں رہنے کی وجہ کر سڑکیں بہت جلد گڑھے میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔اسکول تو موجود ہیں مگر پڑھنے پڑھانے کا ماحول نہیں ہے۔سرکاری ہسپتال تو ہے مگر مریضوں کو سہولتیں دستیاب نہیں ہیں ۔سرکار اور افسر ان تو پلاننگ کرتے ہیں مگر عوام کا تعاون نہیں مل پاتا ہے جیسے ابھی حکومت اور سرکاری کارندے کی بار بار ہدایتؤں کے باوجود سڑکوں پر زیادہ تر آبادی بغیر ماسک لگا ئے نظر آتی ہے سماجی دوری کے پر خیچے اڑا ئے جا رہے ہیں بازار ہو یا مذہبی مقامات کہیں ان باتوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا ہے چند لوگ ہی پا بند نظر آتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ سبھی کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا خیال رکھنا پڑیگا اور اپنے اپنے فرا ئض کو انجام دینا پڑیگا ،تبھی جاکر ایک بہتر بہار کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ اور بہار میں صحیح مانوں میں بہٙار کی فضا قائم ہو سکتی ہے ورنہ من در چہ خیالم فلک درچہ خیال والا معا ملہ ہوکر رہ جاۓ گا ۔

جہاں تک بہار کا تعلق ہے یہ اپنے اندر ایک تاریخ سمیٹے ہوئے ہے یہاں مہاتما بدھ اور گوتم جیسے انسانی دوست گزرے ہیں جن کی تعلیم انسانیت،انسانیت اور بس انسانیت پر مبنی تھی اور یہاں کی سر زمین سے مخدوم شیخ یحییٰ منیری رحمتہ اللّه علیہ اور خواجہ بختیار کاکی رحمتہ علیہ نے محبّت کا عام کیا ہے ۔گرو گو بند سنگھ جیسے انسانیت کے مینار کی جائے پیدائش ہے ۔یہاں کی خانقا ہیں آج بھی رشد و ہدایت کا کام انجام دے رہی ہیں ۔یہاں نالندہ ،پٹنہ ،مگد ھ ۔ویر کنور سنگھ آرہ جیسی یونیورسیٹیاں آج بھی موجود ہیں جو اپنی ایک درخشاں تاریخ رکھتی ہےاس سر زمین سے ہمیشہ اہل علم کا قافلہ نکلتا رہا ہے اور آج بھی پورے ملک میں یہاں کے ذہین طلبا و طالبات ملک کا نام روشن کر رہے ہیں ۔آج بھی یہاں سیکڑوں مدارس اور پاٹھ شالا ئیں موجود ہیں جو سماج کے اندر علم کی شمع کرنے میں نمایا ں کام انجام دے رہی ہیں ۔ہر بڑے بڑے شہر میں مشنر ریز اسکول قائم ہیں جو میعاری تعلیم مہیا کرا نے میں لگے ہوئے ہیں اور بہت سارے ادار ے سماجی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور ایمانداری کے ساتھ لگے ہیں اور سب سے بڑی بات کہ یہاں کے عام لوگوں کے اندر آج بھی محبّت اور اخو ت بھائی چارہ قائم ہے جو بڑی طاقت ہوتی ہے بس ضرورت ہے تو صحیح پلاننگ اور منصو بہ بندی کی الیکشن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے جہاں پر عوام کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے ۔الیکشن میں ایک ایک ووٹ کی قیمت ہوتی ہے اس لئے کہ ایک ووٹ سے سرکار بنتی اور بگڑ تی ہے اس لئے ہر ایک فرد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا ووٹ ایسی طاقت کو بڑھا نے کے لئے دیں جو بہار کی ترقی اور خوشحالی میں مدد گار ثابت ہو، نہ کے ذات ،برا دری ،اور مذہب کو سامنے رکھ کر دیں جسکی وجہ سے ووٹ کی اہمیت ہی ختم ہو جاۓ اور آپ کا ووٹ ردی کی ٹوکری میں چلا جائے ۔ہمارے سیاست داں کو بھی اپنے مفاد سے اوپر اٹھ کر بہار کی ترقی کے بارے میں سوچنا چاہئے اور ایک بہتر سرکار بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے ۔اس لئے کہ عام لوگوں کو ہر الیکشن سے ایک امید وابستہ ہوتی ہے اور وہ بہتر حکمرانی کے خواب دلوں میں سجا ئے رہتے ہیں یہی جذبہ انہیں ووٹ کی قطار وں میں کھڑے رہنے کے لئے مجبور کرتا ہے۔

امید و نا امید کی کشا کش پوچھئے دل سے

ہزاروں قافلے ٹھرے،ہزاروں قافلے گزرے!!