بدھ, 30, نومبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزبہارمیں بہارکے درمیان مسلم اقلیت کے ادارے خزاں رسیدہ،حکومت اورملت دونوں کے...

بہارمیں بہارکے درمیان مسلم اقلیت کے ادارے خزاں رسیدہ،حکومت اورملت دونوں کے لمحہ فکریہ

بہارمیں بہارکے درمیان مسلم اقلیت کے ادارے خزاں رسیدہ،حکومت اورملت دونوں کے لمحہ فکریہ

مولاناابوالکلام قاسمی شمسی،سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ

آج ہرایک زبان پریہی ہے کہ بہارمیں بہار ہے،بات صحیح ہے،یقینابہارمیں بہارہے،ہر طرف روڈکاجال بچھ گیاہے،گلیاں روشنیوں سے جگ مگ کررہی ہیں،لوگ گنگا کے کنارے ریورویلی کالطف لے رہے ہیں،کچھ دنوں میں بہارکے لوگ میٹروسے بھی لطف اندوزہوں گے،یہی نہیں ہرطرف امن وشانتی کاماحول ہے۔غرض بہارمیں بہارہی بہارہے،یہ ہم سبھی کیلئے فخرکی بات ہے،مگراس بہارکے درمیان مسلم اقلیت کے ادارے خزاں رسیدہ نظرآرہے ہیں،یہ بہار کی بہارکواپنی جانب متوجہ کررہے ہیں کہ آخرہماراکیاقصورکہ بہارکے درمیان بھی ہم پربہارکے اثرکے بجائے خزاں سایہ فگن ہے، مسلم اقلیت کے تمام ادرے اپنی خزاں پر افسوس کررہے ہیں اورانتطارمیں ہیں کہ کب ان پربہارکی بہارکارنگ چڑھے گا؟پٹنہ کے اشوک راج پتھ پرسائنس کالج کےمقابل میں مشہورادارہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ ہے،یہ ایک صدی کے سردوگرم کا ابھی بھی گواہ ہے،یہ بھی بہارکی بہارمیں خزاں رسیدہ ہے،اس کے شعبہ سینئرمیں پرنسپل سمیت4اساتذہ کام کررہے ہیں،جبکہ یہاں مولوی سے فاضل تک تعلیم ہوتی ہے،اس کے شعبہ جونیئرکے تمام اساتذہ سبکدوش ہوگئے،برسوں سے عہدے خالی ہیں،اس شعبہ کے بندہونے کی خبر شائع ہوئی توڈیپوٹیشن پراسکول کے کچھ اساتذہ کوبھیج دیاگیاہے،ابھی تک مستقل اساتذہ کی تقرری نہیں ہوئی،مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ ہی کے شعبہ جونیئر کے احاطہ میں عربک اینڈپرشین ریسرچ انسٹیچیوٹ واقع ہے،یہ مشہورادارہ ہے،اس میں صرف ڈائریکٹرہیں،پروفیسرکے تمام عہدے برسوں سے خالی ہیں،بغیرکسی پروفیسرکے یہ ادارہ چل رہاہے،ان دونوں کے علاوہ بہاراردواکادمی،گورنمنٹ اردو لائبریری،اردومشاورتی کمیٹی،بہاراقلیتی کمیشن اوربہاراسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈیہ تمام ادارے بغیرہیڈکے چل رہے ہیں،بہاراردواکادمی میں کئی برسوں سے تشکیل نہیں ہوئی،مستقل سیکریٹری نہیں ہے،کام کاج ٹھپ ہے،اردولائبریری میں مستقل صدرنہیں،صرف چنداسٹاف کام کر رہے ہیں،اردومشاورتی کمیٹی کی کئی برسوں سے تشکیل نہیں ہوئی،بہاراقلیتی کمیشن اوربہارمدرسہ بورڈکے چیئرمین کی مدت ختم ہوگئی،ابھی تک کمیشن اوربورڈ کی تشکیل نہیں ہوئی،یہ ہے بہارکی بہارمیں خزاں کاایک منظرنامہ،یہی نہیں،اردوکوہائی اسکول کے مانک منڈل سے نکال دیاگیا،اورنصاب میں اردوکو لازمی گروپ سے نکال کرایک نوٹیفیکیشن کے ذریعہ اختیاری مضمون کے گروپ میں شامل کردیاگیا،جس کی وجہ سے طلبہ کو اردوکی تعلیم سے محروم کرنے کی سازش کی گئی ہے،پرائمری اورمیڈل میں طلبہ کی شرط لگادی گئی ہے کہ طلبہ ہوں گے تو اردوٹیچردیئے جائیں گے،جبکہ محترم وزیر اعلی کااعلان آج بھی موجودہے کہ ہراسکول میں اردوٹیچربحال کئے جائیں گے،خواہ طلبہ ہوں یانہ ہوں،ٹیچرہوں گے، تبھی تولڑکے اردولیں گے،اس صاف اعلان کے باوجوداردوکے طلبہ کواردومادری زبان پڑھنے سے محروم کیاجارہاہے،تعدادکی شرط والے نوٹیفیکیشن کوواپس لینے کا مطالبہ کیاگیا،مگروہ واپس نہیں لیاگیا،اردو بنگلہ اسپیشل ٹی سی ٹی پاس امیدوار برسوں سے تقرری کے انتظارمیں ہیں،مگر ابھی تک ان کی تقرری پرغورنہیں کیاگیا، جبکہ اس میں ان کاکوئی قصورنہیں،ایسا سوالات کے غلط ہونے سے ہواہے،افسوس کی بات ہے کہ ان کوپاس کر کے پھرفیل قراردیاگیاہے۔
موجودہ وقت بہار کیلئے نہایت ہی اہم ہے،پھرسے مہاگٹھبندھن کی سرکاربن گئی ہے،نئی حکومت سے لوگوں کے پھرسے توقعات بڑھے ہیں،ایسے موقع پرلازم ہے کہ حکومت بھی توقعات پرکھری اترے اور ملت کے قائدین واردوکی تنظیمیں بھی اس پرکام کریں،خاص طورپرعزت مآب وزیراعلی اورنائب وزیراعلی دونوں حضرات سے اپیل ہے کہ مسلم اقلیت کے ادارے اوران کے مسائل پرخصوصی توجہ دیں،تاکہ بہارکی بہارکامنظرپورے طورپر دیکھائی دے،اللہ تعالی ان اداروں کی حفاظت کرے اورجلدبہارکیلئے راستہ ہموار کرے۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے