بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتبھاگ کھڑے ہوئےپیشہ ور بھکاری

بھاگ کھڑے ہوئےپیشہ ور بھکاری

بھاگ کھڑے ہوئےپیشہ ور بھکاری

"بچہ چور گاؤں میں گھوم رہے ہیں” یہ خبر آج کل ہمارے یہاں خوب گشت کررہی ہے۔عموما برسات کے موسم میں جھاڑیاں سڑک کے دونوں کنارے نکل آتی ہیں، اس طرح کی مختلف افواہیں ہر سال سننے میں آتی رہی ہیں، مگر اس بار ایک واقعہ نےاسے حقیقی روپ دے دیا ہے، ارریہ ضلع ہیڈ کوارٹر سے قریب ہی "ڈوریہ” نامی ایک گاؤں ہے،وہاں سے ایک بچہ اچانک لاپتہ ہوگیا ہے، بہت جستجو اور کھوج بین کے بعد بھی اب تک اس معصوم کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے،ڈوریہ گاؤں کی یہ خبر پچھلے دو مہینے سے ہر عام وخاص کی زبان پر ہے،
سوشل میڈیامیں بھی اس طرح کی خبریں گردش کررہی ہیں کہ کچھ لوگ فقیر کے بھیس میں گھوم رہے ہیں اور بچوں کو چرالے جاتے ہیں، مذکورہ واقعہ سے گویا اس کی تصدیق ہوگئی ہے، مزید تشویش بڑھ گئی ہے، بچوں کے والدین بے چین نظر آرہے ہیں،اور بچہ چوروں سے دو دو ہاتھ کرنے کو تیار ہیں، جہاں کوئی مشتبہ آدمی نظر آیا، وہیں وہ دھڑا گیا ،پہلے اس پر اپنا "ڈوریہ” گاؤں والا غصہ نکال لیا، پھر سوال وجواب کا دور شروع ہوتا ہے، تحقیق یہ ہوتی ہے کہ موصوف کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔یہ تو خود ہی مررہا ہے،اسے مارنا تو فضول ہے،
ع۰۰ کسی بےکس کو اے بیداد مارا تو کیا مارا
جو آپ ہی مررہا ہو اس کو گر مارا تو کیا مارا

آج سب سے زیادہ شامت تو پیشہ ور بھکاریوں کی آگئی ہے، یہ لوگ ہردن کہیں نہ کہیں پکڑے جارہے ہیں اور کوٹے بھی جارہے ہیں، یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے،ہر آدمی اس سے جڑا ہوا ہے، موبائل پر وہ بچہ چور دیکھ چکا ہے،تندرست آدمی ہے،ہاتھ پاؤں سے معذور نہیں ہے، ہاتھ میں تھیلی ہے،کندھے پر جھولی ہے ،ساتھ میں بچہ ہے،اچھا تو یہی بچہ چور ہے،دے دنادن۰۰۰۰۰
یہ معاملہ اب دوسراہی رخ اختیار کرگیا ہے، اب بچے تو نہیں چرائے جارہے ہیں بلکہ بچہ چورسمجھ کر ہرروز کہیں نہ کہیں سے ایسے گداگر پکڑے جارہے ہیں، اورخوب دھلے جارہے ہیں۔
آج بوچی گاؤں میں بچہ چور پکڑا گیا ہے،جھولی اس کے پاس سے ملی ہے، کل مدھیل میں بچہ چور کی پٹائی ہوئی ہے، اور اسے باندھ کر رکھا گیا ہے ، پرسوں گیاری گاؤں کی نہر پر بچوں کو بلارہا تھا،لوگوں نے دورسےدیکھ لیا تو بھاگتا بنا ،وغیرہ خبریں آرہی ہیں۔کوئی بھی مشتبہ اور مشکوک نظر آتا ہے،پکڑ لیا جاتا ہے، پہلے اس کی خوب دھنائی ہوتی ہے، پھر اس کی کوئی بات سنی جاتی ہے،سب سے زیادہ پیشہ ور بھکاری نشانہ پرہیں۔
پہلے ایسے لوگ جو بھیک مانگنے کے لیے عجیب وغریب حلیہ بنالیا کرتے تھے، ان کے دشمن صرف کتے ہوا کرتے تھے، وہ بھی صرف ان پر بھوکتے، بقول شاعر
ع۰۰ جز اور کیا کسی سے ہے جھگڑا فقیر کا
کتوں نے روک رکھا ہے رستہ فقیر کا
آج ان پیشہ ور گداگروں کو انسان سے پالا پڑا ہے جو بھوکتے نہیں ہے اور صرف کاٹتے ہیں،
یہی وجہ ہےکہ آج ہاتھ پاؤں والے یہ تمام بھکاری بھاگ کھڑے ہوئےہیں۔ گاؤں میں اس وقت کوئی سالم وتوانا اور صحت مند گداگر نظر نہیں آتا ہے، جبکہ ہمارے یہاں ضلع ارریہ واطراف میں روایت یہ رہی ہے کہ صبح ہوتے ہی پیشہ وربھکاریوں کی ہر جگہ ایک تعداد نظر آتی رہی ہے، گاڑیوں میں بیٹھ کر یہ لوگ گاؤں بھیک مانگنے جاتے، اس انداز شاہانہ کو دیکھ لگتا ہے بارات میں نکلے ہیں، یہ لوگ خود کو شاہ برادری سے منسوب بھی کرتے ہیں،شاہ یہ فارسی کا لفظ ہےاور اس کا معنی بادشاہ ہے،باوجود اس کے یہ فقیری کرتے ہیں، اوراسے اپنا آبائی پیشہ بتلاکر مانگنا اور لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرنا اپنا واجبی حق سمجھتے ہیں،
شمالی بہار کے سیمانچل علاقہ میں یہ برادری پائی جاتی ہے،ان کے پکے مکانات بھی ہیں، اور بہت سے مستغنی بھی ہیں، پھر کاسہ گدائی لیےپھرتے ہیں، خود کو مسلمان کہتے ہیں، حدیث شریف میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ اگر ایک آدمی جو مستغنی ہے اس کے باوجود وہ لوگوں سے دست سوال درازکرتا ہےتو وہ جہنم کی چنگاڑیاں اکٹھا کرتا ہے،
اسلام کی یہ باتیں ایسے سیاہ قلب والوں کے سمجھ میں نہیں آرہی ہیں،آج وقت اور حالات نے انہیں اچھی طرح سمجھادیا ہے کہ صحت مند ہوکر مانگنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے،
پیشہ ور گداگر یہ ملک کے لیے بھی تنزلی کا عنوان ہےاور ملت اسلامیہ کے لیے سب سے زیادہ شرم کی بات ہے، اس موضوع پر لوگوں نے فکر مندی ضرور دکھائی ہے،اورانہیں اس ذلیل حرکت سے روکنے کی کوشش بھی کی گئی ہے، مگر آئے دن پیشہ وربھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہی دیکھنے میں آتا رہا ہے، وعظ ونصیحت اور تقریر وتحریر سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے،
ع۰۰ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم ونازک بے اثر
مگر آج یہ روپوش ہیں، شاید اسی زبان کو سمجھتے ہیں، اس موقع پر ان پیشہ ور فقیروں کو کاروبار سے جوڑنے کا بہت ہی مناسب موقع ہے،جہاں بھی اپنی معلومات کے مطابق ان کی آبادی ہے، وہاں جاکر اس بات کی تحریک ضروری ہے، ملک میں ان پیشہ ور گداگروں کے ذریعہ اسلام کی غلط تصویر گئی ہے، آج کوئی غیر مسلم بھی بھیک چاہتا ہے تو وہ مسلمانوں کا حلیہ بنا لیتا ہے،گو یا بھکاری ہونے کے لیے مسلمان ہوناضروری ہے، ابوداؤد شریف کی حدیث میں وہ واقعہ موجود ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحت مند مانگنے والے انسان کو بھیک نہیں دی ہے بلکہ ان کے گھر کی چٹائی اور پیالے کی نیلامی کی ہے، اور اسی سے کلہاڑی خرید کر اس شخص کو محنت ومشقت سے روزی حاصل کرنے کی تعلیم فرمائی ہے، وہ شخص چند ہی دنوں میں خود کفیل ہوجاتا ہے،اسلام تو یہ کہتاہے۔

ہمایوں اقبال ندوی ارریہ
۱۹/ستمبر ۲۰۲۲ء

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے