بھاگوت کو صرف بیان تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ آرا یس ایس کے نظریات اور مقاصد کو تبدیل کرنا چاہئے۔ ایس ڈی پی آئی

69
نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیان کو آر ایس ایس ہی میں ایک بنیادی ایجنڈا کے طور پر بحث کیا جانا چاہئے۔بھاگوت کا دعوی صرف ایک بیان تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ آر ایس ایس کے نظریات، معاملات اور مقاصد میں بھی تبدیلی ہونی چاہئے۔ ایم کے فیضی نے بھاگوت کے اس دعوے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ “جو لوگ لنچنگ میں ملوث ہیں وہ ہندوتوا کے خلاف ہیں ” اور کہا کہ لنچنگ پورے ملک میں سنگھ پریوار کے ممبروں کا ایک عام معمول بن گیا ہے۔ ملک میں ہزاوں “گؤ رکشک سنگھ” سرگرم ہیں، جن کی بنیادی سرگرمیاں ‘گائے’یا ‘جئے شری رام ‘کے نام پر مسلمانوں پر حملہ، لوٹ مار اور ان کا قتل کرنا ہے۔ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ بھاگوت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ” اس خوف میں نہ پھنسیں کہ ہندوستان میں اسلام کو خطرہ ہے”۔ اس کو خود سنگھ میں جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے۔ بھاگوٹ گولوالکر کے ہندوتوا نظریہ سے بخوبی واقف ہیں جو سنگھ کے ممبروں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دشمنوں کی طرح برتاؤ کریں اور ان کو ملک سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ آرایس ایس کا یہ نظریہ سنگھ کے ممبروں کو آج بھی ان کے تربیتی کیمپوں، شاکھاؤں، لٹریچر اور تقاریروغیرہ میں پڑھایا جاتا ہے۔ آر ایس ایس کے ذریعہ ملک بھر میں اسلحے کی تربیت اور ذہن سازی کے کیمپ لگائے جاتے ہیں تاکہ آر ایس ایس کے کارکنان گولوالکر کے نظریات پر عمل درآمد کرسکیں۔ یہاں تک کہ ہندوتوا کی سیاست، مسلمانوں کے فرقہ وارانہ پولرائریشن کے گولوالکر نظریہ پر قائم ہے اورپھل پھول رہی ہے۔ لہذا، بھاگوت کو اب آر ایس ایس کے نظریات اور مقاصد کو تمام ہندوستانیوں کے جامع نظریات میں تبدیل کرنے اور ہرطرح کی نفرت، بغض اور جرائم کو ختم کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنے ہونگے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اختتام میں کہا ہے کہ ہندومسلم اتحاد اس ملک کی اصل طاقت ہے اور اس ملک کو وسیع اور متحرک تناظر کی بنیاد پر تعمیر کرنا ہے۔دھرم (مذہب) اور ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش اس ملک کی خوبصورتی کو ختم کردیتی ہے۔