بھارتی کشمیر میں قبائلی آبادی کے گھروں کو مسمار کرنے کا دائرہ مزید وسیع

35

475D8BCF D191 4CD0 83D7

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں محکمۂ جنگلات اور محکمۂ مال کے حکام نے گجر اور بکروال خاندانوں کے جنگلات کی اراضی پر تعمیر کچے گھروں کو مسمار کرنے اور انہیں بے دخل کرنے کی مہم کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔

اس مہم کا آغاز جموں و کشمیر کے گرمائی صدر مقام سرینگر سے 100 کلو میٹر جنوب میں واقع پہلگام حلقے کے لِدرو اور مامل نامی علاقوں سے کیا گیا تھا۔

کشمیر کے گجر اور بکروال قبائلی خاندان صدیوں سے ہمالیائی ریاست کےجنگلات کی اراضی پر تعمیر کچے گھروں میں، جنہیں مقامی طور پر ‘کوٹھے’ کہتے ہیں، رہائش پذیر ہیں۔

مہم کے دوران ایک کنبے کے لگائے گئے سیب کے سیکڑوں درختوں کو بھی کاٹ دیا گیا ہے۔

ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں خانہ بدوش کنبے موسم گرما کے آغاز پر اپنے مال مویشیوں سمیت جموں کے میدانی علاقوں سے وادیٔ کشمیر کے بالائی علاقوں کا رُخ کرتے ہیں اور یہاں پانچ سےچھ ماہ گزارنے کے بعد واپس جموں کے راجوڑی اور دوسرے میدانی علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں۔

یہ وادیٔ کشمیر کے ان بالائی علاقوں میں پتھر اور لکڑی کی بنی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ تاہم برف باری کے آغاز سے پہلے ہی وہ یہ علاقہ چھوڑ کر نسبتاً گرم علاقوں کی راہ لیتے ہیں۔

مسلم اکثریتی کردار کو تبدیل کرنے کی کوشش

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی مختلف حزبِ اختلاف جماعتوں اور سماجی و انسانی حقوق تنظیموں نے اس مہم کو غیر انسانی اور غیر اخلاقی قرار دے کر شدید احتجاج کیا ہے۔4

سابق وزیرِ اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ان علاقوں میں جاکر متاثرین سے یکجہتی کااظہار کیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ قبائلی خاندانوں کے خلاف یہ مہم ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی سر پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی مسلم دشمنی کی عکاس ہے۔ جس کا مقصد جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو تبدیل کرنا ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی ‘اراضی قوانین’ میں حال ہی میں کی گئی ترامیم اور نئی شقوں کا اندراج اور ایک کے بعد دوسرے نئے قوانین کا نفاذ بھی اسی مقصد کے تحت ہو رہے ہیں۔

بھارت کی وزارتِ داخلہ نے حال ہی میں جموں و کشمیر کے اراضی قوانین میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کر کے تمام بھارتی شہریوں کو وادی میں اراضی خریدنے اور دیگر غیر منقولہ جائیداد کا مالک بننے کا اہل بنا دیا ہے۔

اس کے خلاف احتجاج میں جہاں مختلف بھارت نواز سیاسی جماعتیں جو مقامی سیاسی اصطلاع میں بھارت کے مرکزی دھارے میں شامل جماعتیں کہلاتی ہیں، پیش پیش رہی ہیں۔

وہیں استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں نے نئے قوانینِ اراضی کو بھارت کی حکومت کی ان کوششوں کی تازہ کڑی قرار دیا جن کا مقصد ان کے بقول ریاستی عوام کو ان کی زمینوں سے بے دخل اور مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

اراضی قوانین میں ترامیم وقت کا تقاضہ

حکومتی عہدیدار ان الزامات کو رد کر چکے ہیں۔

بی جے پی کا استدلال ہے کہ اراضی قوانین میں رد و بدل کسی بھی شخص کو اپنی زمین اور جائیداد بیرونی افراد کو بیچنے کے لیے مجبور نہیں کرتا۔

حکام کے بقول جموں و کشمیر میں دہائیوں سے نافذ کئی ایک قوانین متروک اور امتیازی سلوک پر مبنی تھے اور انہیں بدلنا یا ان میں ترامیم کرنا وقت کا اہم تقاضہ تھا۔

‘معاملے کوانسانی ہمدردی کی بنیاد پر پرکھا جائے’

متاثرین میں شامل کئی افراد کا کہنا تھا کہ انہیں سیاست میں دلچسپی ہے اور نہ اس طرح کے الزامات یا جوابی الزامات سے کوئی سروکار ہے۔ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھا جائے۔

پہلگام کے مامل علاقے کے ایک شخص فردوس احمد نے بتایا کہ وہ جنگلات کی اراضی پر نسل در نسل آباد ہیں۔ اب انہیں طاقت کے زور پر بے دخل کیا جا رہا ہے اور یہ سوچے بغیر کہ ہم اس شدید سردی میں کہاں جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے گھروں کو اچانک اور بغیر کسی پیشگی اطلاع یا تنبیہ کے مسمار کیا گیا۔

عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد

متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ جنگلات کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ اور گھر تعمیر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے انہیں اس سلسلے میں باضابطہ نوٹس جاری کیے گئے تھے اور انہیں از خود یہ جگہ خالی کرنے یا اپنے دفاع میں جواب دینے کے لیے 10 دن کی مہلت دی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے اسے بالکل نظر انداز کر دیا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ محض جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔

ان کے بقول عدالتِ عالیہ نے جولائی 2019 میں حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ جنگلات کی اراضی پر ہر قسم کی تجاوزات اور قبضوں کا ہٹا دیں۔

محکمۂ جنگلات نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ جموں و کشمیر میں 64 ہزار افراد نے جنگلات کی 17 ہزار 704 ایکٹر اراضی پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

گجر طبقے سے تعلق رکھنے والے سماجی اور انسانی حقوق کے کارکن طالب حسین نے استفسار کیا کہ عدالت کے احکامات کی آڑ میں ظلم و جبر اور توڑ پھوڑ کی یہ تلوار صرف مسلم گجر اور بکروال طبقے ہی پر کیوں آزمائی جا رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ جموں خطے میں واقع جنگلات کی ہزاروں ایکٹر اراضی پر غیر مسلم بھی قابض ہیں۔ لیکن حکومت یا محکمۂ جنگلات نے تا حال ان کےخلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

قبائلیوں کی بے دخلی غیر قانونی عمل

ناقدین اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قبائلی خاندانوں اور دوسرے روایتی مکینوں کو جنگلات کی اراضی سے بے دخل کرنا اور ان کے گھروں کو مسمار کرنا، ایک غیر قانونی عمل ہے۔

ان کے بقول بھارت کے ‘فاریسٹ رائٹس ایکٹ مجریہ 2006’ کے تحت جنگلات کی حدود میں آباد قبائل یا شیڈول ٹرائبز کے حقوق کو نہ صرف تسلیم کیا گیا ہے۔ بلکہ کہا گیا ہے کہ وہ جنگلات کے ماحولیاتی نظام کی بقا اور استحکام کے لیے لازمی ہیں۔

فارسٹ ایکٹ مجریہ 2006 کے تحت ہر ایسے کنبے کو جنگلات کی ایسی چار ایکٹر اراضی پر مالکانہ حقوق حاصل ہیں جس پر اس نے 13 دسمبر 2005 کو کاشت کی ہو۔ بھلے ہی اس اراضی کو محکمۂ مال کے ریکارڈ میں جنگلات کی اراضی کے طور پر درج کیا گیا ہو۔

ان کبنوں کو سوائے لکڑی کے جنگلات میں پیدا ہونے والی ہر چیز باہر لے جانے کی بھی اجازت ہے۔ نیز وہ ان میں اپنے مال مویشی کو چرا بھی سکتے ہیں۔

تاہم حکام کہتے ہیں کہ فارسٹ ایکٹ مجریہ 2006 کا ابھی تک جموں و کشمیر میں اطلاق نہیں ہوا ہے۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ آئینِ کی دفعہ 370 کی وجہ سے بھارت کے وفاقی قوانین کو جموں و کشمیر میں براہِ راست نافذ نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ان کے بقول اب چونکہ یہ آئینی شق منسوخ کر دی گئی ہے تو جموں و کشمیر کے عوام بھی ایسے قوانین کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ متعلقہ حکام فاریسٹ ایکٹ کے ممکنہ اطلاق کے سلسلے میں پہلے ہی مرکزی حکومت کے رابطے میں ہیں۔

گجر اور بکروال قبائل کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فاریسٹ ایکٹ کے جموں و کشمیر پر اطلاق کے بارے میں فیصلہ آنے تک قبائلی کنبوں کے گھروں کو مسمار کرنے اور انہیں جنگلات کی اراضی سے بے دخل کرنے کی مہم روکی جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس پانچ اگست کو بھارت کی حکومت نے جموں و کشمیر کی آئین کی رو سے نیم خود مختاری کو ختم کرنے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے انہیں براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کا درجہ دینے سے پہلے ریاست میں رائج قوانین کے تحت ہر قسم کی اراضی اور غیر منقولہ جائیدادوں پر صرف اس کے پشتنی یا مستقل باشندوں کو ہی مالکانہ حقوق حاصل تھے اور وہی اسے بیچ اور خرید سکتے تھے۔

پاکستان نے بھی کشمیر کے اراضی قوانین میں رد و بدل کو یکسر رد کیا تھا اور کہا تھا کہ بھارت کی حکومت کا یہ اقدام انتہائی قابل مذمت اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، پاکستان اور بھارت کے مابین دو طرفہ معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔