جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتبڑھتی بے روزگاری 

بڑھتی بے روزگاری 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
نیشنل اسٹیٹکل آفس (N.S.O)قومی سطح پر پیداوار، روزگار اور دوسرے اعداد ووشمار رکھنے والا قابل ذکر ادارہ ہے، ترقیات سے جڑے تمام اعداد وشمار روزرو بینک آف انڈیا کے علاوہ اسی کے پاس محفوظ رہتے ہیں، حکومتی اور رزروبینک کی سطح پر پیداوار اور روزگار میں برابر بہتری کی بات کہی جاتی رہی ہے ، بعض مبالغہ آمیزی کرنے والوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ترقی کی شرح رکارڈ سطح پر پہونچ سکتی ہے ، اعلان یہ بھی کیا گیا کہ شرح نمو میں بہتری آئی ہے، اور یہ بیان کسی ایرے غیرے کا نہیں رزروبینک کے گورنر مسٹر داس کا ہے ۔
لیکن نیشنل اسٹیٹکل آفس کے اعداد وشمار گورنر مسٹر داس کے بیان کی نفی کرتے ہیں، ان اس او کے مطابق امسال نوجوانوں کے روزگار میں ۶ء ۲۲ ؍ فی صد کی کمی درج کی گئی ہے ، ۲۱-۲۰۲۰ء میں نوجوانوں کو پچیس لاکھ روزگار پہلے کی بہ بنسبت کم ملے، ان اس او کے مطابق ۲۰-۲۰۱۹ء میں ای پی ایف (امپلائز رپروویڈنڈ فنڈ) میں ۱۱۰۴۳۶۹۳ ؍ افراد شامل تھے۔ ۲۱-۲۰۲۰ء میں یہ تعداد گھٹ کر ۸۵۴۸۸۹۸؍ رہ گئی ہے ، اس طرح جو لوگ ملازم ہونے کی حیثیت سے ای پی ایف جمع کرتے تھے وہ پچیس لاکھ کم گیے، پینتیس (۳۵) سال سے کم عمر لوگ ۲۰-۲۰۱۹ء  میں اکانوے لاکھ تھے، جب کہ ۲۱-۲۰۲۰ء میں یہ تعداد گھٹ کر صرف ارسٹھ (۶۸) لاکھ رہ گئی ، این ایس او کی رپورٹ کے مطابق پینتیس سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں روزگار صرف بیس (۲۰) لاکھ رہ گئی ہے ۔ ۱۹-۲۰۱۸ء کے اعداد وشمار سے اگر موجودہ سال کا موازنہ کریں تو یہ معاملہ اور بھی سنگین ہوجاتا ہے، ای پی ایف جمع کرنے والے افراد میں کمی کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اتنے لوگوں کو ملازمت سے نکال دیا گیا۔
 حکومت اور ان کی ایجنسیاں اعداد وشمار میں دھوکہ دینے کی عادی رہی ہیں، جس کی وجہ سے حقیقی صورت حال عوام کے سامنے آنہیں پا تیں جب کہ نئی منصوبہ بندی، اور مشکلات پر قابو پانے کے لیے اعداد وشمار کا صحیح طور پر عوام کے سامنے آنا انتہائی ضروری ہے ، لیکن حکومت کو عوامی سطح پر سچ کی اشاعت سے اپنی ناکامی اور کِر کِری کا خطرہ رہتا ہے، اس لیے صحیح اعداد وشمار چھپا لیا جاتا ہے اور فرضی اعداد وشمار بتا کر واہ واہی لوٹنے کی کوشش کی جاتی ہے ، جو نہ عوام کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک کے ، صحیح اور سچی بات یہی ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح تیزی سے بڑھی ہے اور کوڈ کے بعد شرح نمو اور معاشی ترقی کا جو ذکر کیا جاتا ہے اس کی حقیقت پروپیگنڈے سے زیادہ نہیں ہے ۔
روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے