بدھ, 30, نومبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتبڑا فائدہ سمجھ میں آیاہے

بڑا فائدہ سمجھ میں آیاہے

بڑا فائدہ سمجھ میں آیاہے

جناب مفتی جمال الدین صاحب مظاہری کی دعوت پر باغ نگر گاؤں میں حاضری ہوئی ہے، موصوف” دارالمعارف اخوات المنور للبنات باغ نگر”کے بانی ومہتم ہیں، ماشاءاللہ یہ مدرسہ بچوں اور بچیوں سے بھرا پڑا ہےاور یہاں کی شدیدترین ضرورت ہے، باغ نگر شہر ارریہ سے دکھن سمت میں پندرہ کلومیٹرفاصلے پرواقع ہے،ندی کے کنارے آباد یہ گاؤں بہت خوبصورت ہے، زمین میں بڑی زرخیزی ہے، یہاں کی سبزیاں اور ترکاریاں ضلع ارریہ واطراف میں اپنی تازگی واچھائی میں مشہور بھی ہیں، گاؤں کے زیادہ لوگ کھیتی وکاشتکاری سے وابستہ ہیں، بڑے محنتی اورجفاکش ہیں،کھیتی باڑی پر زیادہ دھیان رکھنے والے ہیں اور وہاں تعلیم کی بڑی کمی ہے، دین کی بنیادی باتوں سےبھی ناواقف ہیں،
بڑی خوشی کی بات ہے کہ مفتی جمال الدین صاحب مظاہری کو یہ فکر دامنگیر ہوگئی ہے، مفتی صاحب جہاں بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے ادارہ چلارہے ہیں، وہیں عام لوگوں میں بھی تعلیم کے تئیں بیداری پیدا کرنے کےلیےفکر مند ہیں،ہر مہینے اپنے ادارہ کے وسیع وعریض احاطہ میں دینی مجالس قائم کررہے ہیں، ایک مجلس مردوں کے لیے ہوتی ہے تو وہیں دوسری مجلس ہر مہینہ خواتین کے لیے خاص ہے،واقعی یہ بڑی بات ہے، میری معلومات کے مطابق ضلع ارریہ واطراف میں کہیں بھی اس طرح کی منظم کوشش نہیں ہورہی ہے،بالخصوص خواتین میں مفتی صاحب کا کام قابل تقلید اور لائق ستائش ہے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے،
حدیث شریف میں یہ لکھا ہوا ہے ؛
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مرد حضرات ہی مستفید ہوا کرتے تھے، خواتین کو موقع کم ملتا تھا، اس بنا پر عورتوں نے درخواست کی کہ ہمارے لیےخاص دن مقرر فرمایا جائے،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے درخواست منظور کی اور ان کےوعظ وارشادکے لیے ایک خاص دن مقرر ہوگیا،(سیرت النبی جلد /۲ ص۱۴۰)

ناچیز کی حاضری مردوں کو مخاطب کرنے کے لیے ہوئی ہے، معلوم ہوا کہ اس سے قبل خواتین کی مجلس ہوچکی ہے، مفتی صاحب نے یہ بتایا کہ الحمد للہ اس کا بڑا فائدہ سمجھ میں آیا ہے،خواتین میں دینی معلومات کے حصول کی خاطربڑاذوق و شوق پیدا ہو گیا ہے،اورسماج میں تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے،ظہر کی نماز کے بعد دوگھنٹے تک خواتین کی دینی مجلس رہتی ہے، سوال وجواب کا بھی سیشن رکھا جاتا ہے، خواتین بے باکانہ انداز میں باری باری سوال کرتی ہیں، بہت سارے مسائل انہیں معلوم ہوتے ہیں، رسوم ورواج سے متعلق انمیں پھیلی بہت سی غلط فہمیاں دور ہورہی ہیں، یہ مجالس بہت ہی مفید ثابت ہورہی ہیں ۔نہ کوئی اشتہار ہے اورنہ کوئی اناؤنسنگ کی جاتی ہے،نہ چندہ اکٹھا کرنے کے لیے کمیٹی بنائی جاتی ہے اور نہ کوئی کوپن چھپتا ہے،مفتی غفران حیدر صاحب مظاہری ناظم مدرسہ نور المعارف دیا گنج ارریہ مرد حضرات کو خطاب کرنے حاضر ہوجاتےہیں، ہر مہینہ کی دس تاریخ کو بعد نماز مغرب تا عشاء یہ مجلس رہتی ہے، خواتین کو خطاب کرنے کے لیےکسی ایک معلمہ کی خدمت لی جاتی ہے،مستورات کے لیے ہر مہینہ کی پچیس تاریخ کوبعد نماز ظہر دو گھنٹے کے لیےدینی مجلس منعقد کی جاتی ہے، سبھی مرد وخواتین حضرات کوپہلے سےہی اس کی جانکاری ہے۔

ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، صحابہ کرام کے دو حلقے قائم تھے،ایک قرآن خوانی اور ذکر ودعا میں مشغول تھااور دوسرے حلقے میں علمی باتیں ہورہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں عمل خیر کررہے ہیں، لیکن خدا نے مجھ کو صرف معلم بناکر مبعوث کیا ہے، یہ کہ کر علمی حلقے میں بیٹھ گئے،(سیرت النبی ج/۲ص:۱۴۱)
مذکورہ بالا حدیث سے جہاں تعلیمی مجلس کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے،وہیں اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ تعلیمی مجلس کی افادیت تعلیمی اجلاس سے کہیں بڑھ کر ہے،یہ تعلیمی حلقے جہاں سیکھنے اور سکھانے کا عمل ہوتا ہے، ہر آدمی کو سوال کرنے اور پوچھنے کی اجازت ہوتی ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، علماء کرام جو وارثین انبیاء ہیں، آج اسی طرز پر کام شروع کرتے ہیں تواس کے ذریعہ سماج ومعاشرہ میں بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے،
مجالس نبوی میں شریک ہونے والے بدو اور دیہاتی بھی ہوا کرتے تھے اور بےباکانہ انداز میں سوال وجواب کیا کرتے تھے، اس سے علم کا ایک دریا بھی رواں ہوگیا ہے۔
آج بڑے بڑے اجلاس منعقد کئے جاتے ہیں،مگر فائدہ اور نتیجہ اس کا بڑا نہیں دکھ رہا ہے، تعلیمی بیداری کانفرنس سے بیداری نہیں پیدا ہورہی ہے،سیرت النبی کے اجلاس سے زندگی میں سنت رسول زندہ نہیں ہورہی ہے،عظیم الشان اجلاس عام کے نام ایک بڑی بھیڑ جمع ہوتی ہے اور مینا بازار لگ جاتا ہے،اسی بازار میں سنت وشریعت گم ہوجاتی ہے اور جلسہ کا مقصد بھیڑ کی نذر ہوجاتا ہے، کچھ صالح قسم کے مرد احباب وحضرات جو پنڈال کے اندر ہوتے ہیں، انہیں کچھ فائدہ پہونچ جاتا ہے مگر یہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔جہاں تک خواتین کی بات ہے تو یہ بیچاری محروم ہی رہتی ہیں،اشتہارات میں یہ تو ضرور لکھا ہوا موجود ہوتا ہے کہ” مستورات کے لیے پردے کا معقول نظم ہے”مگر ایک الگ پنڈال بناکر حالات کے رحم وکرم پر انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے،اکثر مقررین حضرات کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی ہے کہ سامعین میں خواتین بھی ہیں،نہ انہیں خطاب کیا جاتا ہے اور نہ خواتین سے متعلق ضروری باتیں پیش کی جاتی ہیں۔ان حالات میں جناب مفتی جمال الدین صاحب مظاہری واقعی قابل مبارکباد ہیں،
میرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھا
میرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۱۴/نومبر ۲۰۲۲ء

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے