بچپن کی 26 جنوری

27

تحریر :خورشید انور ندوی

26 جنوری 2021

بچپن کی 26 جنوری…..گاؤں کے مدرسے میں

کیا دن تھے.. پیارے نیارے.. 26 جنوری کا دن ہرسال گھوم پھر کر آتا ہے… اور جب تک دنیا رہے گی آتا رہے گا.. دن کہاں بدلتا ہے.. سورج کی پہلی روپہلی کرن سے اگتا ہے اور سرمئی شام ڈھلے تو مرجھا جاتا ہے.. اس کی اپنی کہانی یہی کچھ ہے.. ہر دن جیسی.. لیکن کچھ دن نے اپنی کچھ معنویت رکھی ہے.. کچھ قوموں اور کچھ ملکوں سے اس کا خاص ناطہ ہے.. اس کی صبح اور اس کی شام کچھ الگ سی ہے.. اس کے رنگ شوخ دلکش اور دلفریب ہیں.. کسی قوم کی امیدوں تمناؤں آرزوؤں اور حسین خوابوں کے دھنک رنگ اس دن سے گھل مل گئے ہیں.. جب پو پھٹتی ہے تو وہ عام سی صبح کی آمد نہیں ہوتی،، ایک نئی نوید ابھرتی ہے،، گزرے دنوں اور گئی رتوں کی گرد چھٹتی ہے اور اداس یادوں سے لپٹی تلخیوں کے باوجود ایک امید پھر جگتی ہے.. امید بہار نو دمیدہ.. پہلے جب ہم نے دنیا کم دیکھی تھی، بھید بھاؤ سے واقف نہیں تھے.. اور سب کو اپنا اور خود کو سب کا سمجھتے تھے تو 26 جنوری اور 15 اگست کا مطلب بھی کچھ الگ سا لگتا تھا.. ہوائیں، فضائیں، آس پاس، ارد گرد سب کچھ ایک جیسا لگتا تھا، بٹا بٹا کچھ نہیں تھا.. بڑی مسلم آبادی کا قصبہ میرا وطن تھا تو تہذیبی شناخت گہری تھی لیکن 26 جنوری کو یکجہتی اور یگانگت کا احساس تازہ ہوجاتا تھا.. اس موقع کی تقریب پر اساتذہ کرام تقریروں سے ایک ہونے کا سبق ملتا.. یکجہتی کی تعلیم ملتی.. پس منظر کے طور پر ملک کی آزادی کی تاریخ اور یگانگت کے ماحول کا خوب تذکرہ ہوتا.. ملک اور قوم کو اچھے پیغام دئے جاتے.. عزم و حوصلہ کی داستانیں سنائی جاتیں.. بین قومی اتحاد اور اس کی عظیم مثالیں یاد کی جاتیں.. اس دن محسوس ہوتا کہ ہم سیاسی سفر میں ہم سفر ہیں.. رات دیر گئے تک بڑی بہنیں ترنگا ہاتھ بناتی تھیں.. زیادہ تر سادہ کاغذ سے بناکر اس پر تینوں رنگ چڑھائے جاتے.. ہر گھر میں دو قسم کے جھاڑو ہوتے تھے ایک نرم موچھل دار اور دوسرا کڑی اور گھڑی تیلیوں کا، جس کی تیلیاں چھوٹے پرچموں کا ڈنڈا بنتی تھیں..اس وقت چین سے ہر چیز ہر رنگ ہر زاویہ اور ذوق کی درآمد نہیں ہوتی تھی، اب تو پوجنے کے لئے بھگوان بھی دشمن ملک سے آتے ہیں… ننھے ہاتھوں میں یہ پرچم تھامے جس دھج سے ہم بچے گھروں سے مدرسے کے لئے نکلتے تھے وہ شان راج پتھ پر فلیگ بردار ویر جوانوں کی پریڈ سے کم نہ ہوتی.. کچھ گاتے نکلتے اور مدرسے میں بچھی ٹاٹ پٹری پر کیا اجلاس سجتا.. کوئی دوسے تین گھنٹے کی تقریب ہوتی.. کوئی شیرینی اور تقریب اختتام پذیر ہوتی.. پھر ایک شان اور سرمستی کے ساتھ گھروں کو واپسی ہوتی.. ہمارے مدرسوں کی ہر قومی تقریب تمام سرکاری اسکولوں کی تقریبات کو مات دیتی.. ہمارے یہ قومی جذبے کے ساتھ منائی جاتیں اور دوسری جگہ وہ ملازمت کی خانہ پری ہوتی… سرد مہری اور دکھاوے کی اس سے بڑی دلیل کیا چاہئے کہ اب قومی تقریبات مناکر اس کی ویڈیوگرافی کراکر ضلعی انتظامیہ کو پیش کرنے کی ہدایت ہے.. وہ جذبہ اندرون، وہ احساس، وہ فخر و افتخار کہاں سے آئے..؟ یہ بھی کوئی انتظامی چیز ہے؟ ہمیشہ سے میں جہاں بھی رہا، مجھے اپنے گاؤں کے مدرسے کی یہ تقریب نہیں بھولتی اور آج بھی نہیں بھولتی…اور وہ جذبہ نہیں بھولتا.. اس کی تپش نہیں بھولتی.. اس بھٹی سے تپ کر نکلی حب الوطنی ہر چیز پر حاوی ہے.. یہی وجہ ہے کہ میں اپنے سے زیادہ محب وطن، ملک دوست اور قوم پسند کسی کو باور نہیں کرتا.. کسی شعبدہ باز کی دیش پریتا میری گھٹی میں پلائی حب الوطنی کی برابری کرہی نہیں سکتی.. میری حب الوطنی سے بڑی حب الوطنی کی ہر دعویداری پاکھنڈ، پاسنگ اور پردوشت ہے…ہندوستان زندہ باد، جہہوریت زندہ باد..