بنی اسرائیل، تابوت سکینہ اور ہیکل سلیمانی.

144

اثر خامہ: محمد معین الزماں
(ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ انجینئر شعبہ برقیات وخازن مسجد حسینی وجیے نگر کالونی حیدرآباد)
ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)

خطہ ارض پر ایک چھوٹا سا زمین کا ٹکڑا، جس میں اللہ رب العزت نے اتنی فضیلت بخشی ہے ،جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے، یہ مقدس سرزمین اور اس کے اطراف کے گرد و نواح جس پر بیشتر نبی اور رسول آئے، اور اللہ تعالی کی وحدانیت کا علم بلند کیا، اسی سرزمین میں دفن ہیں،اور اللہ تعالی کی کی حمدوثنا ء میں مشغول اور مصروف رہتے ہیں، اسی سرزمین کی ملکیت اور اقتدار کو لے کر دنیا کی تین بڑی قوموں میں جو یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں پر مشتمل ہے، بڑی بڑی جنگیں ہوئیں اور لاکھوں لوگ مارے گئے ۔
حدیث میں آیا ہے کہ قیامت سے قبل ایک بڑی عالمی جنگ ہوگی اور مسلمان امام مہدی اور حضرت عیسی کی قیادت میں فتح یاب ہوں گےاور قیامت قائم کی جائے گی ،اللہ تعالیٰ کے اس پسندیدہ خطہ ارض کا نام یروشلم یا جروشلم یا خطہ بنی اسرائیل یا فلسطین ہے، اسی سرزمین کی مختصر تعریف جاننے کے لئے ہمیں تاریخ کے تین ہزار سال پہلے کے پنوں کو پلٹنا ہوگا، حضرت ابراہیم علیہ السلام جب نمرود کی آگ سے فارغ ہوئے تب وہ اپنی بیگم بی بی سارہ اورحضرت لوط علیہ السلام اور اپنی امت کے ساتھیوں کے ساتھ اللہ تعالی کے حکم سے یروشلم کی طرف کوچ کیے ،ان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کا زمین پر اتاراہوا تا بوت سکینہ بھی تھا ۔
تابوت سکینہ کے بارے میں مختصراً عرض کرنا چاہوں گا،محدثین ،مفسرین اور مؤرخین کی روایت کے مطابق تابوت سکینہ لکڑی کا بنا ہوا ایک صندوق ہے ،جو چار فٹ لمبا،ڈھائی فٹ چوڑا ،اور ڈھائی فٹ اونچا ہے ،یہ بابرکت صندوق جس پر سونے کا کلس چڑھایا ہواہے ،اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی نسلوں کی رہنمائی اور رہبری کے لئے آسمان سے زمین پر اتاراتھا،یہ صندوق حضرت آدم علیہ السلام کی نسلوں کو ہدایتیں دیتا اور رہبری کرتا ،ان نسلوں نے اس صندوق کومقدس جانا اور دل وجان سے اس کی حفاظت کی ۔
یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہا اور تابوت سکینہ بنی اسرائیل کے بانی اور نبی حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا،روایت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے نبی اور بادشاہ اسی مقدس صندوق کو اپنے سامنے رکھ کر دعائیں مانگتے اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے ۔
الغرض یہ صندوق نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا ،حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس صندوق میں اپنا عصا ،تورات کی تختیاں ،ہارون علیہ السلام کے کچھ کپڑے من وسلویٰ اور دوسری متبرک چیزیں رکھتے۔
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے انتقال کے بعد قوم یہودنے جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی دوسری قوموں پر فضیلت دی تھی ،اور وہ اللہ تعالیٰ کی ان بے شمار نعمتوں کی منکر رہی تھی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کرامات اوراحسانات کے باوجود اس قوم نے بچھڑے کو خدا بنایا او رجادوگر سامری او راس کے پیروی کرنے والے کی پوجاکی،اور جب اللہ تعالیٰ نے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا،تو اس قوم نے موسیٰ علیہ السلام کو بطور شرارت اللہ تعالیٰ سے یہ پوچھنے پر مجبور کیا کہ اللہ تعالیٰ کو کس قسم کی گائے کی قربانی چاہیے ۔
الغرض جب قوم یہود کی مسلسل نافرمانی بڑھیں تو اللہ تعالیٰ کا عتاب نازل ہوا قوم عمالقہ جو ایران کے جنگجو قبائل پر مشتمل تھی بنی اسرائیل پر چڑھائی کردی ۔
ہزاروں یہودی اور بچے قتل کردئے گئے ،عورتوں کو لونڈیاں بنالیا،اس فاتح قوم عمالقہ نے لوٹ مار کی ،دولت اور عورتوں کو اپنے ساتھ لے گئے جاتے ہوئے انہوں نے طالوت سکینہ کوبھی اٹھالیا جس پر سونے کی کلس لگی ہوئی تھی ،اپنے ساتھ بابل لے گئے،قوم عمالقہ کو اس صندوق کے تقدس کاعلم نہیں تھا ۔
اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد حضرت شمویل علیہ السلام نبی اور حاکم بنے ان کی کوئی نر ینہ اولاد نہ تھی انہیں اس بات کی فکر لاحق ہوئی کہ ان کے بعد اس قوم کی اصلاح کے لئے کوئی حاکم نہیں ہے ،انہوں نے اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا کی ،وحی آئی کہ ایک بڑے شیشہ میں تیل بھر کر لگاؤ اور اس شیشہ کو اپنے محل کے آنگن میں رکھ دو جو کوئی شخص وہاں سے لے کر گزرے گا ،شیشہ سے تیل نکلے گا وہی تمہارا جانشین اورحاکم ہوگا۔
طالوت ایک غریب گھرانے سے تھے وہ اپنی حاجت لے کر حضرت شمویل سے ملنے گئے جب وہ وہاں سے گزرے تو شیشہ سے تیل ابل کر باہر گرنے لگا حضرت شمویل نے جب یہ دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے طالوت کو بنی اسرائیل کےحاکم بننے کی د عوت دی۔
حضرت طالوت نے فرمایا : میں نہ تو شاہی خاندان سے ہوں اور نہ ہی دولت مند بند ،کیوں کر بنی اسرائیل مجھے اپنا سردار بنائیں گی،لیکن شمویل اس پر اڑے رہے ،اس لیے کہ وہ حکم خداوندی کے منکر نہیں ہو سکتے تھے، اور طالوت کی جانشینی کا حکم جاری کردیا، قوم بنی اسرائیل سخت ناراض ہوئی ابھی کیوں کر ایک متوسط گھرانے کا شخص قوم کا سردار چن لیا گیا ،انہوں نے اللہ کے حکم کی نشانی مانگی ،ادھر قوم عمالقہ جس نے بنی اسرائیل کا لوٹا اور طابوت سکینہ کو اپنے ساتھ لے گئے تھے، انہیں اس صندوق کے تقدس کا علم نہیں تھا، انہوں نے اس پر چڑھا ہوا سونے کا پریت نکال لیا اور صندوق کوکباڑ خانے میں پھینک دیا تابوت سکینہ کی بے حرمتی سے عذاب الٰہی قوم عمالقہ پر نازل ہوااوروبا پھیلی ،لوگ دھڑدھڑ مرنے لگے۔
عمالقہ کے حاکموں نےنجومی بلائے ،نجومیوں نے بتایا کہ یہ سارا عذاب طابوت سکینہ کی بے حرمتی کی وجہ سے ہے ، پھر یہ طے پایا کہ ایک بیل گاڑی میں تابوت سکینہ کو رکھا جائے، اور شہر سے دور جنگل میں چھوڑ دیا جائے،چنانچہ یہی ہوا ،روایت ہے کہ فرشتےوہ صندوق لے اڑے اور اسے حضرت شمویل علیہ السلام کے محل میں پہنچا دیا، تابوت سکینہ پھر سے بنی اسرائیل کے فدیہ میں آ گیا تھا، اور بنی اسرائیل کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے کھلی نشانی تھی ،چنانچہ قوم نے طالوت کو اپنا سردار مان لیا اور حضرت شمویل نے اپنی لڑکی کی شادی طالوت سے کردی اور اس جہاں سے چل بسے۔
حضرت طالوت نے تقریبا چالیس برس خلوت کی ان کے دور کے آخری ایام میں، جالوت نامی ایک حکمران نے بنی اسرائیل یعنی یروشلم پر حملہ کردیا، جالوت ساتھ فٹ اونچا ایک انتہائ طاقتور سمجھا جاتا تھا، وہ ایک ساتھ دس آدمیوں کو اٹھا کر پھینک دیتا تھا، اس نے بنی اسرائیل کے لوگوں کو للکارا، اس کی فوج نے بنی اسرائیل میں تباہی مچا ئی،اور جالوت ایک ٹیلے پر کھڑا بنی اسرائیل کو للکار رہا تھا، اب بنی اسرائیل کی غیرت جاگ اٹھی،بیس سالہ دبلا پتلا نوجوان جالوت سے مقابلے کے لئے آگے بڑھا، یہ تھے داؤد علیہ السلام جو ایمان اور تقوی میں بھرپور، آگے بڑھا، داؤد سچے دین دار بندے تھے،جو غلیل چلانے میں ماہر تھے، قوم کی غیرت نے انہیں للکارا تھا،قوم کی ذلت برداشت نہ ہوئی،وہ اپنی غلیل لے کر نوک دار پتھر بھرے، اور جالوت سے مقابلے کے لئے میدان میں اتر گئے،جالوت اس دبلے پتلے بیس سالہ بچے کو دیکھ کر بہت ہنسا ،جالوت کی ہنسی رک نہیں رہی تھی ،داؤد علیہ السلام اس کے قریب پہنچ گئے اور غلیل چلادی ،جالوت اپنی ہنسی سے سنبھل بھی نہ پایا تھاکہ ایک نوکیلا پتھر اس کی پیشانی پر لگا اور سر کے اندر گھس گیا ،جالوت چکر کھا کر وہیں گر گیا، داؤد نے جالوت کی میان سے تلوار نکالی اور جالوت کا سرقلم کردیا،جالوت کی فوج یہ سب دیکھ کر جیسےہی مرگیا فوج میں بھگدڑمچ گئی اور سارے سپاہی بھاگئے ،اب داؤد ایک ہیرو کی طر ح ابھرے،طالوت خوش ہوئے اور قوم نے داؤد علیہ السلام کو اپنا حاکم یا سردار چن لیا، اس واقعے کا ذکر قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں مختصراً بیان کیا گیا ہے ،اور بائبل میں اس واقعے کاذکر پورےایک چاپٹر میں موجود ہے،اور حضرت داؤد علیہ السلام کو بنی اسرائیل کا سردار چن لیا گیا، اور ان کی تاجپوشی ایک اونچی چٹان پر کی گئی اور داؤد علیہ السلام رسول اور بادشاہ بن گئے ،یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ اسی چٹان کاایک چھوٹا سا سلاب پتھر ایک کرسی میں جڑ دیا گیا، اور وہ کرسی آج بھی لندن کے ویسٹ منسٹری لائبریری چرچ میں محفوظ ہے ، اس چرچ کے میوزیم میں رکھا ہوا ہے، داؤد علیہ السلام نے حکمراں بننے کے بعد سب سے پہلے یہ کام کیا کہ بنی اسرائیل کے چھوٹے چھوٹے قبیلوں کو متحد کیا، اور ایک بڑی عبادت گاہ بنانی چاہی، جس میں سارے بنی اسرائیل بروقت جمع اور مشترکہ ہو کر عبادت کر سکیں ، انہوں نے جگہ کابھی انتخاب کیا اور سنگ بنیاد رکھی گئی؛ لیکن قسمت نے وفا نہ کی اور حضرت داؤد علیہ السلام کا اچانک انتقال ہو گیا ،داؤد علیہ السلام کی اولادوں میں حضرت سلیمان آپ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے، وہ بہت نیک صفت اور بڑی سوجھ بوجھ کے انسان تھے، قوم بنی اسرائیل نے انہیں اپنا حکمران بنا لیا، حضرت سلیمان نے اپنی تخت نشینی پر اللہ تعالی سے دعا کی کہ انہیں وہ ساری قوتیں دے،جوکسی بادشاہ کو اب تک نہیں ملیں اور آگے بھی نہ مل سکے ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی، حضرت سلیمان علیہ السلام کو نہ صرف انسانوں بلکہ جنات، چرند، پرند، جانوروں، ہوا اور پانی کو بھی آپ کے تابع کر دیا، حضرت سلیمان علیہ السلام نے سب سے پہلے اپنے والد مرحوم کی خواہش کے مطابق ایک بڑی عبادت گاہ جس کے بڑے بڑے ستون ۔۔۔ کھڑے کیے گئے، ایک بڑی عمارت تیار ہوئی جسے ہیکل سلیمانی کا نام دیا گیا، Hebro زبان میں ہیکل کے معنی ایک بڑی عمارت یا عبادت گاہ کے ہیں ،اس عبادت گاہ کے ایک بڑے کمرے میں تابوت سکینہ رکھا گیا ،سارے بنی اسرائیل ہفتہ کے دن وہاں جمع ہوتے اور تابوت سکینہ کو سامنے رکھ کر عبادتوں اور اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کرتے ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک بڑی سلطنت قائم ہوئی جو اس وقت کی سب سے بڑی حکومت تھی ،حضرت سلیمان علیہ السلام نے تقریبا چالیس سال حکومت کی اور ان کی وفات کے بعد ان کی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے، بنی اسرائیل قوم شر اور فتنوں میں گرفتار ہو گئی،بنی اسرائیل قوم جس کی تربیت حضرت موسی نے کی تھی اور حضرت سلیمان نے نکھارا تھا، بے راہ روی پر چل پڑی ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد شیاطین اور جن آزاد ہو چکے تھے ،وہ انسانوں کو جادو سکھاتے تھے، اور آپس میں لڑاتے شہر بابل جو اب عراق کا شہر ہے، جادو کا گڑھ بن گیا تھا،شیاطین لوگوں سے یہ کہتے لوگو! سلیمان جادوگر تھے اور انہوں نے اپنے جادو کے زور سے جنوں اور دنیا کی دولت پر قبضہ کرلیا تھا اگر تم بھی جادو سیکھو گے تو حضرت سلیمان کی طرح اقتدارحاصل کرلو گے، ہر کوئی جادو سیکھنے لگا، اللہ تعالی لوگوں کو اس جادو کے زور سے نکالنے کے لیے دو فرشتے ہاروت اور ماروت کو اللہ تعالی نے انسانی شکل میں بائبل میں بھیجا، شروع میں تو وہ انسانوں کو جادو سیکھنے سے منع کیا ،لیکن وہ بعد میں بہک گئے، اللہ تعالی کا عذاب ان پر نازل ہوا ،اس واقعہ کا بھی سورہ بقرہ میں مختصرذکرہے، اور بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کا غضب نازل ہوا،۔۔ شہنشاہ جس کا نام ٹائٹس تھا ،ایک بڑے لشکر کے ساتھ یروشلم پر حملہ آور ہوا ایک لاکھ یہودی قتل ہوئے او رہیکل سلیمانی پوری طرح تباہ ہوا اور کھنڈربن گیا۔
رومی شہنشاہ ٹائٹس عورتوں اور بچوں کو غلام بناکر اور تابوت سکینہ لے کر چلا گیا، اس دن سے آج تک تابوت سکینہ کی تلاش جاری ہے، دو ہزار سال سے تابوت سکینہ غائب ہیں، محدثین اور مفسرین کا ماننا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام قیامت سے قبل تابوت سکینہ کو ڈھونڈ نکالیں گے ،۔۔۔اب بنی اسرائیل کمزور ہوچکی ہے، انہوں نے نقلی مقام شروع کیا ، بنی اسرائیل کا بڑا حصہ ایران، خطہ عرب اور پورے یورپ منتقل ہو گیا، یہ واقعہ تقریبا سات سو سال قبل مسیح کا ہے، اب یروشلم اجڑ گیا ،ہیکل سلیمانی کی باقیات آج بھی کھنڈر کی شکل میں موجود ہے، اس عمارت کی مضبوط دیوار جسے دیوار گریہ کہا جاتا ھے، آج بھی متبرک سمجھی جاتی ہے، یہودی وہاں زیارت کے لئے جاتے ہیں، اپنی پیشانی اس دیوار سے رگڑ کر روتے ہیں اور ہیکل سلیمانی اور تابوت سکینہ کی بازیابی کی دعائیں کرتے ہیں ،ان واقعات کے تقریباًپانچ سو سال بعد سر زمین بنی اسرائیل کی تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا، حضرت عیسی ابن مریم کی یروشلم سے تقریبا پچاس میل کی دوری بیت اللحم میں ولادت ہوئی پیدائش سے لے کر جوانی تک آپ دنیا کومعجزے دیتے رہے ،اللہ تعالی نےآپ کو رسول بنایا اور آسمانی کتاب انجیل آپ پر اتاری گئی، بنی اسرائیل کے حکمرانوں نے آپ کو جادوگر قرار دیاتھااور آپ کو صلیب پر لٹکا یا گیا ،اللہ تعالی کو یہ منظور نہیں تھا اللہ رب العزت نے آپ کو زندہ صحیح سالم آسمانوں پر اٹھا لیا آپ نے اللہ تعالی کی وحدانیت کی تعلیم دی،آپ کے مبلغین نے بڑی محنت سے عیسائی تعلیمات ساری دنیا میں پھیلا دی۔
حضرت عیسی علیہ السلام کے صلیب پر لٹکائے جانے والے واقعے کے تقریبا چھ سو پچاس سال بعد خطہ عرب منور ہو گیا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی آسمانی کتاب قرآن مجید آپ پر اتاری گئی آپ کو رحمت للعالمین کے لقب سے نوازا گیا معراج کی سعادت آپ کو یروشلم سے ہی ملی، اسلامی تعلیمات اور دین کی اشاعت میں مسلمانوں نے اسلامی فتوحات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا، خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں یروشلم فتح ہوا اور مسجد اقصی کا سنگ بنیاد رکھا گیا، بنو امیہ کے دور اقتدار میں مروان بن الحکم اور عبدالملک بن مروان کے دور میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر مکمل ہوئی، مسجد اقصیٰ کے درمیانی حصہ میں گنبد خضرا ہے اس گنبد کی تعمیر بنی امیہ نے کی، اور اس پر سونے کا طس چڑھایا گیا، ایک اندازہ ہے کہ اس میں تقریبا چالیس ٹن سونا استعمال ہوا، اکثر لوگ اسی گنبد کو ہی مسجد اقصیٰ سمجھتے ہیں جوصحیح نہیں ہے، یہ گنبد مسجد اقصیٰ نہیں مسجد اقصیٰ کا حصہ ہے، وقت گزرتا گیا حکومتیں بدلیں، بنی امیہ نے ٩٠ سال حکومت کی اس کے بعد سلطنت عباسیہ کا پانچ سو آٹھ سال کا دور رہا، مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا، تین براعظم ایشیا شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ مسلمانوں کے قبضے میں آیا، یورپ کے رومی شہنشاہ اور عیسائی مسلمانوں کی طاقت کو توڑنے اکھٹا ہوئے، یورپ کے چرچوں اور گرجا گھروں میں شرانگیز تقریریں کی گئیں، گیارہویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگجو کا آغاز ہوا، شروع کی دو بڑی جنگوں میں مسلمانوں کو کامیابی ملی، تیسری جنگ میں عیسائیوں کے لئے یروشلم فتح ہوا، لاکھوں مسلمانوں کا خون بہا، یہ گیارہ سو 99 کا واقعہ ہے، تقریباً اس وقت تک عیسائی کے قبضے میں رہا، پھر ایک مرد مجاہد سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگوں کے بعد بارہ سو ستاسی میں یروشلم پر قبضہ کیا، اور سلطنت فلسطین قائم کی بنی اسرائیل کا یہ خطہ ارض تقریبا ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے قبضے میں رہا۔
بنو امیہ اور بنو عباس کی تیسری بڑی مخلوط حکومت سلطنت عثمانیہ بارہ سو ننانوے میں وجود میں آئ ، ترک حکمران نے قریب چھ سو پچاس سال حکومت کی۔
انیس سو سترہ میں پہلی عالمی جنگ عظیم میں ترکی نے جرمنی جنگ کا ساتھ دیا،جرمنی جنگ ہار گیا، ترک حکومت یا سلطنت عثمانیہ جو اس وقت دنیاکی سب سے بڑی حکومت تھی، برطانیہ اور فرانس کے قبضہ میں آگئی ،یہودیوں نےپیسوں سے اس عالمی جنگ میں برطانیہ کی بہت مدد کی تھی، چنانچہ اتحادیوں نے یہودیوں کو اسرائیلی حکومت بنانے کا پروانہ دے دیا،اور1948 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد یروشلم اور اس کے آس پاس کے سارے علاقے یہودیوں کو دے دیا گیا، اور اسرائیلی حکومت وجود میں آئی ، بنی اسرائیل انتہائی چالاک مکار اور محنتی قوم ہیں، اللہ تعالی نے ان کے بارے میں سور ہ بقرہ میں فرمایا :“ یابنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم وانی فضلتکم علی العالمین“ اسرائیل آج ساری دنیا پر چھائے ہوئے ہیں، دنیا کی تقریباً ساری چیزوں پر ان کا قبضہ ہے اور اب وہ گریٹر اسرائیل بنانے اور مسجد اقصی کو گرا کر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں،
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی یہود کو ان کی اس ناپاک حرکت سے روکے اور مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھے آمین ۔