جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتبند آنکھ سے دیکھ تماشا دنیا کا محمد طاہر ندوی

بند آنکھ سے دیکھ تماشا دنیا کا محمد طاہر ندوی

بند آنکھ سے دیکھ تماشا دنیا کا
محمد طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر جھارکھنڈ

جدھر دیکھئے تماشا ہی تماشا ہے۔ کہیں سرکار بنانے کو لے کر تماشا ہے تو کہیں سرکار گرانے کو لے کر تماشا ہے۔ کہیں ای ڈی کا خوف پیدا کرکے تماشا چل رہا ہے تو کہیں سی بی آئی کے ذریعے تماشا دکھایا جا رہا ہے۔ ٹی وی چینلوں کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ آپ تماشائی فلم دیکھ رہے ہیں اور باہر نکل کر سماج کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ وہی فلم اور فلم کے اداکار باہر تماشا دکھا رہے ہیں۔ یہ تماشے آپ کو بھارت کی سرزمین میں ہی دیکھنے کو ملیں گے کیوں کہ اس سر زمین کے علاوہ ایسے تماشے دنیا میں ناپید ہیں ۔

کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا

ناپید ہیں یہ رونقیں اس خاک سے باہر

تماشوں کی شروعات سیاسی گلیاروں سے کرتے ہیں جہاں رنگ برنگ کے تماشے آپ کو دیکھنے کو ملیں گے۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا  ٹویٹ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” اپوزیشن صاف اور بھارتی جنتا پارٹی کا راج ہی ہمارا مقصد ہے ” اور آج ہمارے ملک کے جو سیاسی حالات ہیں اسے دیکھ کر لگتا بھی یہی ہے کہ موجودہ حکومت اپنے مخالفین کا بالکل صفایا کر دینا چاہتی ہے۔ اب آپ دیکھ لیجئے کہ پنجاب کے اندر سے اکالی دل کا خاتمہ ہو گیا۔ مہاراشٹر کے اندر شیو سینا کے دو ٹکڑے ہو گئے ۔ ادھو ٹھاکرے جو بالا صاحب ٹھاکرے کے بیٹے ہیں ، بی جے پی نے پارٹی کی کمان ان کے ہاتھ سے لے کر ایکناتھ شنڈے کو دے دی اور شیو سینا کے ایم پیز اور ایم ایل ایز ای ڈی کے ڈر سے کبھی اس پارٹی تو کبھی اس پارٹی کا چکر لگا رہے ہیں۔ مدھے پردیش کی سیاسی گلیاروں میں بھی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ بی جے پی کے شیو راج سنگھ چوہان یہ کہہ رہے ہیں کہ ” مدھے پردیش کی سرکار کو گرانا ہی تھا کیوں کہ یہ ہمارے پردھان منتری نریندر مودی کی ناک کا مسئلہ تھا اور ہم ان کی ناک کو کیسے کٹنے دیتے”۔ اب پردھان سیوک کی ناک اتنی اہمیت کی حامل ہو گئی ہے کہ اس کی خاطر سرکار بنائی اور گرائی جا سکتی ہے۔ بہار کی حالت بھی مردے پر فاتحہ خوانی سے کچھ کم نہیں ہے۔ بہار میں جنتا دل یونائیٹڈ پر لگاتار حملے ہو رہے ہیں تاکہ ان کا وجود ختم ہو جائے۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی سرکار ہے لیکن ایک کے بعد ایک ان پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔ ممتا بنرجی کی سرکار کو گرانے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں۔ متھن چکرورتی جیسے ضمیر فروش لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹی ایم سی کے 38 ایم ایل ایز ہمارے رابطے میں ہیں مطلب بالکل صاف ہے کہ خطرے کی گھنٹی ممتا بنرجی کے لئے کسی بھی وقت بج سکتی ہے۔
جھارکھنڈ کی سیاسی گلیاروں میں بھی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ پوجا سنگھل کے ذریعے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ گڑے مردے نکالے جا رہے ہیں تاکہ کوئی سراغ ہاتھ لگ جائے۔ بی جے پی کے ٹاپ لیڈر جھارکھنڈ میں ” آپریشن لوٹس ” کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ جس طرح مہاراشٹر میں آپریشن لوٹس کا جال بچھا کر شیو سینا کے وزیروں اور مشیروں کو پھنسایا  اسی طرح مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں بھی یہ جال بچھایا جا رہا ہے۔ بی جے پی ہر ایسی آواز کو دبا دینا چاہتی ہے جو اس کے خلاف اٹھے اور اس کی تازہ مثال شیو سینا کے قد آور نیتا سنجے راوت کی صورت ہمیں دیکھنے کو ملی۔ سنجے راوت بھاجپا مخالف بیان دینے میں سب سے آگے رہتے تھے اس لئے اس کو پاترا چال بھومی گھوٹالے میں جیل کا راستہ دکھا دیا گیا۔ اسی طرح کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو ای ڈی نے نیشنل ہیرالڈ کیس میں حراست میں رکھا۔ مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے پر راہل گاندھی کو دہلی پولیس اٹھا کر لے جاتی ہے۔ ایک کچرا اٹھانے والے کو صرف اس لئے اپنی پانچ ہزاری نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے کیوں کہ اس کے کچرے میں پردھان منتری اور یوگی جی کی تصویر موجود تھی ۔ ایک پرنٹنگ پریس کے مالک سمیت پانچ لوگوں کو صرف اس لئے گرفتار کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بائے بائے مودی کی ہورڈنگ بورڈ چسپاں کیا تھا۔ پارلیمنٹ سے سانسدوں کی برخاستگی بھی بڑے زوروں پر ہے ۔ مودی کے دور حکومت میں اب تک 139 سانسد معطل کئے جا چکے ہیں۔ دراصل یہ حکومت ہر ایسی چیز کو کچل دینا چاہتی ہے جو اس کے اور ہندو راشٹر قائم کرنے کے درمیان حائل ہو۔ اس ملک میں یہ تماشا بھی پہلی بار دیکھنے کو ملا کہ پارلیمنٹ کے معطل سانسدوں نے پارلیمنٹ کے باہر مہاتما گاندھی کی مورتی کے سامنے رات بھر احتجاج کرتے ہوئے جمہوریت کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کر دیا ہے۔ ایک طرف ایس ایس سی جی ڈی کے وہ طلباء جنہوں نے امتحان پاس کیا ، میڈیکل پاس کیا لیکن پھر بھی بھرتی نہیں ملتی ہے وہ ناگپور سے دلی پیدل مارچ کرتے ہیں اکسٹھ دنوں سے وہ پیدل چل رہے ہیں، ناگپور سے لے کر دلی تک ، جنتر منتر سے لے نتن گڈکری کے گھر کے باہر تک ہر جگہ احتجاج کرتے ہیں اور سرکار ایسے  نوجوانوں کے بارے کہتی ہے ہمارے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے ۔
دیش؛ مہنگائی ، بے روزگاری ، ناخواندگی کی لڑائی لڑ رہا ہے ، اپوزیشن جماعتیں اپنے وجود کے بقا کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور بھارتی جنتا پارٹی کے لوگ اپنے پرچار کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مہنگائی کو لے کر پورا ملک پریشانی کا سامنا کر رہا ہے لیکن وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن یہ کہہ رہی ہیں کہ بھارت سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت بنا ہوا ہے۔ اگر معیشت بڑھ رہی ہے تو لوگوں کو معاش کیوں میسر نہیں ؟ بے روزگاری کیوں بڑھتی جا رہی ہے ؟ یہ سوال بھی پوچھنا چاہئے تھا لیکن سوال تو یہ ہے کہ بلی کی گردن پر رسی کون باندھے اور کسے اپنی عافیت محبوب نہیں۔

دھوکا ہے ، نمائش ہے ، تماشا ہے گزر جا

یہ رونق بازار ، یہ دنیا ہے گزر جا

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے