” بلیک فنگس ”  (کہانی )۔ از قلم :۔شیبا  کوثر ( برہ بترہ آرہ ،بہار )انڈیا ۔

62
” بلیک فنگس ”  (کہانی )۔
از قلم :۔شیبا  کوثر ( برہ بترہ آرہ ،بہار )انڈیا ۔
میں  نماز  تہجد  سے  فارغ  ہو کر  اپنے رب کے ذکر و افکار میں  لگی ہوئی تھی ،رات کی تنہائیوں  میں عبادت کرنے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے ایک عجیب سی سر شاری روح پرور  وحدانیت  کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ۔ذہنی و قلبی تما زت کا ایک خوبصورت احساس ہوتا ہے ۔کچھ لمحے کے لئے دنیا وی  فکر سے ذہن آزاد ہو جاتا ہے ۔ہاں تو میں اپنے رب کے ذکر و افکار میں لگی ہوئی تھی ۔تبھی یکا یک رات کے سنا ٹوں  میں سامنے والے گھر سے چیخنے ،چلّانے ،رونے کی  آواز گو نجنے لگی ۔ میں نے ہر بڑا کر جلد بازی میں  جا ء نماز کوسمیٹا  ۔سیلیپر پیر میں ڈالتے ہوئے    خواب غفلت میں سوئے ہوئے جانِ عزہز شوہر کو   بے دار  کرنے لگی ۔
سونے دو نا یار !  کیوں  مجھ  پر یہ ظلم   ڈ ھاتی  ہو، نہ خود چین سے سوتی ہو نہ مجھے سونے دیتی ہو ،اس نے جھلّاتے ہوئے کہا ۔
“جب سے یہ چڑیل کرونا وبا ء آئ ہے  میں میٹھی نیند کے لئے ترس گیا ہوں  ۔ہم ڈاکٹر وں کی زندگی بھی خدمت خلق کے نام پر قربان ہو کر رہ گئی ہے ۔ہم ڈاکٹر س بھی انسان ہوتے ہیں ہمیں بھی آرام کی سخت ضرورت ہوتی ہے ،وہ بڑ بڑ اتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے موبائل کو اٹھا کر بٹن آن کیا ابھی تو رات کے ڈھائی بجے ہیں اور سحر خیز ی بھی نہیں ہوئی ۔پھر کون سی آفت  آن پڑی  جو یہ ستم ڈھا یا تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
دیکھئے نا شبیب !سامنے والے گھر سے مسلسل رونے،چیخنے ،چلّا نے کی آواز آ رہی ہے چلئے چل کر دیکھتے ہیں کیا بات ہے کون سی قیامت    آن پڑی اس گھر پر ۔پرسوں ندیم صاحب کے بیٹے حماد کی شادی تھی ابھی دلہن کو آئے ہوئے بارہ گھنٹہ بھی نہیں ہوئے ۔رات گیارہ بجے تک ہنسی مذاق زندگی سے بھر پور قہقہے کی آواز  ہمیں سنائی دے رہی تھی نجانے آدھی رات گئے کون سی قیامت آ گئی ۔۔۔۔۔۔کہیں کسی کی طبیعت خراب تو نہیں ہو گئی ۔۔۔۔؟
نہیں عمائرہ اسوقت ہمارا جانا وہاں  مناسب نہیں ،وہ بھی اس کرونائی وبا ء میں  نا با با نا میں نہیں جا سکتا  اور  نا  میں  تمہیں جانے دوں گا ۔جس کی ہمیں ضرورت ہوگی وہ خود آئے گا ۔ راجدھانی پٹنہ کی  حالت تو تم دیکھ  ہی رہی ہو کتنی ابد تر  ہے  روز بروز (covid_19) کے کیسز  بڑھتے ہی جا رہے ہیں ۔پھر ہماری سرکار نے لاک ڈاؤن کو بڑھا دیا ہے ۔عوام اسے ابھی تک مذاق میں لے رہی ہے ،شادی کے لگن کو لیکر سڑکوں پر ویسے ہی بھیڑ بھا ڑ رش دیکھنے کو مل رہا ہے اموا ت   ہو رہی ہیں،عوام خود کو چیت نہیں رہی ہے اسی وجہ کر موت کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے اب تو “بلیک فنگس ”  وہائٹ فنگس ،اور تو اور یلو فنگس ،نامی مہلک بیماری نے  لوگوں کے اندر ایک خوف و دہشت کا ماحول پیدا کر دیا ہے ۔
آج دن بھر پچاسوں  مریضوں کے آنکھوں کا ٹیسٹ کرتے کرتے اور لوگوں کو سمجھا تے سمجھا تے میں بہت تھک گیا ۔ذرا سا لوگوں کی آنکھ میں درد کی شکایت ہو رہی ہے وہ خود کو” بلیک فنگس ” کا مریض مان لے رہے ہیں ۔اور ہسپتال میں مریضوں کا ایک ہجوم سا لگ جا رہا ہے ۔
وہ شہر کے ایک جانے مانے ماہر چشم امرا ض کا مشہور  سیو ل سر جن ڈاکٹر  ہے اور اس کی بیوی  عمائرہ حسن بھی  شہر کی مشہور جانی مانی گا ئیونا لوجسٹ ہے ۔آج کل  دونوں میاں بیوی کی ڈیو ٹی شہر کے ایک سرکاری ہسپتال میں لگی ہوئی تھی ۔
اب دیکھئے نا شبیب !! (کو و ڈ  19) سے بچنے کیلئے اس کا واحد علاج و حفاظتی  تدابیر  ویکسین ہے ۔ہندوستان کے سائنسداں اور فارمہ زمرہ کے صنعت کاروں کی  تعریف کرنی ہوگی کہ اتنی کم مدّت میں ویکسین کو تیار کرنے میں وہ کامیاب ہوئے ۔اب عوام میں یہ افواہیں پھیل رہی ہیں کہ ویکسین کے لگوانے سے انسان کی زندگی محض دو سال تک ہی رہیگی ۔انتظامیہ اور محکمہ صحت مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ کسی بھی سطح پر کوئی مستفیض چھو ٹ نہ جائے اس کے لئے ہم ڈاکٹر وں کی پوری ٹیم اس مہم کو کامیاب بنا نے کے لئے دن رات کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔اور عوام کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ ویکسین لےکر خود کو بھی محفوظ کریں اور اپنے خاندان اور معاشرے کو بھی انفیکشن سے بچا ئیں ۔اس کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور محکمہ صحت بھی مسلسل کوشاں ہیں ۔
تمہارا کہنا بالکل صحیح ہے عما ئرہ!! کو وڈ  ویکسین کے تئیں لوگوں میں طرح طرح کی باتیں اور افوا ہیں پھیل رہی ہیں ۔ہمیں لوگوں سے مل کر ان کے خدشات کو دور کرنا ہوگا تبھی ہم سب کو یڈ انفیکشن سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اس لئے انفکشن سے بچاؤ کے لئے ویکسین کی
ڈوز لینا ضروری ہے ۔
ما ئی ڈیر  شبیب! آپ نہیں چلیں گے ہمارے ساتھ تو میں اکیلے ہی  جا رہی ہوں  حالات کا جائزہ لینے کہ کیا بات ہے ۔۔۔۔۔؟
ما ئی لوو نگ  بیوی !! ہم ڈاکٹرس بھی ایک عام انسانی شکل کے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ہم بھی ڈیوٹی کے فرا ئض نبھاتے نبھاتے کبھی کبھی کچھ  تھک سے جاتے ہیں یار سمجھا کرو  ۔آؤ پیار کے   اس بیش قیمتی لمحے کو مل جل کر ساجھا کریں ۔۔۔۔۔زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ۔۔۔۔۔کب سانسوں کی دوڑ کو یڈ کی نذر  ہو جائے یہ ہم نہیں جانتے۔۔۔۔۔؟” جو ہوگا انشااللہ رحمٰن صبح دیکھیں گے ۔تم بھی سارا دن تھک سی جاتی ہو ،اپنے ذہن کو زیادہ نہیں الجھاؤ ۔۔۔۔۔نہیں تو بیمار پڑ جاؤ گی ۔آؤ آ کر ریسٹ کرو ۔”شبیب بو لے ۔

“شبیب ایسا نہیں کہتے اللّه پاک آپ کو اپنی حفاظت اور اپنے حفظ و امان میں رکھے ،آمین ثمہ آمین ۔
شبیب  ہنستے ہوئے بولا ہماری جوڑی سدا  سلامت رہے اللّه پاک بچوں کی بیش قیمتی  دولت سے تمہاری گود جلد از جلد بھر دے ۔دونوں مل کر آمین یا رب العامین کہا ۔ان دونوں کی شادی بھی فرسٹ( کویڈ  19) کی لہر شرو ع  ہونے پر ہی ہوئی تھی ۔
صبح سویر ے یہ خبر ملی کہ ندیم صاحب کی نئی نویلی بہو حور یہ کی آنکھ میں کسی بچے کے ہاتھ سے زور کا جھٹکا لگنے سے آنکھوں میں درد کی شکایت ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آنکھ شدید لال ہو گئیں اور پلکیں بھی نیلی ہو کر سوج گئیں ۔رات دلہن کی آنکھ میں شدید تکلیف بڑھ گئی اور گھر کی خواتین اسے “بلیک فنگس “سمجھ کر چیخنے چلّا نے رونے لگیں ۔اس پر شامت ا عمال یہ کہ کل نئے نویلے دلہے میاں حماد اور دلہن حور یہ نے صدر ہسپتال میں جاکر کرونا ویکسین کا  انجکشن بھی لگوا لیا  تھا ۔شادی کی گہما گہمی کی وجہ سے کئی رات جاگنے اور ہرا سمینٹ  سے بیچارے حماد کی طبیعت خراب ہو گئی ،آچا نک سے اسے تیز بخار ،لوز مو شن اور وومیٹنگ کی شکایت شروع ہو گئی ۔آدھی رات کسی پرائیوٹ نرسنگ ہوم میں گھر والے ان دونوں کو لیکر گئے ۔خیر اب ٹھیک ہیں وہ دونوں ۔
“اففففف ہائے یہ وبا ئی زندگی ۔۔۔۔۔اس خوف کے سائے سے کب انسانی زندگی کو نجات ملےگی ۔دن رات ماسک منھ پہ سجا ئے ہوئے کبھی کبھی  گھٹن کا احساس ہوتا ہے ۔ڈاکٹر شبیب نے خفگی سے اپنی نیک صفت بیوی ڈاکٹر عمائرہ حسن کو گھورتے ہوئے دیکھا ۔جسکے دل میں بے لوث خدمت خلق کا جذبہ ہمہ وقت موجزن رہتا۔ ان دونوں میاں بیوی کے ملے جلے قہقہے کی  رم جھم پھوہار نے اس بوجھل فضا میں ایک تازگی بھرے احساس سے آشنا کیا۔۔۔!
(ختم شد ).
غیر مطبوعہ۔