جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتبروفات حضرت مولانا علی میاں ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ _حضرت مولانا...

بروفات حضرت مولانا علی میاں ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ _حضرت مولانا اور واحد متکلم

(۳۱؍دسمبر کو یوم وفات کی مناسبت سے)

حضرت مولانا اور واحد متکلم

( مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب ؒ )

  ازقلم :امیرشریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحبؒ

زندگی اس طرح گذری ہے کہ دن تاریخ تو دور کی بات ، سنہ وسال بھی یاد نہیں رہتے ، جو گذری گذرگئی ، وقت گذرجاتاہے اور گذر جانا وقت کا مقدر ہے۔ اپنا نامہ اعمال کبھی نہیں لکھا، جن لوگوں کو اپنے وقت اور اپنی قیمت واہمیت کا صحیح اندازہ ہوتاہے وہ ڈائری لکھتے ہیں، میرے پاس اہم واقعات کے نوٹس بھی نہیں ہیں۔ اس لئے اللہ کی مدد اور حافظہ کا یاراہے ،ویسے اللہ کا کرم ہے کہ جو حافظہ کی گرفت میں آگیا، اس کی رہائی آسان نہیں ہوتی۔

یاد آتاہے، مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے پہلی ملاقات ۱۹۵۹ء میں ہوئی تھی۔ برسوں برس پرپھیلے ہوئے حقائق، واقعات چھوٹے بڑے ، تلخ وشیریں، گفتنی ناگفتنی کو سمیٹنا بڑا مشکل کام ہے، کم وبیش چالیس برس کی واقفیت، تیس سال کے روابط ، بیس سال کا قرب اور کاموں میں میری عزیزانہ اور خادمانہ شرکت، پچھلے دس سال کا براہ راست عملی رابطہ اور دور قریب سے کاموں میں کچھ نہ کچھ ساتھ، نہ یہ مدت تھوڑی ہے نہ تجربے مختصر۔ س عرصہ میں بہت سے نرم گرم مرحلے آئے، قرب و بعد کی منزلیں بھی گذریں ، آج ماضی کے جھروکوں میں جھانکتاہوں، تو بہت سے نقوش مجسم ہوکر سامنے آجاتے ہیں ، انہیں لفظوں کا جامہ پہنادیا جائے تو خاصی کتاب تیار ہوجائے گی۔ چالیس سال کو کتنا ہی مختصر لکھئے چالیس صفحات تو چاہئے ، یہ تو داستان ہوگی۔ کچھ زیب داستان کو ملالیجئے، تو پھر تحریر کی طوالت مخل بھی ہوگی ممل بھی !

اسے جھیل بھی لیں تو بھی ان واقعات کا تذکرہ واحد متکلم کی شناخت بن جاتاہے ۔ جو واحد غائب کے پردہ میں نمایا ںہوتاہے۔ عقلمندوں کی پختہ رائے ہے کہ ’’حصول کامیابی‘‘ اور ’’رفع درجات‘‘ کا یہ عمدہ نسخہ ہے ۔ میرا احساس ہے کہ ’’ذکر اپنا‘‘ در حدیث دیگراں‘‘ بات اچھی تو ہے لطیف نہیں !۔ ویسے کسی مرکزی شخصیت کے متعلق لکھنے والے کی ذاتی واقفیت، مشاہدات او رمحسوسات کو قلم کی گرفت میںلایا جائے تو ہوگی کام کی چیز۔ مگر سامعین اور قارئین کی چیں بجبینی کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں ، ایسے مضامین مفید ہوتے ہیں، مگر ہر فائدہ مند چیز پسندیدہ بھی ہو یہ ضروری نہیں ہے۔اگر تھوڑی سی حکمت و تدبیر کو راہ دیجائے ، اور درد تنہا کو غم زمانہ جیسی چیز بنادیا جائے تو بھی دل سے دھواں اٹھے گا کہ ؎

ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات

کون بیکار یہاں ہے کہ سنے کام کی بات

مگر بھائی سلمان کا حکم ہے کہ لکھا جائے، سمینار کا تقاضہ ہے کہ لمحوں کو لفظوں کی زبان دیجائے، یادوں کے چمن سے کچھ پھو ل چنے جائیں ، اور چھوٹا سا گلدستہ سجا دیا جائے ، تاکہ ’’بوئے گل‘‘ سے محروم’’یادگل‘‘ کو ترس نہ جائیں ، حضرت مولانا نہیں ہیں، ان کی یاد نہ جانے کتنوں کیلئے سہارا ہے ۔ یہ یاد زندہ رہنی چاہئے، یہ زندہ رہے گی نظر کی روشنی کیلئے دل کو گرمانے اور تڑپانے کے لئے، مشکل وقت میں راہ نماکے طور پر!

حضرت مولانا کا اصل مشن اسلام کو سمجھانا تھا۔ زبان کے ذریعہ،قلم کے ذریعہ، نشان قدم کے ذریعہ، ! وہ اسلام کے ترجمان او ربزرگوں کے طرز و انداز کے عملی شارح تھے، اسلا م کی تعلیم و تفہیم ، تشریح و تبلیغ کیلئے انہوں نے ہزاروں صفحات لکھے، ان گنت تقریریں کیں، مختصر مجلسوں میں لوگوں کو متوجہ کیا، انہوں نے اپنی زندگی کو بزرگوں کی صحبت میں تپا کر، گرما کر ایسے سانچہ میں ڈھال لیا جو دوسروں کے لئے نمونہ تھی،

سادگی و پرکاری، بے خودی وہوشیاری ، آگہی و بے خبری، سیرابی و تشنہ لبی، چوکسی وسست روی، نہ ہر شخص میں برابر ہوتی ہے اور نہ ہر ایک مرحلہ میں یکساں ہواکرتی ہے ، الگ الگ موقعوں پر علیحدہ اوصاف کامناسب اور متوازن ظہور بزرگوں کی امتیازی خصوصیت ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے ان مرحلوں کے لئے شئون کا لفظ استعمال کیاہے، یہ شئون دوسروں کیلئے قیمتی مواقع ہوتے ہیں ، بزرگوں سے جو چیزیں لینے کی ہوتی ہیں ، لینے والے کیلئے قیمتی ہیں، اسی لئے بزرگوں نے کسب فیض پر بڑا زوردیا ہے۔ فائدہ اٹھانے کا ارادہ اور اس کی صلاحیت ضروری ہے ۔ چاہے یہ فطری ہویا حاصل کرلی جائے ۔ سورج کی روشنی اور چاند کی ضیاء پاشی تو سب کے لئے ہے مگر آنکھیں کھولنی ہونگی ، اس کی ذمہ داری سورج اور چاند پر نہیں انسان پر ہے ، روشنی کا حصول اور فیضان کا قبول فرد کی اپنی ہمت اور صلاحیت پر موقوف ہے۔

بزرگوں کی زندگی کے بہت سے گوشے ان کے شؤن ہیں، لوگوں کیلئے ان میں اپنی اصلاح اور صلاح کا خزینہ ہؤا کرتاہے۔ حضرت مولانا کی تحریر، تقریر اور ان کی زندگی کا مطالعہ اس جہت سے کیا جائے ، تو بڑا فائدہ ہوگا ۔ اس مطالعہ کی قریب تر مشاہدہ گاہ ذاتی زندگی کے واقعات و تجربات ہیں ، جن پر غور کیا جائے تو بڑے کام کے جوہر ملتے جائیںگے۔

حضرت مولانا علی میاں صاحب سے نیاز مندی کا شرف مجھے بھی حاصل رہا، بہت سی یادیں ہیں جو دل کی امانت ہیں ، جن کا دل میں ہی رہنا اچھا ہے ، بہت سی باتیں ہیں، جنہیں دوسروں تک پہونچایا جاسکتاہے، وضو ء سے ملی ٹھنڈ ک صر ف اپنے لئے ہوتی ہے ، اس کے نتیجہ میں جو استعداد پیدا ہوتی ہے ، اس سے دوسروں کو فائدہ پہونچایا جاسکتاہے۔

یا دآتاہے ۱۹۵۹ء کی بات ہوگی، حضرت مولانا اچانک گرمی کی ایک دو پہر میں خانقاہ رحمانی مونگیر تشریف لائے ، ہم لوگ بے خبر تھے، والد ماجدؒ نے فرمایا، آپ نے خبر نہ کی، حضرت مولانا نے جواب دیا کہ جھاجھا کا پروگرام تھا، اتنا قریب آکر خانقاہ حاضری نہ دیتا تو اپنے آپ پرزیادتی ہوتی، یہ ہمارے بزرگوں کی جگہ ہے ، ندوہ،خانقاہ رحمانی، جامعہ رحمانی سب حضرت مونگیری کے لگائے باغ ہیں ، یہاں ہم سبھوں کو عزیزانہ اور عقیدت مندانہ آنا چاہئے ، کوئی ڈیڑھ گھنٹے قیام رہا ہوگا، کھانا بھی کھایا ، خانقاہی دسترخوان پر کیا ملتا، مگر جو تھا، حاضر تھا، حضرت مولانا نے صبر و شکر کے ساتھ اسے جھیلا نہیں، ذوق وشوق کے ساتھ کھایا، پھر کتب خانہ رحمانیہ کی عمارت گھوم پھر کر دیکھی، اپنے والد ماجد کی بعض کتابوں کے بارے میں دریافت کیا، وہ کتب خانہ کی زینت تھیں، ان کے انبساط میں اضافہ ہؤا، کتب خانہ رحمانیہ کوئی بہت بڑا کتب خانہ نہیں ہے، مگر عربی فارسی اسلامیات کا قابل لحاظ ذخیرہ اس میں موجود ہے، اوپر کتب خانہ کا جاذب نظر ہا ل ہے، اور نیچے حوض پانی سے بھرا، سامنے مسجد، علم بھی عمل بھی، وضوء بھی نماز بھی، اذان بھی، ایمان کی پہچان بھی ! حضرت علامہ مناظر احسن گیلانی نے یہ خاکہ سنا تھا تو بے ساختہ فرمایا تھا جنت تجری من تحتہا الانہار۔ حضرت مولانا علی میاں صاحب نے فرمایا: کتب خانے بہت دیکھے ہیں، کتب خانہ رحمانیہ کی وضع دیکھنے والی ہے ، لگتاہے کہ ضرورتوں کو سامنے رکھ کر ہال کا نقشہ بنایا گیا ہے۔

یہ یادگار لمحہ گذر گیا، حضرت مولاناواپس ہوگئے ، مگر یادیں تازہ ہیں ۔ سادگی، بے تکلفی، اور بزرگوں سے تعلق او رعقیدت کا یہ نقش حضرت مولانا کی شخصیت کے ساتھ میرے دل میں گھر کرگیا۔

۱۹۶۱ء میں ایک طالب علم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخل ہؤا ۔ اس کی طالب علمی کے ذوق کو ندوہ میں جلاملی، اور اتنی خوشگوار طالب علمانہ یادیں ندوۃ سے وابستہ ہوگئیں کہ جب وہ ندوہ کا رخ کر تا ہے ، احساس کا سفر شروع ہوجاتاہے ۔ یادوں کا کارواں ٹھہر ی نگاہوں کے سامنے گذرنے لگتاہے اور طالب علمانہ زندگی میں تازگی آنے لگتی ہے، اسے ایسا لگتا ہے ندوۃ کی عمارتوں کی اینٹیں کچھ بتار ہی ہیں، ندوہ کے ذرے کچھ کہہ رہے ہیں ۔ حضرت مولانا مہمان خانہ میں سامنے کرسی پر جلوہ افروز ہیں ۔

چالیس سال پرانا نقش اتنا تازہ ہے جیسے کل کاہو یہ نقش۔بالکل تازہ ، حافظہ کی سلوٹوں کی گہرائی میں اتر تا چلا جاتاہے اور وہ طالب علم محسوس کرتاہے کہ طالب علمی کی چہل پہل اورجوانی کی ہمک خواب گرا ںسے انگڑائی لے رہی ہے ۔ اور آج وہی طالب علم شام زندگی کا مسافر آپ کے سامنے واحد متکلم ہے۔ ہاں تو۔ چالیس سال قبل کا یہ طالب علم ندوہ پہونچا حضر ت مولانا کو سلام کیا، انہوں نے دعائیں دیں، فرمایا: بڑاا چھا ہؤاآپ آگئے، ندوۃ اور خانقاہ کے تعلقات اورمستحکم ہوں گے، یہ جگہ آپ کی ہے، آپ کے دادا جان کا چمن ہے، آپ کو اپنے دادا جان اور والد محترم کے کاموں کو آگے بڑھانا ہے، ابھی تیاری کا مرحلہ ہے ، وقت کا پورا مصرف لیجئے، اور ہم لوگوں کو خدمت کا موقعہ دیجئے۔

اس مہمان خانہ کے کھلے صحن میں نہ جانے کتنی بار حضرت مولانا سے شرف نیاز حاصل ہؤا، اور آج جب ندوہ پہونچا، جانی پہچانی راہوں سے بہت آشنا قدم اسی صحن کی طرف بے تابانہ بڑھ گئے ، کرسیاں لگی تھیں ، مگر خالی خالی، میں کھڑا ہوگیا، کیا کہوں دل کی کیا کیفیت ہوئی ، لوگ آجارہے تھے ،مصافحہ معانقہ ہورہا تھا، لیکن ایک کسک دل میں تھی ، ہر چیز ادھوری ادھوری سی لگ رہی تھی ، ہر شئے میںکسی شئے کی کمی پارہا تھا ، احساس کو کیونکر چھپاؤں؟ حضرت مولانا نہیں ہیں تو

وہی میکدہ ہے مگر سونا سونا

وہی جام و مینا مگر خالی خالی

خدا ندوۃ کو آباد رکھے ، بڑا مرکز ہے یہ، اس کی مرکزیت سدا بہار رہے۔ آج بے پنا ہ کمی کا احساس تھا، جو دل کو کچوٹے جارہا تھا ، ماضی کے نقو ش ابھر رہے تھے ، مٹ رہے تھے ، چالیس سال پہلے سنے ہوئے حضرت مولانا کے الفاظ دل و دماغ میں گونج رہے تھے ، ’’کاموں کو آگے بڑھانا ہے وقت کا مصرف لیجئے، خدمت کا موقعہ دیجئے ، ‘‘ کتنا پیارا ہے یہ انداز، احساس ذمہ داری کو جگانے والا، کل یہ ہم عزیزوںکے لئے نصیحت تھی، آج وصیت ہے!

والد ماجد ؒ نے انہیں خط لکھا کہ آپ کو مونگیر آئے بہت دن ہوگئے ، زحمت فرمائے ، پروگرام بنا حضرت مولانا کے ہمراہ محترم مولانا رابع صاحب ندوی مولانا ابو العرفان صاحب ندوی بھی خانقاہ مونگیر تشریف لائے ، خانقاہ رحمانی میں استقبالیہ ہؤا، ٹاؤن ہال میں مشترک مجمع سے خطاب فرمایا، مونگیر میں تین دن قیام رہا، اس زمانہ میں ’’اذا ہبت ریح الایمان‘‘ تیار ہورہی تھی، سفروں میں عقیدت مندوں، شاگردوں، مریدوں کی بھیڑ میں ’’وقت کی حفاظت ‘‘ مشکل ہوتی ہے، مگر حضرت مولانا نے سفر میں بھی تصنیف وتالیف کا سلسلہ جاری رکھا، مجھ سے فرمانے لگے کہ ’’ مولوی نثار نہیں ہیں، کسی کو بلا لیجئے میں لکھوادوں۔‘‘ یہ لکھنے کا وقت ہے، اس لئے آمادگی رہتی ہے، لکھوادیتا ہوں تو وقت کا بہترین مصرف ہوجاتاہے، میں نے عرض کیا کہ یہ کام میں بھی اچھا کرسکتاہوں ، وہ لکھانے لگے اور اس کام کیلئے جو وقت تھا اتنی دیر حسب عادت حضرت مولانا لکھاتے رہے ،میں ڈکٹیشن لیتا رہا، سفروں میں بھی اپنے وقت کی پوری حفاظت فرماتے تھے، اور دوسروں کو متوجہ بھی کرتے تھے، ’’وقت ہی زندگی ہے، زندگی پیاری ہے تو وقت کی حفاظت کرنی چاہئے ‘‘ املا سے فراغت ہوئی، تو فرمانے لگے، آپ اپنے اوقات کا خیال رکھتے ہیں، ؟ میں نے عرض کیا۔’’ اپنے اوقات بس گذر جاتے ہیں ۔ اپنی اوقات کا خیال رکھتاہوں ‘‘ حضرت مولانا نے جملہ کا لطف لیا، اور کل ان کے استقبال میں جو دس منٹ میں نے کہے تھے، اس کی بڑی تحسین فرمائی ، یہاں تک فرمادیا کہ آپ کو زبان پر اس درجہ قدرت ہے، مجھے اندازہ نہ تھا، پھر مجھے متوجہ کیا، آپ بڑے عظیم دادا کے پوتا ہیں، بہت عظیم والد کا سایہ آپ پر ہے ، آپ کے دادا نے قلم سے بڑا جہاد کیاہے، آپ کے والد نے زبان سے بڑی خدمت کی ہے اور دونوں بزرگوں نے دل کی امانت کو امت کیلئے وقف کردیا ہے ۔ آپ میں بڑی صلاحیتیں ہیں، آپ کو دونوں کا امین بننا ہے۔ تحسین کرکے ، تعریف کرکے، حوصلہ بڑھا کر احساس ذمہ داری پید اکرنے کا یہ انداز حضرت مولانا کا خاص طریقہ تھا، یہ ہے تربیتی مرحلہ میں لوہے کو گرم کرنا پھر چوٹ لگانا۔

ایک بار رائے بریلی حاضر ہؤا۔ میں اوپر کی منزل میں ٹھہرا یا گیا، حضرت مولانا نچلی منزل میں رہا کرتے تھے، آخر شب کا سکون، ٹھہری فضاء ،میں اٹھا اور اپنے کار وبار میں لگ گیا، کچھ گھٹ گھٹ ہوہی جاتی ہے، آواز نیچے تک پہونچ گئی ، ناشتہ پر حضرت مولانا سے نیاز حاصل ہؤا، خلاف معمول فرمانے لگے ، مجھے آپ کی یہ عادت پسند آئی ، ان معمولات سے ہی زندگی زندگی بنتی ہے، پھر عجب انداز میں فرمایا: ’’کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی‘‘ تین چار بار اس مصرع کو دہرایا ، جیسے میرے دل کو اس مصرع کا امین بنانا چاہتے ہوں، پھر فرمانے لگے، آپ جانتے ہیں ، مجھے آخر شب کی چائے نہیں ملتی تو میں دن میں کچھ لکھ نہیں سکتا، چائے سے حضرت مولانا کی مراد تھی تہجد اور ذکر۔

حضرت مولانا کی زندگی میں جو سوز ودرد ہے ، تحریروں میں جو زندگی اور کشش ہے، تقریرمیں جو تاثیر ہے ، وہ اسی چائے کا نتیجہ ہے۔

خشک تاروخشک چوب وخشک پوست

ازکجا می آید ایں آواز دوست

زندگی بندگی کے سانچہ میں ڈھلتی ہے ، تو بصارت میں بصیرت آجاتی ہے ذہانت فراست سے جاملتی ہے ، خون پھینکنے والا دل نور کو پھیلانے والا دل بن جاتا ہے اورتجلیات ربانی کا مرکز ہوجاتاہے،پھرتحریرو تقریر میں تاثیر اور شخصیت میں کشش پیدا ہوجاتی ہے ، اور قدم قدم پر اللہ کی مدد ملا کرتی ہے۔

پانچ سال قبل کی بات ہوگی دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہمان خانہ میں خلاف معمول بعد مغرب طلب فرمایا، کہنے لگے آپ نے بڑوں کا کام سنبھال لیاہے، مجھے علم ہے کہ یکسوئی کے ساتھ آپ خانقاہ کے کام میں لگ گئے ہیں، آ پ نے وہ مسند آباد کردی ،خدا آپ کو شاداب رکھے گا، مجھے آپ کے خانقاہی نظام کی بھی اطلاع ہے ، بڑی دلجمعی کے ساتھ کام ہورہا ہے ، مداومت میں بڑی برکت ہے، کاموں میں تسلسل اللہ کو بھی بہت پسند ہے ،جوکر رہے ہیں کئے جایئے ۔ نسبت میں بڑی طاقت ہے، بزرگوں کی نسبتیں منتقل ہوتی ہیں ، پھر حضرت مولانا نے حدیث کا وہ ٹکڑا دہرایا ’’احب الاعمال عند اللہ ادومہا‘‘

ندوۃ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی عاملہ کی میٹنگ ہورہی تھی، میں رکن نہ تھا مگر شریک اجلاس تھا، یہ شرکت میری زندگی کی روایت بن چکی تھی، کوئی قانونی بحث آئی ، کئی بڑے قانون داں موجود تھے ، بحث میں میں نے حصہ لیا، حضرت مولانا کو میری گفتگو پسند آئی، انہوں نے شام کو والد ماجد ؒ سے فرمائش کی کہ ولی میاں کو رکن عاملہ بنانا چاہئے، انہوں نے فرمایا کہ وہ منظور نہیں کرے گا۔ حضرت مولانا نے اصرار فرمایا کہ میرے کوٹہ سے انہیں نامزد کردیجئے، مونگیر میں میرے نام عزیزی مولوی نیاز احمد رحمانی کا خط ملا، وہ بورڈ کے اس وقت آفس سکریٹری تھے، خط میں رکنیت کی اطلاع دی گئی تھی ، میں نے معذرت لکھ بھیجی، والد ماجد ؒ نے نہ مجھ سے کچھ کہا اور نہ میں نے اس سلسلہ میں کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس کی ، مہینوں کیا سال گذرگیا، ندوہ میں پھر عاملہ کی مجلس ہوئی ، کوئی بحث آئی، بات ذرا نازک تھی اور بحث کے دوران کچھ پرپیچ بھی ہوگئی تھی ، میں نے بحث میں حصہ لیا اور میری وہ گفتگو فیصلہ کن ثابت ہوئی، بعد عصرچائے پر حضرت مولانا نے والد ماجد سے فرمایا کہ دیکھئے رکنیت کیلئے ولی میاں کی نامزد گی کا میرافیصلہ کتنا درست ہے، آ ج کی بحث سے یہ بات اور صاف ہوگئی ، انہوں نے جواباً کہا کہ ولی نے عاملہ کی رکنیت سے معذرت کردی ہے ۔

حضرت مولانا ؒ نے بعد مغرب مجھے طلب فرمایا ،کہنے لگے آپ نے عاملہ کی رکنیت سے انکار کردیا؟ کیا مجھے اس کا حق نہیں کہ آپ کی رائے کے خلاف آپ کے بارے میں فیصلہ کروں؟ میں نے عرض کیا، کہ ’’حضر ت کی نظر شفقت کا ممنون ہوں۔ والد صاحب بورڈ کے جنرل سکریٹری ہیں، میں عاملہ کا رکن ہونگا تو ان پر انگلی اٹھ سکتی ہے ، میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے ان پر حرف آئے ، لوگوں کی زبان چلے گی ، اس وقت کوئی جواب نہیں دے گا، کام میں کرتارہا ہوں، آپ لوگ جب تک چاہیں گے، کرتارہوں گا، مگر رکنیت سے مجھے معذور سمجھاجائے‘‘ حضرت مولانا نے فرمایا کہ نسبی تعلق کوئی جرم یا کوئی عیب نہیںہے، اس تعلق کا پاس ولحاظ اللہ تعالیٰ کے دربار میں بھی ہے والحقنا بہم ذریتہم ‘‘ خاندان میں کوئی کام کا فرد ہے تو اسے آگے بڑھانا چاہئے ، ویسے میں نے آپ کی نامزدگی اس تعلق کی بناء پر نہیں کی، آپ کی صلاحیت کے پیش نظر میں نے فیصلہ کیاہے، کسی صاحب نے اعتراض کیا تو میں جواب دوں گا، مگر آپ کو عاملہ کی رکنیت قبول کرنی چاہئے ، یہ میرا فیصلہ ہے ،اور انشاء اللہ اس میں خیر ہے ۔

اپنی بات پر جم جانے کا یہ انداز میں نے پہلی دفعہ دیکھا، اور حضرت مولانا کا یہ رخ بھی سامنے آیا،کہ کس کو کب، کہاں، کتنا جمنا ہے۔ یہ تو فرد واحد کا فیصلہ ہوتاہے، لوگ چاہتے ہیں کہ یہ بھی ووٹ سے طئے ہو، ہمارا دل چاہتاہے اور بڑے بڑوں سے ہمارا خاموش مطالبہ ہؤا کرتاہے، کہ کام آئے ان کی صلاحیت، ان کا وزن، ان کی شخصیت ، ان کا ماضی وحال، مگر یہ کام طئے ہومیری رائے کے مطابق۔

۶؍دسمبر۱۹۹۲ء کو بابری مسجد شہید کردی گئی ، یہ کسی متنازعہ ڈھانچہ کا گرانا نہ تھا، ایک تاریخی مسجد کی تاریخی شہادت تھی، اگر جلیانوالہ باغ کا حادثہ برٹش امپائر کی بربریت کا سمبول ہے، توبابری مسجد کا حادثہ فرقہ پر ستوں کے نشہ طاقت کا اظہار جنون ہے، اور ظلم کی ایسی مثال ہے، جس کے دباؤ میں جمہوریت سسکتی ، بلکتی ،روتی نظر آتی ہے، اس حادثہ نے حضرت مولانا کو بڑا صدمہ پہونچایا، وہ انسانی قدروں پر بڑا یقین رکھتے تھے، اسی لئے ملک میں جب حیوانیت نے پرپکھنے نکالے، انہوںنے تحریک انسانیت چلائی ، جو شخص کسی گھر کی اینٹ کھسکتی ہوئی دیکھنا برداشت نہ کرے، اس کے سامنے خدا کے گھر کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے تو سونچئے اس کے دل پہ کیا بیتے گی۔ حضرت مولاناکی کسک اور تڑپ محسوس کرنے والی تھی۔ اس حساس مرحلہ میں بھی حضرت مولانا جگر تھام کرانسانیت کے علمبردارر ہے۔

یادش بخیر ! بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک کے مسلمانوںمیں احساس شکست ، مایوسی ، ناامیدی اورجذبہ انتقام کی جو چنگاری دبی دبی سی تھی، وہ اتنی دبی ہوئی بھی نہ تھی کہ نہ دیکھا جاسکے ، نہ سمجھا جاسکے ۔بورڈ کی عاملہ کے ارکان اور کچھ شخصیتوں کو ہدایت دی گئی ، کہ ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء سے قبل دہلی پہونچیں اور چند دنوں دہلی قیام کے ارادے سے آئیں، مرحلہ نازک، کان سب کے کھڑے، اکابر اصاغر سب پہونچ گئے، نشستیں ہوئیں ، ۷؍ دسمبر کو نشست جناب ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب کی سرکاری قیام گاہ پر ہوئی ، یوم شہادت پر کسی نے راجدھانی ایکسپریس میں دھماکے کئے اور پانچ راجدھانیوں میں بڑی احتیاط کے ساتھ ایسے دھماکے ہوئے کہ اس عظیم الشان سازش کے نتیجہ میں پانچ آدمی بھی مرے نہیں ۔ آج کل آتش گیر مادے اور دھماکوں کے قسم کی چیزیں دیہات شہر میں اتنی عام ہیں، کہ کوئی بھی نوجوان پورے ڈبہ کو نہ سہی چوتھائی کو تو آسانی سے اڑا سکتاہے، مگر پانچ دھماکوں کا اتنا مایوس کن نتیجہ بتاتاہے کہ یہ دھماکے ’’مصنوعی‘‘ قسم کے تھے ، میری اس وقت بھی یہی رائے تھی، اور آج بھی یہی سمجھتاہوں کہ یہ دھماکے اس لئے کرائے گئے ، تاکہ مسلم ذہنیت کی غلط تصویر ملک کے سامنے پیش کی جاسکے ۔ہر حال دھماکے ہوئے ، آج تک پتہ نہ چلا کہ کس نے کئے۔ ۷؍دسمبر کو بورڈ کی مخصوص میٹنگ میں لوگ اخباروں کے ساتھ پہونچے، اور ایک صاحب نے یہ خیال ظاہر کیا کہ یہ دھماکے مسلمانوں نے کئے ہیں ، ان کی مذمت ہونی چاہئے ، معزز ارکان نے انسانیت کے حوالے دیئے اور بتایاکہ مسافروں کو نقصان پہونچانا انسانی قدروں اور آداب سفر کے قطعاًمنافی ہے ۔ انسانی قدروں کی بات آگئی، تو حضرت مولانا نے اس تجویز کی تائید فرمادی ، میں اس تجویز کو قطعاً غیر ضروری سمجھ رہا تھا ، اور توبہ کی یہ قسم مجھے کبھی پسند نہیں آئی، میں نے اختلاف کیا اور کہا اولاً تو یہ دھماکے مسلمانوں نے کئے نہیں،دوسرے ریلوے حادثات پر تجویز پاس کرتے رہنا،بورڈ کا کام نہیں ہے۔فوراً تجاویز کا رجسٹر پلٹنے کی بات آئی ، کہا گیا کہ لاتور کے زلزلے پر تجویز پا س ہوئی تھی ،میں نے عرض کیا کہ پہلے یہ دیکھئے کہ کتنے فسادات پر تجویز منظور کی گئی ، مگر میری سار ی دلیل ناکام ہوتی نظرآئی ، اس وقت ارکان پر انسانی قدروں کا غلبہ تھا ۔ او رمیری رائے یہ تھی کہ جب حیوانیت کا ننگا ناچ ہورہا ہو، انسانی قدروں کے پیش نظر ایسی تجویز منظور کرنا بزدلی ہے، یوں بھی کمزوروں کی طرف سے معافی کا اعلان ’’عذرگناہ بدتراز گناہ‘‘ جیسی چیز سمجھی جاتی ہے، اسے طاقت والوں کے یہاں لگ بھگ وہی مقام دیا جاتاہے جو سکرات کی توبہ کا خدا کے دربار میں ہے!میں نے عرض کیا کہ اگر مان لیا جائے کہ یہ دھماکے مسلمانوں نے کئے ہیں، تو پھر یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ یہ دھماکے بورڈ کی تجویز کے پیش نظر ہوئے ہیں۔ حاضرین چونکے اور حضرت مولانا نے مجھے مخاطب کیا’’ ۔یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ‘‘ میں نے ادب کے ساتھ عرض کیا یہ تجویز منظور کی جاچکی ہے کہ بابری مسجد کی شہاد ت پر ری ایکشن ظاہر کیا جائے ۔ ہم لوگوں نے اس کی تفصیل وتشریح تو نہیں کی تھی ، ہر شخص کو اپنے طورپر ری ایکشن ظاہر کرنے کااختیارہے، ہم لوگوں نے کل کمرے میں چائے پی کر باتیں کر کے ری ایکشن ظاہر کیا، کچھ لوگوں نے کالے بلے سے بازو سجائے، کسی نے جلسہ کیا، کسی نے کچھ ۔اور میری یہ گذارش راجدھانی اکسپریس کے دھماکو ں سے زیادہ اثر دار ثابت ہوئی ، اور تجویز مذمت میںآئی گئی ہوگئی ، میں نے جو کچھ کہا تھا اس میں ملت کا مفاد پیش نظر تھا، مگر میر ی گذارش دور تک پہونچی، درباروں تک بات چلی گئی میری الجھنوںمیں اضافہ ہؤا اور خود حضرت مولانا پر اس گفتگو کے اثرات اگلی ملاقات میں بھی میں نے محسوس کئے !

یہ مرحلہ تھا قیادت کا ۔ اور قیادت کے میدان میں ہر قائد کا اپنا طریقہ ، اپنا مزاج اور اپنا انداز ہوتاہے ، کسی بھی شخص کو کسی مرحلہ میںکوئی بات قابل قبول نہ ہو، تو اس سے نہ شان قیادت متاثر ہوتی ہے اور نہ قائدکا اخلاص و عمل مشتبہ ہوسکتاہے، اختلاف رائے کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہئے ، جہاں ’’دماغ ‘‘ جمع ہوںگے وہاں اختلاف رائے ہونا فطری ہے ، چمن کا حسن ’’یک رنگی‘‘ میں نہیں’’ گلہائے رنگا رنگ‘‘ میں ہے، اس لئے اختلاف کو حسن آغاز کی حسین تمہید سمجھنا چاہئے، جس کے بعد حسن انجام کی امید ہوتی ہے !

حضرت مولانا کا اصلی میدان دعوت وتبلیغ اور تقریر و تحریر تھا، یہ وہ راہ تھی جسے انہوں نے نوجوانی میں چن لیا تھا، اور بڑی استقامت کے ساتھ وہ پوری زندگی اسی راہ پر چلتے رہے ، انہوں نے تحقیق برائے تحقیق کبھی نہیں کی، ان کی زبان و قلم نے سوتے دلوںکو جگایا اورجاگتے دلوں کو گرمایا، اسی لئے انہوں نے بزرگوں کی سوانح لکھی، دعوت و عزیمت کے سدا بہار پھولوںکا گلدستہ سجایا، یہ منتشرتھے تونگاہوں سے دور تھے، گلدستہ بنے تو سبھوں کی نگاہوں میں آگئے۔

ان کی شفقت وعنایت میرے حصہ میں آتی رہتی تھی ، اور جب بھی ندوہ یارائے بریلی پہونچتا، ایسی شفقت و محبت، اکرام واعزاز کا معاملہ فرماتے کہ میں شرمندہ ہوجاتا، ایک بار انہوں نے تاریخ دعوت وعزیمت کی ایک جلد یا پورا سیٹ مرحمت فرمایا ، جوانکی دعاؤں اوردستخط سے مزین تھا، بزرگوں کی سیرت ایک نئے انداز پر سامنے آئی تھی ، ماضی کے واقعات اور بزرگوں کے حالات انہوں نے بڑی محبت سے جمع کئے تھے، اسے پڑھ جائیے دل پر جو اثر ہوگا وہ تو ہوگا ہی، مجموعی تاثر یہ ابھر تاہے کہ حضرت مولانا نے مقدس ماضی کو پر امید مستقبل کی خاطر سجادیا ہے ، ایک موقعہ پر انہوں نے ’’سیرت بانی ندوۃ العلماء مولانا محمد علی مونگیری ‘‘ عنایت فرمائی ، اور یوں گویا ہوئے یہ ہندوستان کی عظیم علمی تحریک کی سرگذشت کے ساتھ آپ کے دادا جان کی سوانح بھی ہے، ایک قرض تھا، جسے ہم لوگوں نے ادا کردیا، پھر ایک لطیف جملہ ان کی زبان سے نکلا’’بضا عتکم ردت الیکم‘‘

گذشتہ ستمبر ۱۹۹۹ء کی بات ہے ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس ممبئی سے پہلے ان کی خدمت میں لکھنؤ حاضر ہؤا ،انہوں نے ، ’’کاروان زندگی‘‘ کی ایک جلد مرحمت فرمائی ، جو میرے لئے بالکل تازہ تحفہ تھا، اور فرمایا: ’’یہ ہدیہ ہے ‘‘ عرض کیا :’’ یہ آپ کی طرف سے ہدیہ بھی ہے ہدایت بھی !‘‘ یہ سنکر انہوںنے تبسم کیا، اور فرمایا ایسی تعریف آپ ہی کا حصہ ہے ، پھر فرمایا’’اس جلد میں آپ کا بھی تذکرہ ہے ، میں نے عرض کیا کہ حضرت ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس دفتر میں ہے۔

حضرت مولانا علیل تھے ، بستر پر تکیہ کے سہارے جلوہ افروز تھے ،دوسرے دن میری ان سے آخری تفصیلی گفتگو ہوئی ، جس میںمسلم پرسنل لا بورڈ کے انتخاب کے علاوہ مختلف امور پر مشورہ ہؤا، میں نے اجازت چاہی ،عنایت وشفقت کے ساتھ اجازت دی، اس ناکارہ کیلئے بڑے بلندکلمات فرمائے، دعائیں دیں اور فرمایا یہ آپ کے دادا جان کا لگایا ہؤا چمن ہے، یہاں آتے جاتے رہا کیجئے، دوچار دن قیام کی نیت سے آیا کیجئے ، آپ کا ندو ہ پر حق ہے اور ندوہ کا آپ پر حق ہے ، اس لئے آپ کا مستحکم رشتہ باقی رہنا چاہے ۔

مجھ پر عجیب کیفیت طاری ہوئی ، مجھے لگا جیسے وہ مجھ سے عہدلے رہے ہوں ، میری زبان صرف اتنا کہہ سکی، ’’انشاء اللہ ‘‘ دیر تک ان کی نگاہیں مجھ پر جمی رہیں، جیسے وہ آخری نگاہ ڈال رہے ہوں، اور وہ آخری نگاہ ثابت ہوئی۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے