برطانیہ اور یورپی یونین میں تجارتی معاہدہ طے پا گیا

43

کئی برسوں کے مذاکرات کے بعد برطانیہ اور یورپی یونین نے جمعرات کو بالآخر ایک تجارتی معاہدہ کر لیا، جس سے 2016 کے ریفرنڈم کے بعد برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے اقتصادی نقصان کو محدود کیا جا سکے گا۔

یہ معاہدہ لوگوں کے لیے موسم سرما کی تعطیلات کے دوران اور کرونا بحران کے ماحول میں ایک خوش آئند خبر بن کر سامنے آیا ہے۔

چار سالوں سے جاری طویل گفت و شنید کے بعد دونوں اطراف سے کئی نکات پر سمجھوتا کیا گیا اور یوں لندن اور برسلز پرخطر سرخ زون کے دہانے سے بچ گئے۔

یاد رہے کہ برطانیہ اس سال جنوری میں یورپی یونین سے باقاعدہ طور پر الگ ہو گیا تھا۔ البتہ اسے یورپی یونین کے ساتھ عوام کی آزادانہ نقل و حمل اور آزادانہ تجارت کو جاری رکھنے کے لیے اس سال 31 دسمبر تک ایک عارضی درمیانی مدت دی گئی تھی۔

یورپی یونین سے علیحدگی کے برطانوی حامیوں نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا اور وزیر اعظم بورس جانسن کی اس معاہدے کے حصول کے لیے کاوشوں کو سراہا۔

وزیر اعظم جانسن نے 900 بلیئن ڈالر کے اس معاہدے کو یورپی یونین کی طرف سے اب تک کیے گئے تجارتی معاہدوں میں عظیم ترین قرار دیا اور کہا کہ یہ برطانوی عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے۔

ادھر یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان درلیئن نے اس معاہدے کو منصفانہ اور متوازن قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور برطانیہ آب و ہوا اور سلامتی کے اہم امور پر بھی باہم تعاون کریں گے۔