بجٹ کی اٹیچی ہلکی یا بھاری شاہد عادل قاسمی ارریہ

53

بجٹ کی اٹیچی ہلکی یا بھاری
شاہد عادل قاسمی ارریہ
2021-22کا بجٹ پیش ہونا تھا،ملک کا ہر ذی شعور فرد منتظر رہتا ہے کہ وزیر مالیات کے طرف سے بہتر،مفیداور فرحت بخش بجٹ پیش کیا جائیگا،ہر شعبہ حیات سے منسلک لوگ اپنے لیئے آسانی ،سہولت اور ٹیکس کی تخفیف کی امید لیئے رہتے ہیں،سبھی جانتے ہیں کہ بجٹ کا اثر ہر جیب پر پڑتا ہے،اسلئے خاص انسان سے عام انسان تک بجٹ میں یہ دیکھنے کی جستجو لیے رہتا ہے کہ کیا سستا ہوا اور کیا مہنگا ہُوا؟
وزیر مالیات محترمہ نرملا سیتا رمن جی نے جس اعتماد اور آتم وسواش کے ساتھ ظاہری طور پر بجٹ پیش کیا ہے، اندرونی مطالعے سے ایسا کچھ ترقی بخش یاامید افزا نظر نہیں آیا،
چند صوبوں میں ہائی وے کا بڑا تحفہ دینے کا ضرور تذکرہ ہواہے، مگر زمینی سطح پر کب اور کیسے عملی جامہ پہنایا جائیگا ابھی کچھ بولنا قبل از وقت ہوگا ،مغربی بنگال میں 675کلو میٹر کا ہائیوے کا تحفہ ،تامل ناڈو میں 3500کلومیٹر کا تحفہ ،آسام میں 1300کلو میٹر کا تحفہ،کیرالہ میں 1100کلو میٹر کا تحفہ کہیں الیکشن کا پیش خیمہ تو نہیں ہے؟ اگر اثبات میں جواب ہے تو منشا ظاہر ہے اور اگر ترقی اور وکاس مطلوب ہے تو لائق ستائش،
چنئی اور ناگپور میں میٹرو نیٹ ورکنگ کا اضافہ،لداخ میں اعلٰی تعلیم کے لیے ایک سینٹرل یونیورسٹی کا قیام ،نجی اسکولوں اور ریاستوں کی مشترکہ کوشش اور تعاون سے سو فوجی اسکول کی تعمیرضرور خوش آئند اور قابل تعریف عمل ہے،مگر موبائل یا دیگر ڈیجیٹل سامانوں کی قیمتوں میں اضافہ،ڈیزل اورپٹرول کی داموں میں آئے دن کی بڑھوتری لائق افسوس بھی ہے،
سونا چاندی کے تاجروں اور گراہکوں کیلئے تھوڑی سی راحت بھرا بجٹ ضرور ہے،سونا پر جو اکسائز ٹیکس ساڑھے بارہ فیصد لگتا تھا گھٹ کر وہ ساڑھے سات فیصد ہوگیا،مگریہاں بھی جویلریوں کو دھچکا لگا ان کا مطالبہ چار فیصد کا تھا، جبکہ بجٹ میں ساڑھے سات فیصد ہی آیا، کسانوں کے ساتھ حق تلفی ہوئی ،زرعی بجٹ میں تخفیف کی گئی اور مزدوروں کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی منریگا اسکیم میں کٹوتی ہوئی اور بھی بہت ساری کمیاں اور خامیاں ہیں جو باعث صد افسوس ہے-
کورونا مہماری سے جہاں پورا عالم جهوجھ رہا ہے، وہاں ہندوستان بھی اپنی معاشی سسٹم سے کافی پریشان ہے،معیشت کی گراوٹ منہ کھول کر سب کچھ بتا رہی ہے،صحت کے تعلق سے ہر ملک فکر مند ہے،بجٹ میں نرملا جی نے بھی صحت پر اچھا خاصا توجہ دیا ہے،اس عالمی مرض سے نپٹنے کیلئے یقینا پیکیج میں کافی اضافہ کیاگیا ہے ،مگر دوسری روز مرہ کی ضروری اشیاء اور خوردونوش کے سامانوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے، بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ جٹل اور بوجھ بنا دیا گیاہے، بسا اوقات توایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے اثاثہ کو سرمایہ داروں کے لیے خاص طور سے وضع کردیاگیا ہے ،متوسط درجے کا تاجر،معمولی قسم کے لوگ،ملک کےکسان اور مزدور کیلئے اس بجٹ میں کوئی حصہ داری ہی نہیں ہے،روزگار کی بھی کوئی بات نہیں کہ بے روزگار لوگ آخر اپنی زندگی کیسے بسر کرینگے؟
بجٹ پرسبھوں کی نگاھیں اور امیدیں ٹکی رہتی ہیں ،مگر آج کا یہ بجٹ کافی مذبذب اور مایوس کن رہا،برسراقتدار پارٹیاں مدح سرائی میں مگن ہیں، تو حزب مخالف بجٹ کی ناکامیوں پر raap الاپ رہے ہیں،معشیات کے ماہرین بل کی خوبی اورکمی پر اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر رہےہیں، تو عام جنتا بجٹ کی پرواہ کیے بنا اپنی روزی روٹی کی تلاش لیے اپنی ترکیب سوچ رہے ہیں،
ملک کبھی بکنے نہیں دونگا والا فلک شگاف نعرہ اب ملک بکتا دیکھ رہا ہے،ان چھ سات سالوں میں ملک کی اکنامی ایسی ہوگی تصوّر بھی نہیں کیاجاسکتا ہے،ملک کا نظام اس قدر تیزی سے پرائیویٹ ایجنسیوں کے ہاتھوں ہوجائیگا وہم و گمان تک نہیں تھا،ملک کا معاشی نظام کیسے مستحکم اور مضبوط ہوگا اس پر حکومت کو کوئی جامع منصوبہ بنانا چاہیے _