بجٹ برائے مالی سال 21-22

65

تحریر :خورشید انور ندوی

1 فروری 2021 ء

آج وزیر مالیات شریمتی سیتا رمن جی کی طرف سے بجٹ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا.. اس میں شک نہیں کہ پیش کش پر اعتماد تھی.. ظاہر ہے مطلق اکثریت والی پارلیمنٹ اور لاابالی اپوزیشن کی موجودگی میں اعتماد یوں بھی آہی جاتا ہے.. جو اپوزیشن کئی کئی سال اپنا لیڈر نہ طے کرسکے، اور کرے بھی تو کولھو کے بیل کی طرح گھوم کر کرلے جس کا مرکزہ پہلے سے متعین اور غیر متبدل ہوتا ہے.. بجٹ تقریر اچھی تھی اور مرتکز تھی..الاپ کم تھا اور وضاحت زیادہ تھی لیکن بجٹ کو تاریخی صرف اس معنی میں کہا جاسکتا ہے وہ سال اور مہینہ کی ایک تاریخ یعنی 1 فروری 2021 کو پیش کیا گیا.. باقی اس میں “تاریخی” جیسی کوئی خو بو نہیں تھی.. بجٹ سے پہلے ہی اس کو حکمران جماعت اور اس کی میڈیا مداری ٹیم صدی کا بجٹ اور بے مثل، بےنظیر، اور معیشت کی سمت تبدیل کرنے والا قرار دینے لگی تھی.. اس لئے توقع بڑھ گئی تھی کہ ایسا ہی کچھ ہوگا.. مگر ہوا کچھ نہیں.. اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہوا کہ یہ ایک برا بجٹ ہے…

طویل مدتی اسکیم کے منافع پر جو ٹیکس پہلے سے عائد تھا اس کی تخفیف یا برخاستگی کی توقع تھی اور سرمایہ کاروں کا مطالبہ بھی تھا.. جس پر توجہ نہیں دی گئی.. انفرادی ٹیکس کی استثنائی حد میں اضافہ کی بہت امید کی جارہی تھی اس کو بھی تبدیل نہیں کیا گیا.. سینئر سیٹیزن کو ٹیکس سے استثناء 75 سال کی عمر میں دیا گیا جو بہت زیادہ پرکشش نہیں لگا.. خانگیانے کے عمل کو ایک مستقل پالیسی کے طور پر درج کرلیا گیا ہے جو اچھا یا برا ہو لیکن مستحکم اور واضح ہے.. پنشنرز کو کوئی اضافی راحت نہیں دی گئی ہے.. روزگار کے مواقع کا تذکرہ سرے سے ندارد ہے.. صحت کے شعبے پر کچھ توجہ دی گئی ہے.. تعلیم کے شعبے میں کچھ خاص نہیں کیا گیا.. انشورنس میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی حد 49٪سے بڑھا کر 74٪کردیا گیا ہے.. یہ سکٹر توسیع اور منفعت کے امکانات سے مالامال ہے، اس کو برابری کی مسابقتی سطح پر ہی رکھنا اچھا ہوتا.. بیرونی سرمایہ کاری کے لئے زیادہ کھولنا مناسب نہیں تھا.. کیونکہ مقامی سطح پر سرمایہ کا بہاؤ موجود ہے.. ہیلتھ انشورنس کو نئی ترغیبات کے دائرہ میں لانا بہتر تھا.. اس سال سے اعلی تعلیم خاص طور پر میڈیکل سائنس کی تعلیم کی فیس دوگنا ہوگئی ہے.. اور B کیٹگری کے طلبہ کی سالانہ فیس 14 لاکھ + 2 لاکھ (رہایش اور غذا) ہوگئی ہے.. ان کے لئے غیر سودی اور سبسیڈائزڈ قرض کی خصوصی مراعات کو بجٹ کا حصہ ہونا چاہئے تھا.. یہ بچے بڑی پتہ ماری کے بعد اس مرحلہ تک پہونچتے ہیں اور ان کی تعداد کوئی لاکھ تک ہے.. زراعتی پیداوار پر لاگت سے ڈیڑھ گنا قیمت کی بات کہی گئی ہے.. جو صحیح نہیں ہے.. لاگت بڑھ چکی ہے سبسڈی کم کی گئی ہے اور اقل ترین امدادی قیمت قانونی ضمانت یافتہ نہیں ہے، آج کسان اسی مسئلے پر طویل احتجاج کررہے ہیں.. 2013 کی مختص امدادی رقم کا موازنہ 2021 کی رقم سے کرنا مضحکہ خیز ہے.. زرعی رقبہ میں اضافہ اور مشینریز کے زائد استعمال سے زرعی پیداوار میں اضافہ پر اگر یہ رقم تقسیم کردی جائے تو سارا حساب کتاب الٹ جاتا ہے.. کارپوریٹ سکٹر کو بجٹ پسند آیا ہے.. اور آج نفٹی اور سنسکس اونچائی پر گئے ہیں.. حساس اشاریہ میں 2300 پوائنٹ کا تیز رفتار اضافہ ہوا، جس کو وزیراعظم صاحب نے اپنی تقریر میں کوٹ بھی کیا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پچھلے پانچ ٹریڈنگ سیشن میں 2500 پوائنٹ گنوا بھی چکا تھا جس کو اس نے بازیاب کیا ہے.. کووڈ کے بعد ساری دنیا کی معیشت نئی سمت کی طرف بڑھ رہی ہے اور ہرجگہ بہتری دیکھی جارہی ہے، ہم بھی دنیا سے الگ نہیں ہیں.. 34.5 لاکھ کروڑ کے بجٹ میں خسارہ 12 لاکھ کروڑ کا ہے جو قرض لے کر پورا کیا جائے گا.. 9.5٪ کا مالیاتی خسارہ ہے اور اتنا ہی متوقع قومی آمدنی کا فروغ ہے.. جو بین الاقوامی غیر جانبدار ریٹنگ اداروں کے اندازے سے بہت زیادہ ہے.. بجٹ برا نہیں ہے تاہم تاریخی کہے جانے کا مستحق بھی نہیں ہے.. آپ کا منہ کچھ کڑوا ضرور ہوگا کیونکہ پٹرولیم مصنوعات پر ٪cess 4 بڑھا دیا گیا ہے جو خصوصی اضافی ٹیکس ہوتا ہے اور پورے کا پورا سنٹرل پول میں جاتا ہے اور اس میں ریاستوں کی حصہ داری نہیں ہوتی.. بہرحال شریمتی سیتا رمن جی شکریہ کی مستحق ضرور ہیں کہ انھوں نے نئے ٹیکسز لگا کر مرے کو سو درے تو نہیں مارے..