جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزبجلی ترمیمی بل 2022 میں کیا ہے خاص ؟کیوں ہورہی مخالفت؟ جانئے...

بجلی ترمیمی بل 2022 میں کیا ہے خاص ؟کیوں ہورہی مخالفت؟ جانئے ماہرین کی آراء تحریر: ڈاکٹر سیما جاوید

بجلی ترمیمی بل 2022 میں کیا ہے خاص ؟کیوں ہورہی مخالفت؟ جانئے ماہرین کی آراء

تحریر: ڈاکٹر سیما جاوید
ترجمہ: محمد علی نعیم

حال ہی میں مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں معیشت کی ترقی کے دعوے کے ساتھ بجلی ترمیمی بل 2022 پیش کیا
نیز وزیر توانائی آر کے سنگھ نے اس بل کو بحث کے لئے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجنے کی درخواست کی ہے
حکومت کا کہنا ہے کہ اس بل سے پاور سیکٹر میں کمپٹیشن کو فروغ ملے گا اور بجلی کے نظام میں بہتری آئے گی، اس بل کے نفاذ کے بعد صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار ہوگا، نیز ڈسٹری بیوشن کے شعبے میں پرائیویٹ کمپنیوں کے آنے سے سپلائی بہتر ہوگی

بل کے اہم نکات
حکومت ہند نے بنیادی بجلی ایکٹ میں کل دس ترمیمات کی تجویز پیش کی ہے
جو درج ذیل شامل ہیں:
الیکٹرسٹی ایکٹ 2003 کے سیکشن 14 میں ترمیم کرتے ہوئے تمام لائسنس داروں (بشمول پرائیویٹ کمپنیوں) کو ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
نجی پاور کمپنیوں کو بجلی تقسیم کا لائسنس حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔
مرکز کے پاس بجلی ریگولیٹری کمیشن کی تشکیل کے لئے سلیکشن کمیٹی کا اختیار ہوگا۔
ڈسٹری بیوشن کمپنی کی جانب سے بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں بجلی کی فراہمی منقطع کر دی جائے گی۔
ان ترمیمات کی وجہ سے صارفین کو اپنی پسند کی کمپنی سے بجلی حاصل کرنے کا اختیار ہوگا
اس کے علاوہ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے کی شرح میں اضافہ کرنے اور دفعہ 142 میں ترمیم کرنے کا بھی نظم کیا گیا ہے
‘متعدد لائسنس دہندگان’ کا نظم کیسے کیا جائے گا؟
جو چیز اس بل کو خاص بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اس بل میں ایک سیکشن شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ اگر کسی علاقے میں ایک سے زیادہ ڈسٹری بیوشن لائسنس موجود ہو تو بجلی کی خریداری کا صحیح طریقے سے انتظام کیا جاسکے۔ یہ نیشنل لوڈ ڈسپیچ سینٹر کے کام کو مضبوط بنانے کے لیے ایکٹ کے سیکشن 26 میں بھی ترمیم کرے گا۔ اس سے گرڈ کی حفاظت اور ملک میں بجلی کے نظام کے موثر آپریشن کو یقینی بنایا جائے گا۔
بل کی مخالفت کیوں؟
گڈ نیوز ٹوڈے کی خبر کے مطابق اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے کہا کہ بجلی کا موضوع کنکرنٹ لسٹ میں آتا ہے، اس لئے تمام ریاستوں اور متعلقہ فریقوں سے مشورہ کرنا ضروری ہے، لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا، اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ نجکاری کی طرف ایک قدم ہے، لوک سبھا میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ یہ بل تعاون پر مبنی وفاقیت کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ پرائیویٹ کمپنیاں کچھ متعینہ فیس دے کر منافع کمائیں گی اور سرکاری کمپنیاں دیوالیہ ہو جائیں گی۔ اس بل کے نفاذ کے بعد سبسڈی ختم ہو جائے گی اور صارفین کو اصل قیمت ادا کرنا ہو گی۔ اپوزیشن نے بجلی قیمتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے، آل انڈیا پاور انجینئرز فیڈریشن (اے آئی پی ای ایف) نے یہ بھی کہا کہ ایک خطے میں ایک سے زیادہ کمپنیوں کو ڈسٹریبیوشن لائسنس دینے سے نجی کمپنیوں کو فائدہ اور سرکاری کمپنیوں کو نقصان ہوگا،
ماہرین کی آراء؟
ماہرین کا خیال ہے کہ اس بل میں توانائی کے معیار اور حفاظت، بجلی کے نرخوں کے تعین کا یقینی نظام اور ذمہ داری کی ادائیگی و جوابدہی سمیت کئی بنیادی سوالات کا جواب نہیں ہے، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ گہرائی سے بات چیت کی جانی چاہئے ہے،
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی لیڈ کنٹری اینالسٹ سواتی ڈی سوزا نے بجلی ترمیمی بل 2022 کے مختلف پہلوؤں خصوصاً پرائیویٹ کمپنیوں کی آمد کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سال 2003 میں ایک ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا جس سے پرائیویٹ پارٹیوں کو بجلی کے نظام میں لانے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔
ایک نظریہ ہے کہ ہندوستان کو مزید نجی کمپنیوں کو پاور سیکٹر میں داخل ہونے کی اجازت دینی چاہئے لیکن میرے خیال میں یہ ایک گھٹیا سوچ ہے کیونکہ انڈین آئل اور کول انڈیا نے بہت سی نجی کمپنیوں سے بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے،
انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا آغاز اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ بجلی کی قیمتیں کم ہوں گی یا توانائی کی پیداوار اور ڈسٹری بیوشن کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا گزشتہ آٹھ اگست کو پارلیمنٹ میں پیش کردہ بجلی ترمیمی بل میں بھی یہ جواب نہیں دیا گیا کہ آیا نجی کمپنیاں کراس سبسڈی سے حاصل ہونے والے منافع کو سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار ہوں گی یا نہیں ؟ میری بنیادی تشویش یہ ہے کہ مربوط نظاموں میں اسکا تاثر کیسا ہوگا ،کیا ہم نجی کمپنیوں کی ممکنہ اجارہ داری کے حل کے بارے میں سوچ رہے ہیں ؟ کیا اس سے بچنے کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے ہیں؟
سواتی نے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے کمپٹیشن پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں امریکہ میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم ایک کاروبار ہے، وہاں مقابلہ یہ ہے کہ اس کے ٹیرف کو مزید کیسے کم کیا جائے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز کے پروفیسر ڈاکٹر سری کانت نے مجوزہ بل کو فریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بل میں ڈسٹریبیوشن مینجمنٹ کے مسائل کی نشاندہی کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ ماضی میں منظور ہونے والی قراردادوں کا مقصد ایک خود مختار ریگولیٹر تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ناکام ہو گئی اور اقتدار کا سارا نظام بیوروکریٹس کی گرفت میں رہا۔ ہم نے گزشتہ کچھ سالوں میں دیکھا ہے کہ بجلی کی وزارت نے مرکزی ریگولیٹری کمیشن کو ایک مالک کی طرح ہدایات دی ہیں، حال ہی میں کمپنیوں سے کوئلے کی درآمدات بڑھانے کو کہا گیا تھا۔ مشکل یہ ہے کہ ریگولیٹرز کی آزادی سلب کر لی گئی ہے، نیز ہمارے پاس آزادانہ ضابطہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم اس قدر مشکل صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، پروفیسر سری کانت نے کہا کہ موجودہ سرکاری ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کی حالت نہایت قابل رحم ہے۔ مجوزہ بل سے ان کی حالت مزید خراب ہو جائے گی۔ ایک بار جب یہ بل قانون بن جاتا ہے، تو انہیں اپنی مشینری نجی کمپنیوں کے ساتھ بانٹنی ہو گی، جو کہ گورنمنٹ ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کو 10 پیسے فی یونٹ ادا کر کے، کچی آبادیوں کے رہنے والوں کو نہیں بلکہ با صلاحیت صارفین کو ہی بجلی فراہم کرے گی۔سوال یہ ہے کہ اس کا مقابلہ کیسے ہوگا؟ سرکاری کمپنیاں غریب صارفین کو بجلی دے رہی ہیں اور متوسط ​​اور اعلیٰ آمدنی والے طبقے کے صارفین کو پرائیویٹ کمپنیاں دینے لگیں گی، جس کی وجہ سے سرکاری کمپنیوں کے حالات مزید خراب ہوجائینگے اور بتدریج وہ اپنے وجود کو کھو بیٹھینگی ، پی پی پی ماڈل پر تقسیم کار کمپنیوں کی نجی کاری کا یہ بہترین وقت ہے۔
اشونی چٹنیس، سینئر ایڈوائزر، قانونی اقدامات برائے جنگلات و ماحولیات نے کہا کہ بجلی (ترمیمی) بل 2022 میں وضاحت کی بہت کمی ہے۔ یہ بل بھی وفاقی ڈھانچے کی روح کے مطابق نہیں ہے۔ ایک سے زیادہ لائسنس دینے کی بات ہو رہی ہے لیکن اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ سپلائی کا علاقہ کیسے تقسیم ہوگا ،بل میں تقابل کی بات کی گئی ہے جبکہ یہ کلئیر نہیں ہے کہ چھت اور فرش کے نرخوں کا تعین کیسے کیا جائے گا۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ ان تمام چیزوں کا تعین قواعد کے مطابق کیا جائے گا، لیکن وہ قواعد کیا ہوں گے اس بارے میں کچھ واضح نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے اہم پہلو ہیں جو بہت بنیادی ہیں لیکن اس بل میں ان کا جواب نہیں دیا گیا ہے۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ حکومت سال 2014 سے ہی یہ تبدیلی کرنے پر غور کر رہی تھی۔ ایسے میں اس دہائی کے آخر تک ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس اقدام کے کیا اثرات ہوں گے۔ یہ بل کاروبار کے قابل عمل ہونے کے بنیادی مسائل کو صحیح طریقے سے حل نہیں کرتا ہے۔
ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کے انرجی پالیسی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ تیرتھنکر منڈل نے کہا کہ مجوزہ بجلی ترمیمی بل پر وسیع غور و خوض کی ضرورت ہے۔ لوک سبھا میں پیش کیے جانے کے بعد اس بل کو پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے، بل پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جائے اور مختلف جماعتوں کی جانب سے تجاویز قائمہ کمیٹی کو بھیجی جائیں۔ یہ بل بغیر کسی بات چیت کے پیش کیا گیا ہے۔ جہاں تک نجکاری کا تعلق ہے، یہ حکومت اور پرائیویٹ پارٹیوں کے درمیان جھگڑے کا معاملہ نہیں ہے۔ ماضی کے معاملات پر نظر ڈالی جائے تو ماضی میں نجکاری کے تجربات اکثر کامیاب نہیں ہوئے، بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ بل کون پیش کر رہا ہے۔ کیا وہ توانائی کی تبدیلی کا مقصد رکھتے ہیں؟ توانائی کے تحفظ کے مسائل کا انحصار بجلی کے معیار اور وشوسنییتا پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس ریگولیشن اور پالیسی کا کوئی طریقہ کار ہے؟ کیا یہ بل اسے تحفظ دے گا؟ کیا نئے بل میں بجلی کے تحفظ کے مسئلے کو اس طرح حل کیا گیا ہے جیسا کہ ہونا چاہیے؟
مجوزہ بل کے مختلف پہلوؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس کی ماہرِ توانائی وبھوتی گرگ نے کہا کہ مجوزہ بل کے تحت نجی کمپنیاں کچھ چارج ادا کرکے سرکاری نیٹ ورک کا استعمال کرسکیں گی، فراہم کنندہ کو انفرادی معاہدوں پر دستخط کرنے کی آزادی ہوگی۔ کوئی بھی سپلائی کرنے والا نہ صرف ایک ریاست کو بلکہ ایک سے زیادہ ریاستوں کو بھی سپلائی کر سکے گا لیکن ڈسکام کو پیمینٹ سیکورٹی نہیں دی جائے گی،
انہوں نے کہا کہ کچھ مزدور تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور کسانوں نے اس مجوزہ بل کی مخالفت کی ہے۔ مارکیٹ میں آنے والی کئی نجی کمپنیوں کی وجہ سے سبسڈی ختم ہونے کے خوف سے کسان اس کی مخالفت کر رہے ہیں، مزدور تنظیمیں بھی نجکاری کے خوف سے اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ موسمیاتی رجحانات کی ڈائریکٹر آرتی کھوسلہ نے کہا کہ بجلی ترمیمی بل پر مزید غور و فکر کی ضرورت ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے ملک کے تمام بجلی صارفین متاثر ہوں گے۔ ملک میں صارفین کے مختلف طبقات ہیں، اس لیے اس بل میں سب کے مفادات کے تحفظ کا عنصر شامل کرنا ضروری ہے۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے