بانی امارت شرعیہ دوراندیش ،عظیم مفکراورصاحب بصیرت عالم دین تھے/نائب امیرشریعت

25

بانی امارت شرعیہ دوراندیش ،عظیم مفکراورصاحب بصیرت عالم دین تھے/نائب امیرشریعت

حضرت مولانا ابوالمحاس محمد سجاد کی حیات و خدمات پر لکھی گئی پہلی انگریزی کتاب کااجراء

پھلواری شریف۹؍اگست ۲۰۲۱ء (محمد منہاج عالم ندوی) مورخہ ۸/اگست۲۰۲۱ء کو مفکر اسلام امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی ؒکی تحریک پر لکھی گئی پہلی باضابطہ تصنیف ‘‘Hazrat Maulana Abul Mahasin Muhammad Sajjad & his Great Achievements ’’ کااجراء نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی کے ہاتھوں میٹنگ روم امارت شرعیہ میں عمل میں آیا، مجلس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی نے فرمایا کہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ عبقری شخصیت کے مالک تھے ، انہوں نے ملک و ملت کی رہنمائی کے لئے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں امارت شرعیہ کا قیام ان کی زندگی کا سب سے اہم کارنامہ ہے ، ان کی زندگی پر جو کچھ لکھا گیا ہے، اس سے بہت زیادہ لکھنے کی ضرورت ہے، قابل مبارک باد ہیں کتاب کے مصنف جناب آفتاب اطہر صاحب جنہوں نے امیر شریعت سابع کی ہدایت کے مطابق حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد ؒ کی حیات و خدمات کو انگریزی زبان میں سپرد قرطاس کیا، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے،اس کتاب سے نئی نسلوں کو اس ملک میں جینے اورعزت ووقار سے آگے بڑھنے کا سلیقہ آئے گا،پڑھنے والوں کو اندازہ ہوگا کہ اس مردو درویش نے کن حالات میں اور کتنا پہلے ملک کے مستقبل کااندازہ کرلیاتھا،اوراس کے لیے تدبیریں اپنانی شروع کردی تھیں ،اوراس مقصدکے لیے انہوں نے جمعیۃ علماء ہند اورامارت شرعیہ جیسی تنظیم قائم فرمائی،پیکر خلوص حضرت ابوالمحاسن مولانا محمد سجادؒ نے اپنا سب کچھ قربان کرکے پوری زندگی بے نفسی کے ساتھ امارت شرعیہ کے لیے کام کیا،اور گاؤں گاؤں کاسفر کرکے اس کی اہمیت وضرورت سے لوگوں کو واقف کرایا،اوراس تنظیم سے جوڑا،اس موقع سے حضرت نائب امیر شریعت نے کارکنان وذمہ داران امارت شرعیہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ فکرسجاد کے ساتھ اپنے کاموں میں مشغول رہیں،حضرت نائب امیر شریعت صاحب نے فرمایاکہ حضرت ابوالمحاسن محمد سجادؒ سے متعلق ماضی میں جو تجاویز منظور ہوئی ہیں اسے ان شاء اللہ عملی جامہ دیا جائے گا۔حضرت مولانا شبلی القاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ نے تفصیل کے ساتھ کتاب اور صاحب کتاب کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات کے مختلف پہلو ہیں اور ہر پہلو نہایت ہی اہم ہیں ان کی زندگی پر جناب ڈاکٹر آفتاب اطہر صاحب نے امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی ؒ کی ہدایت پرانگریزی زبان میں قلم اٹھاکر ایک بڑے ضرورت کی تکمیل کی ہے ، بانی امارت شرعیہ کی زندگی پر اب تک انگریزی زبان میں باضابطہ کوئی کتاب نہیں آئی تھی یہ پہلی کتاب ہے جس سے انگریزی داں طبقے میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ کے افکاروخیالات کا ٹھیک سے تعارف ہوسکے گا،ساتھ ہی امارت شرعیہ کی اہمیت وضرورت معلوم ہوگی حضرت مولانا انظار عالم قاسمی قاضی شریعت مرکزی دارالقضا امارت شرعیہ نے کہا کہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ ایک فقیہ النفس عالم تھے انہوں نے ملت کی بہتر رہنمائی کے لئے وہ سب کچھ کیا جو ان سے ممکن ہوسکا لیکن حیرت ہے کہ ابھی تک ان کا ٹھیک سے تعارف بھی نہیں ہوسکا ہے جناب ڈاکٹر آفتاب اطہر صاحب انگریزی زبان میں حضرت کی زندگی پر باضابطہ کتاب لکھ کر قابل قدر کام کیا ہے ، مفتی محمدثنائ الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ کی شخصیت ہمہ گیر تھی ان پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے ملت کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دیں، جناب ڈاکٹر آفتاب اطہر صاحب نے انگریزی زبان میں ان کی زندگی اور کارنامے کو اختصار کے ساتھ بیان کرنے کی اطمینان بخش کوششیں کی ہیں ۔مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ جیسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے انہوں نے سیاست، تعلیم اور تنظیم کے میدان میں جس طرح سے کام کیا وہ انہی کا حصہ تھا، انگریزی زبان میں اب تک ان کی زندگی پر کوئی باضابطہ تصنیف نہیں آئی تھی جس کی وجہ سے انگریزی داں طبقے میں حضرت کا مکمل تعارف نہیں ہوسکا تھا اللہ جزائے خیر دے جناب ڈاکٹر آفتاب اطہر صاحب کو جنہوں امیر شریعت سابع کی منشا کے مطابق کتاب ترتیب دی، مؤلف کتاب جناب ڈاکٹر آفتاب اطہر نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کے لکھنے کی ہدایت امیر شریعت سابع رحمۃ اللہ علیہ نے کی تھی اگر وہ باحیات ہوتے تو یقیناً دیکھ کر مسرور ہوتے ۔میں نے بڑی محنت کے ساتھ یہ کتاب ترتیب دی ہے حضرت نائب امیر شریعت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میرا حسب ضرورت مکمل تعاون فرمایاواضح ہوکہ اس کتاب کی کمپوزنگ ،پروف ریڈنگ ،ایڈیٹنگ میں جن حضرات نے اپنی خدمات انجام دی ہیں ان میں بطور خاص مولانا جمشید عاد ل قاسمی اورمولانا محمد اسجد قاسمی صاحب استاذشعبۂ انگریزی دارالعلوم وقف دیوبندقابل ذکر ہیں ۔ پروگرام میں جناب سمیع الحق صاحب مولانا رضوان احمد ندوی،مولانا قمر انیس قاسمی صاحب، مرزا حسین بیگ، مولانا احتکام قاسمی مولانا شمیم اکرم رحمانی ،ڈاکٹر نورالسلام ندوی اور مولوی ممتاز نے بھی اظہار خیال کیا، پروگرام میں مولانا ارشد رحمانی، مولانا نصیرالدین مظاہری ،مولانا محمد منہاج عالم ندوی کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں کارکنان امارت شرعیہ نے شرکت کی اخیر میں نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی مدظلہ کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔