جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتایک کلیم سربکف

ایک کلیم سربکف

حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب اس وقت پس زندان ہیں۔چودہ دن کی عدالتی تحویل میں سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیئے گئے ہیں۔الزامات کی لمبی فہرست تان دی گئی ہے۔مگر خاص بات تو یہ ہےکہ سب سے سنگین جرم یہی ہے کہ آپ داعی الی اللہ ہیں، جہنم سے لوگوں کو خوف دلاتے ہیں اور مسلمانوں کو پکا سچا مسلمان بناتے ہیں اور اس کی خوشبو سے ملک عزیز کے مشام جاں کو معطر بناتے ہیں۔اسی بنیاد پر آپ کے خلاف رپٹ لکھوائی گئی ہے اور اسی وجہ سے آج آپ جیل خانہ میں ہیں۔اس تناظر میں کتنا حقیقی اور واقعی شعر جناب اکبر الہ آبادی نے کشید کیا ہے، اسے بار بار پڑھنے کو طبیعت مچلتی ہے:
حریفوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں۔
اب تو اکبر الہ آبادی کہنا بھی پر خطر معلوم ہوتا ہے وہ اس لئے بھی کہ” الہ "کا نام بھی سننا گوارہ نہیں ہے اسی لئے تو اس کا نام بھی بدل دیا گیا ہے۔ہمارے یہاں بھگوان پورنامی ایک گاؤں ہے، بحمداللہ پوری بستی مسلمانوں کی ہے، مگر آج تک کسی بندہ کوبھگوان سے کوئی شکایت نہیں ہوئی ہے۔
مولانا کلیم صدیقی صاحب کی گرفتاری اچانک ہوئی ہے۔جس کی وجہ سے سراسیمگی پھیل گئی ہے۔اورانہونی کا خوف ہر کسی کو ستانے لگا ہے۔بالخصوص اہل مدارس علماء و دعاة اور اہل اللہ میں ایک خاص اثر دیکھنے میں آرہا ہے۔سبھی اب یہی کہنے لگے ہیں کہ:
"گرفتاری” سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے۔
جبکہ خالص شرعی اعتبار سے اس مسئلہ کو دیکھا جائے تو یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔قرآن کریم میں سورہ عنکبوت کی ابتدائی دو آیتیں خاص اسی عنوان پر وارد ہوئی ہیں،
جنمیں کہا گیا ہے کہ ایمان کے ساتھ ابتلا وامتحان کا رشتہ چولی دامن کارہا ہے۔اس کی حیثیت ایک کسوٹی کی سی ہے ،جس پر ایمان کے کھرا اور کھوٹا ہونے کو جانچا پرکھا جاتا ہے۔
احادیث کے ذخیرہ میں اس موضوع پر کافی مواد موجود ہے۔سب کا خلاصہ یہی ہے کہ جسقدر آدمی دین سے قریب ہوتا ہے، اسی قدر دنیا میں اسے امتحان کا سامنا ہوجاتا ہے۔پھر درجہ بدرجہ ہر صاحب ایمان کو آزمائش نکلنا ہوتا ہے۔خدا کے سب سے چہیتے اور برگزیدہ بندے انبیاء کرام ہیں۔وہ سخت امتحان سےدوچار ہوئے ہیں۔صالحین واولیاء کرام کی زندگی بھی ابتلا سے عبارت رہی ہے۔کبارعلماءکرام جیل خانہ کی صعوبتوں سے دوچار ہوئے ہیں ۔یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔
حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب اس وقت ملک میں فکر شاہ ولی اللہ کے پرزور داعی اورعلمبردارہیں،آپ اللہ کے زندہ ولی اوربندۂ نیکوکار ہیں۔ دعوت الی اللہ میں اپنی پوری زندگی وقف کر چکے ہیں ۔ وقتی آزمائش سے مولانا قطعا گھبرانے والے نہیں ہیں , عارضی ابتلا سے خوف کھانے والے نہیں ہیں،اس سے مولانا کے ایمان ہی نہیں بلکہ مقام ومرتبہ اور دعوت کے کام میں ان شاء اللہ العزیز ترقی نصیب ہونے والی ہے۔کیونکہ سنت اللہ یہی رہی ہے، بقول اقبال علیہ الرحمہ:
تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے۔
قران اس موقع پر ظالم کو اس کے انجام سے بھی باخبر کرتا ہے ۔دو آیتیں صاحب ایمان کے ابتلا وامتحان سے متعلق ہے تو معاََ بعد ہی سورہ عنکبوت کی تیسری آیت ظالموں کےانجام سے بھی متعلق ہے،
ملاحظہ کیجئے :
کیا جو لوگ برائیاں کرتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے بچ جائیں سو یہ بری بات طے کرتے ہیں،”(عنکبوت:4)
مذکورہ آیت میں "برائیاں” سے مراد ظلم اور زیادتیاں یاپیش آمدہ واقعہ کےپیش نظر اس کا ترجمہ صاف زبان میں "گرفتاریاں” سے کرسکتے ہیں۔ایسا کرنے والوں سے قرآن کریم کا صاف اعلان ہے کہ یہ ہم سے بچ کر کہاں جاسکتے ہیں۔ہمارے بندوں کو ستارہے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب چلتا ریے گا،یہ ان کااحمقانہ فیصلہ ہے ،ایساکچھ بھی نہیں ہونے جارہا ہے۔آنے والی مصیبت میں یہ گرفتار ہوں گے اور اس کو آنے سے نہیں روک سکیں گے ۔انہیں سیاسی اعتبار سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے، شرمناک شکست کا اسے عنقریب سامنا ہونے والا ہے۔
یہ قرآن کا فیصلہ ہے جو ہوچکا ہے،
آج کی تاریخ میں ہمیں اس قرانی سبق کو تازہ کرلینے کی شدید ضرورت ہے۔مایوسی کے لئے اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
مفکر اسلام حضرت علی میاں رحمۃ اللہ اپنی تقریر وتحریر میں اکثر وبیشتر یہی کہا کرتے تھے کہ:”لاکھ حکیم سربجیب اک کلیم سربکف "۔
اس وقت ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے، یہ بھی تازہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ہمارا یہ آئینی حق ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان مذہب اسلام پر عمل کریں گے اور ساتھ ہی اسلام کی حقانیت کو پیش کرتے رہیں گے۔
اس وقت انسانیت کو اس کی شدید ضرورت ہے۔ابھی کچھ دنوں قبل ہی کی بات ہے کہ ایک سادھو نے خو اپنے مذہب کی عورتوں کے تعلق سے نہایت ہی گھناؤنی بات کہی ہے اوران کی عصمت کو اپنے بیان سے تار تار کر دیا ہے۔کیا مذہب اسلام میں کسی مولوی کو بھی یہ کہنے کی اجازت ہے کہ وہ اپنی عورتوں کی عصمت پر بول جائے؟
اسلامی شریعت میں ایسے لوگ جو بغیر دلیل کے کسی پاکباز عورت پر اتہام لگاتے ہیں اسکی سزا بہت ہی سخت ہے۔ایک مسلمان کو مذہب اسلام اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا ہے کہ وہ بغیر دلیل شرعی (چارگواہ)کےکسی پاکباز خاتون پرزنا کی تہمت رکھ دے،ایساکرنےوالے کے تعلق سے قرآن میں لکھا ہےکہ دنیا وآخرت کی تباہی اس شخص کےمقدر ہوجاتی ہے۔
حدیث شریف میں اسے ہلاکت سے تعبیر کیا گیا ہے اور سو برس کی نیکیوں کو یہ عمل غارت کردیتا ہے۔انکی گواہی بھی غیر معتبر ہےاور بے اثرہوجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کوئی اس کی ہمت نہیں کرپاتا ہے اور نہ اس کا حوصلہ جٹا پاتا ہے۔
آج حقوق نسواں کے علمبرداروں کو اس اسلامی تعلیم کو اپنانے کی ضرورت ہے۔حکومت کو اس پر بل لانے کی ضرورت ہے اور سخت سے سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔مگر افسوس کی بات تو یہ ہےکہ جو خواتین کے خلاف بولنے والے ہیں وہ آزاد گھوم رہے ہیں، اور جو ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں وہ پس زندان ہیں۔
اسلام کی حقانیت کو پیش کردینا کوئی جرم نہیں ہے بلکہ سچی بات تو یہی ہے کہ انسانیت کی اس وقت یہ اہم ضرورت بن گئی ہے۔
موجودہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم ان تعلیمات کو پیش کریں اور اس پر عمل پیرا بھی رہیں۔اس وقت مصلحت کے نام پر ہم اپنے آئینی اور مذہبی حقوق سے دستبردار نہیں ہوسکتے ہیں۔آج زمانے کو سربکف کلیم کی ضرورت ہے نہ کہ سربجیب حکیم کی،ایسے ہزاروں حکیم کا موازنہ ایک کلیم سے نہیں کیا جاسکتا ہے۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ: 9973722710

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے