ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی

69

مظفرپور : (عبدالخالق قاسمی) آج مورخہ 1 ستمبر بروز منگل مولانا تقی احمد القاسمی نے یہ الم ناک خبر دی کہ مقبول عالم دین، فقیہ العصر مولانا قاسم مظفرپوری قاضی شریعت دارالقضا امارت شرعیہ،بہار،اڑیسہ و جھارکھنڈ 3 بجے اپنے مالک حقیقی سے جاملے انا للہ وانا الیہ راجعون, حضرت ایک عرصہ سے قلب کے عارضہ میں مبتلا تھے,ابھی کچھ دن پہلے حضرت پر فالج کا بھی حملہ ہوا تھا جس کے بعد سے حضرت کافی کمزور اور لاغر ہوگئے تھے,ادھر چند روز سے طبیعت کافی علیل چل رہی تھی, حضرت کی تشویشناک حالت کو دیکھتے ہوئے ان کے متعلقین نے سب سے پہلے بہتر علاج و معالجہ کے لئے اوشا ہسپتال،جورن چھپرہ، مظفرپور کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرایا تھا,مگر وہاں بھی حضرت کی صحت میں خاطر خواہ افاقہ نہ ہوا, متعلقین نے باہمی مشورے کے بعد مظفرپور ہی کے ایک پرائیویٹ نرسینگ ہوم گلیکسی اسپتال میں داخل کرایا تھا.جہاں ڈاکٹروں کی کڑی نگرانی میں حضرت کا علاج و معالجہ چل رہا تھا,جہاں خاطر خواہ فائدہ ہوا صحت میں بڑی تیزی سے بہتری بھی آئی رو بہ صحت ہونے کے بعد اسپتال سے ڈسچارج بھی کر دئے گئے مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا, آج ا ستمبر بروز منگل 12 محرم الحرام بوقت 3 بجے مظفرپور زکریا کالونی اپنی رہائش گاہ میں حضرت علیہ الرحمہ نے آخری سانس لی اور ہزاروں کی تعداد میں محبین,متعلقین و متوسلین کو بے سہارا یتیم چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوگئے, اللہ غریق رحمت کرے اور اعلی علیین میں جگہ نصیب فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل کی عظیم دولت سے نوازے آمین,یارب العمین, مولانا کا نام پورے ملک میں خصوصا شمالی بہار کے علماے کبار میں آتا ہے،انھوں نے ایک لمبے عرصے تک درس و تدریس کی خدمت انجام دی،شیخ الحدیث رہے،امارت شرعیہ کے قاضی رہے اور کئی اہم کتابوں کے مصنف بھی۔آپ کی شخصیت علم و عمل کے اعتبار سے امتیازی حیثیت کی تھی,آپ حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے رفیق کار تھے,اور امارت شرعیہ کے حقیقی ترجمان بھی تھے,آپ نے اپنی تقریر میں اختلافی بات کو کبھی بھی موضوع بحث نہیں بنایا,کبھی بھی آپ کی زبان سے غیر معیاری الفاظ نہیں نکلا,برے سے برے حالات میں صبر تحمل سے کام لینا آپ کی فطرت ثانیہ تھی,مدارس اسلامیہ میں پڑھنے والے طلبہ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے,عام طور پر جب آپ طالبعلموں کے درمیان خطاب کرتے تو انہیں عمل باالعلم کی تلقین کرتے اور کہتے کے علم وہی باقی رہتا ہے جس پر عمل کیا جائے,آپ کی شخصیت پورے بہار خصوصا شمالی بہار میں ممتاز تھی ہر چھوٹی بڑی مجلس کے میر مجلس ہوتے,آپ کا حسن و اخلاق اس قدر اعلی تھا کہ غیر مسلم بھی آپ کے حسن اخلاق سے متاثر ہوکر آداب بجا لاتا تھا, حق تعالی سبحانہ آپ کی مغفرت فرمائے اور جو علمی میراث چھوڑ کر گئے ہیں اس کی حفاظت فرمائے,اور آپ کا فیض تا قیامت جاری و ساری رہے,

عجب قیامت کا حادثہ ہے،کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، اُفق پہ مہر مبین نہیں
تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے !
اگرچہ حالات کا سفینہ اسیر گرداب ہو چکا ہے
اگرچہ منجدھار کے تھپیڑوں سے قافلہ ہوش کھو چکا ہے
اگرچہ قدرت کا ایک شہکار آخری نیند سوچکا ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے !
کئی دماغوں کا ایک انساں ،میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے ؟
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے ،زباں کا زور بیاں گیا ہے
اترگئے منزلوں کے چہرے،امیر کیا ؟ کارواں گیا ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے !
یہ کون اٹھا کہ دیر وکعبہ شکستہ دل ، خستہ گام پہنچے
جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم ، خواص پہنچے، عوام پہنچے
تری لحد پہ خدا کی رحمت ، تری لحد کو سلام پہنچے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے !