ہومبریکنگ نیوزارریا نیوزایک قابل رحم انسانی آبادی ✍️ ہمایوں اقبال ندوی

ایک قابل رحم انسانی آبادی ✍️ ہمایوں اقبال ندوی

ایک قابل رحم انسانی آبادی

✍️ ہمایوں اقبال ندوی
ترجمان : آل انڈیاوپیام انسانیت فورم ، ارریہ

آپ قومی شاہراہ نمبر۵۷ کے ذریعہ ارریہ ضلع ہیڈ کوارٹر آرہے ہیں تو شہر سے پہلے ٹول پلازہ ہے ، جہاں آپ کی گاڑی کچھ دیر کے لئے کھڑی ہوجاتی ہے، سامنے شہر ارریہ ہے، بائیں جانب سڑک سے متصل ایک قابل رحم انسانی آبادی واقع ہے، ڈھائی سو برادران وطن جگی جھونپڑی میں رہتے ہیں ،مرد و خواتین سرپر ہاتھ رکھے اپنے خیالات کی دنیا میں گم رہتےہیں، کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے، دیکھنے والی نظر کے لئے یہ بہت ہی تکلیف دہ منظر ہے، لوگ ان سے قریب ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ لوگوں سے قریب ہوسکتے ہیں، حکومت کوبھی ان کی فکر نہیں ہے، یہ سبھی جذام کی بیماری میں مبتلا ہیں _

١٩٨٤ء میں ریاستی حکومت نے انہیں شہر سے باہر لاکر یہاں آباد کیا تھا، جبھی سے یہیں آباد ہیں، اس جگہ کو سبھی *” کشٹ روگی محلہ”* سے موسوم کرتے ہیں ، جبکہ اس گاؤں کا اصل نام *”مدر ٹریسانگر ہریابارہ ، ارریہ”* ہے _

یہاں ہاسپٹل کی ایک عمارت بھی موجود ہے ، جو نہایت مخدوش ہے اور جلاون سے بھرا پڑا ہے، یہاں ڈاکٹر ہیں لیکن علاج کا کوئی بندوبست نہیں ہے ، عام لوگ تو ان جذامیوں سے دور تھے ہی اب یہ محسوس ہورہا ہے کہ حکومت بھی ان سے گھن کرنے لگی ہے اور فاصلہ بنا رہی ہے _

پیام انسانیت فورم ارریہ نے انتظامیہ کو اس جانب متوجہ بھی کیا ہے ، صدر اسپتال ارریہ کے سول سرجن سے ملکر طبی خدمات بحال کرنے کی مانگ بھی کی ہے، موصوف نے وعدہ کیا ہے کہ ایک ڈاکٹر وہاں موجود رہیں گے ، خدا کرے کہ ان متاثرین کےرستے ہوئے زخم پر مرہم رکھنے والا کوئی مسیحا جلد ہی انہیں نصیب ہو، آمین .

پچھلے چار پانچ سالوں سے پیام انسانیت فورم ارریہ خبر و خیریت لینے مدر ٹریسا نگر پہونچ رہی ہے، موسم کے لحاظ سے کپڑے ، کمبل ، ادویات سے تعاون کررہی ہے، بچوں کی تعلیم کے لئے ایک چھوٹی سی جگہ متعین کی گئی ہے اور مختصر پیمانے پر تعلیم کا انتظام بھی کیا گیا ہے، یہ سب کچھ جیب خاص سے کیا جارہا ہے، جشن جمہوریہ و جشن آزادی کی خوشی کو پچھلے تین سالوں سے پیام انسانیت کے صدر جناب دیویندر مشرا جی اور سکریٹری جناب مولانا مصور عالم صاحب ندوی مل بانٹ کر ان جذامیوں کےدرمیان ہی منارہے ہیں، امداد ہی نہیں بلکہ خبر و خیریت کی دریافت کے لئے بھی پیام انسانیت کی ٹیم مدر ٹریسا نگر پہونچ جاتی ہے، ملنا جلنا، گفت وشنید کرنا، حال و احوال پوچھنا بھی ان متاثرین کی مدد اور تعاون ہے، یہی وجہ ہے کہ جب ان کی خبر و خیریت پوچھتے ہیں تو انہیں بڑا تعجب ہوتا ہے اور اپنے انسان ہونے کا شاید خیال انکے دل میں مضبوط ہوتا ہے، زبان سے یہ تاثر نہیں دے پاتے ہیں مگر انکی نمناک آنکھیں مکمل تصویر بیاں کرتی ہیں ، بقول شاعر ؂

پھر مری آنکھ ہوئی نمناک
پھر کسی نے مزاج پوچھا ہے

ارریہ پیام انسانیت فورم کے لئے یہ بھی خوشی کا مقام ہے کہ انسان اور انسانیت کی ہمدردی رکھنے والے برادران وطن کی ایک قیمتی ٹیم بھی اس کے حصہ میں آئی ہے، ان کے ساتھ کام کرنے سے انسانیت کی جہاں خدمت کی جاسکتی ہے، وہیں ملک سے نفرت کا بھی خاتمہ کیا جاسکتا ہے، ساتھ ہی مذہب اسلام کی صاف اور سچی تصویر بھی پیش کی جاسکتی ہے، ترمذی شریف کی مشہور حدیث موجود ہے، ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ باتیں گنائیں جنمیں ایک یہ تھی کہ” لوگوں کے لئے وہی چاہو جو تم اپنے لئے چاہتے ہو تو مسلمان بن جاؤگے ” _

عموما ہم یہی کہتے ہیں کہ مسلمان انسان کا ہمدرد ہوتا ہے، آج اس بات میں وہ دم اور زیر و بم نہیں ہے جو مذکورہ بالا حدیث کہتی ہے، یہاں مسلمان بننے کا باضابطہ ایک نسخہ بیان کیا گیا ہے اور یہ صاف اعلان کیا گیا ہے کہ تمام انسانوں کی بھلائی کا جذبہ اپنے دل میں پیدا کرنا ایک مسلمان بننے کے ضروری ہے، اگر ایسا نہیں ہے تو یہ مسلمان ہونے کی راہ میں ایک بہت بڑی کمی ہے _

آج ملک میں سب سے بڑی بھول ہم سے یہی ہورہی ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم پر رحم و کرم اور پیار و شفقت کا معاملہ کیا جائے، مگرہم اپنی زندگی کا جائزہ لے رہے ہیں اور نہ اپنا محاسبہ کر رہے ہیں کہ ہم نے اس سلوک کے حقدار ہونے کے لئے انسانیت کی کونسی خدمت کی ہے اور کیا تیاریاں کی ہیں؟؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صاف فرما دیا ہے کہ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ہے، اس بات کی نصیحت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو کی ہے کہ خدائی و آسمانی خاص مدد کو حاصل کرنے کے لئے زمینی کوشش ضروری ہے، پہلے مخلوق خدا پر رحم کرو پھر آسمان والا تم پر مہربان ہوجائے گا اور تمہاری محبت کو اس روئے زمین پر پھیلا دے گا _

واقعی اس موقع پر حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی فراست ایمانی سمجھ میں آتی ہے کہ کتنا اہم اور قیمتی عنوان” تحریک پیام انسانیت ” کا حضرت نے ہمارے حوالہ کیا ہے، آج اس بات کو محسوس کرنے کی بھی ضرورت ہے ، پیام انسانیت تحریک موجودہ وقت میں بھارت کے مسلمانوں کی شدید ترین ضرورت ہے ، ہم اس بات کو نہیں سمجھتے ہیں اور اپنی توانائی فضول جگہوں پر خرچ کررہے ہیں، جس کا حاصل کچھ بھی نہیں ہے، دوسروں کے بیان پر اپنا سردھنتے ہیں کہ فلاں نے کیا کہا کہ "فلاں مذہب کےلوگ خطرہ میں ہے” اس بات کو ماننے کے لئے برادران وطن بھی تیار نہیں ہیں، ہم سب ملکر ایک ساتھ حضرت علی میاں کی زبان میں یہ کہیں کہ : آج انسانیت خطرہ میں ہے، اس بات کو ماننے کے لئے سبھی تیار ہیں ، انسانی ہمدردی کے نام پر اپنا مال اور اپنی جان لیکر برادران وطن بھی ہمارے شانہ بشانہ چلنے کو تیار ہیں ، ذرا انہیں آواز تو دیجئے!!!

نہ تھی امید ہمدردی کی جن سے
وہی تقدیر سے ہمدرد نکلے

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے