ایک شادی ایسی بھی کہ فرشتے بھی خوشی سے جھوم اٹھیں!

62

آئیے!آج ایک شادی کی کہانی منکوحہ کے ابو کی زبانی آپ تمامی حضرات کے گوش گزار ہے۔اس شادی میں کتنی سادگی ہے؟سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کس درجہ وابستگی ہے؟تکلیف وتکلفات سے کس قدر دوری ہے؟مروجہ رسوم و رواج سے کتنی مہجوری ہے؟یہ فیصلہ ہم سبھوں کے لئے اس تقریر سے کرلینا کچھ بھی مشکل نہیں ہے،جو مخطوبہ کے والد گرامی قدر جناب مفتی محمد اطہر القاسمی صاحب نے کی ہے۔
نماز جمعہ کے بعد مسجد میں نکاح کا پروگرام رکھا گیا ہے،اس سے قبل اپنے گاؤں کی جامع مسجد میں ایک بڑے مجمع سےخطاب کرتے ہوئے موصوف نے یہ باتیں گوش گزار کی ہے۔
محترم حضرات!
میں نے حدیث پڑھی ہے،اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوگ نکاح کے لئے چار چیزوں کو معیار بناتے ہیں؛ مال،جمال،حسب و نسب اور دین داری۔لیکن اسی حدیث کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمادیا ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام بھیج دے،جس کی دینداری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اسی کو رشتہ نکاح کا معیار بنالو اور پھر دیر نہ کرو،شادی کردو۔خداوند عالم تمہارے دونوں ہاتھوں میں خوشیاں مقدر فرمادے گا۔جبکہ ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ چارچیزوں میں تاخیر نہ کرو۔نماز جب اس کا وقت ہوجائے،جنازہ جب تیار ہوجائے،قرض کا پیسہ جب میسر ہو جائے اور بالغ اولاد کا نکاح جب مناسب رشتہ آجائے۔
چنانچہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اپنی بڑی بچی کا رشتہ منظور کر لیا ہے۔میرے پاس ابھی چند روز قبل جب دولوگ میرے پاس آئے اورمیری بچی کے رشتے کی بابت میری رائے معلوم کی،تو میں نے کہا کہ نوشہ کون ہیں؟مجھے بتلایا کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ آپ کے عزیز برادر زادے اور ایک عالم دین ہیں،میں نے قیل وقال نہیں کی ہے،مگرتحقیق کے لئے اسی وقت اپنے برادر مکرم کو ضرور بلوا لیاہے اور ان سے یہ استفسارکرلیا ہے کہ آں جناب نے ان دونوں کو رشتہ کے تعلق سے میرے پاس بھیجا ہے؟میرے بڑے بھائی جان نے کہا کہ:ہاں میں نے ہی بھیجا ہے،میری خواہش ہے کہ میرے بیٹے کی سرپرستی کو آپ قبول کرلیں۔میں نے اپنے بڑے بھائی مولانا خورشید انور صاحب نعمانی سے اسی وقت کہ دیاہےکہ “مجھے یہ رشتہ منظور ہے،پندرہ سال کے بچپنے میں والد مرحوم کے انتقال کے بعد آپ میرےسرپرست رہےہیں،میرے مشفق ہیں،باپ جیسے ہیں،تو میرے بچوں کا سرپرست آپ سے بہتر کون ہوسکتا ہے؟میں آج اپنی بیٹی کو بھی آپ کی سرپرستی میں دےرہاہوں۔اس کے لئے مجھے مزید کسی سے رائے مشورہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔البتہ صرف ایک شرط ہے کہ نکاح نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و شریعت کے طریقہ پر انجام دینا ہوگا۔میرے بڑے بھائی جان کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔وہ آبدیدہ آنکھوں سے کہنے لگے ہیں کہ آپ جس طرح چاہیں،رشتہ کو انجام دے دیں۔ہم ہر قدم پر آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ملیں گے۔
حضرات!اسوقت آپ کے درمیان جمعیت علماء ہند ضلع ارریہ کے ذمہ داران،مفتیان کرام،علماء و حفاظ کی ایک مقدس جماعت موجود ہے،ابھی بعد نماز جمعہ سنتوں سے فراغت کے معا بعد ہی مسجد میں میری بچی کا نکاح ہونا ہے،ہمیں آپ کی دعاء چاہئے،ایسی مبارک مجلس میں آپ کی حاضری بھی باعث سعادت ہوگی۔آپ تمام حضرات واجبات سے فراغت کے بعد گذارش ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے اس مجلس میں تشریف رکھیں اور رشتہ کی قبولیت کے لئے دعا میں شامل ہوں۔
راقم الحروف
ہمایوں اقبال ندوی
مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ