ہومبریکنگ نیوزایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اللہ اور رسول کے حکم...

ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق زندگی گزاریں: مولانا انوار الحق قاسمی

*ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق زندگی گزاریں: مولانا انوار الحق قاسمی*
*ازدواجی رشتے بنانے کے لئے بچوں کو پیار سے سمجھانا والدین کی ذمہ داری: حافظ و قاری عبد القدوس ہادی*
سیتامڑھی (شکیب الاسلام) شہری جمعیۃ علماء کانپور کے زیر اہتمام گزشتہ کئی ماہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں اصلاح معاشرہ و اجتماع خواتین کے اجلاس منعقد کئے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں آج مبارکہ میرج ہال بیگم پوروہ میں ایک روزہ عظیم الشان جلسہ اصلاح معاشرہ و اجتماع خواتین منعقد ہوا۔ جلسہ کا آغاز قاری محی الدین صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، قاری محمد مقیم اور محمد ناہد نے نعت شریف پیش کی۔ جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی مولانا انوار الحق قاسمی نے کہا کہ آج ہمارے معاشرے میں منکرات، بے حیائی، بے پردگی عام ہے۔ اس طرح کی برائیوں کا کہاں تک ذکر کیا جائے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان سے نوازا ہے۔ انہوں نے کئی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ دولت اور طاقت تو کسی کو بھی دیتا ہے لیکن ایمان کی دولت اسی کو دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ آج ہمارے پاس ایمان کی دولت ہے اسی لئے دنیا ہم سے خفا ہے۔ لیکن آج ایمان کے لالے ہیں۔ آج ہمارے نوجوا ن بچے بچیاں دنیاوی مفادات کے لئے یا جھوٹی محبت کے لئے ایمان کا سودا کر رہے ہیں۔ پہلے کے لوگ ایمان کی حفاظت کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیاکرتے تھے۔ ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق زندگی گزارو۔ مولانا نے ازدواجی مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نکاح کے وقت مہر کی ادائگی کرو، کتنے ایسے لوگ ہیں کہ وہ مر گئے لیکن مہر ادا نہیں کیا ایسا دیکھا گیا ہے کہ شوہر کا جنازہ اٹھ رہا ہے اور مہر معاف کروایا جا رہا ہے۔ شادی بیاہ میں بے جا اخراجات کی کوئی حد نہیں لیکن لوگ مہر ادا نہیں کر رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے لباس ہیں۔ شوہر بیوی ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کریں تو کیا گھر میں لڑائی جھگڑے ہونگے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ حسن سلوک کیا تو آپ ؐ  کی گیارہ ازواج مطہرات کہتی تھیں کہ میرا شوہر سب سے بہترین ہے۔ آپ ؐ  نے فرمایا جو عورت شوہر کو ستانے کے لئے طلاق کا مطالبہ کریں تو اس کو جنت کی خوشبو تک نہیں ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اجتماع کے سرپرست قاضی شہر الحاج حافظ و قاری عبد القدوس ہادی نے جلسے کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں منعقد ہو رہے ان اجتماعات کی ضرورت اس لئے محسوس کی گئی کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے بگڑ رہا ہے اس لئے خواتین میں بیداری پیدا کی جائے۔ کیونکہ ماں کی گود انسان کا پہلا مدرسہ اور اسکول ہوتی ہے۔ ماں کی گود کی ابتدائی تعلیم کے مطابق ہی انسان کی پوری زندگی گزرتی ہے۔ ہمارے سامنے مسائل کا امبار ہے یہاں کس کس کا ذکر کیا جائے مختصر یہ کہ ہمارے سامنے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ازدواجی مسائل سامنے آتے ہیں جہاں سال دو سال میں رشتے بگڑ جاتے ہیں اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔  ان میں سب سے زیادہ معاملے گھر والوں کے مرضی کے خلاف ہوئی شادیوں کے ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میں قاضی شہر نے لڑکیوں سے گزارش کی کہ وہ ماں باپ کی مرضی سے شادی کریں۔ خود کی پسند کی ہوئی شادیاں ۵۹ فی صد ناکام ہیں۔آج ہمارے گھروں میں نوجوان (نامحرم) لڑکے لڑکیوں کی آمد و رفت ہو رہی ہے۔ اب تو لڑکیاں غیروں سے بھی رابطہ و رشتہ قائم کر رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بے راہ روی کا دور شروع ہوتا ہے اور پورے گھر کو شرمندگی اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔ شوہر بیوی کے شادی کے پہلے کسی لڑکے لڑکی کے رابطہ یا شادی کے بعد شوہر بیوی کے کسی دوسرے لڑکی یا لڑکے سے رابطہ طلاق کی وجہ بن رہے ہیں۔ یہ باتیں ہم کہنا نہیں چاہتے لیکن مجبوراً منظر عام پر لانا پڑ رہا ہے۔ تاکہ ہماری اصلاح ہو سکے،پہلے ہم بڑے بزرگوں کی بات کا احترام کرتے تھے ان کے ذریعہ ہم اپنے مسائل حل کر لیا کرتے تھے۔ لیکن آج کوئی کسی کی بات سننے والا نہیں ہے۔اگر داماد لڑکی کی شکایت سسرال والوں سے کرتا ہے تو اپنی ذاتی اناء کے سبب لڑکے کی بات سننے کے بجائے والدین اپنی لڑکی کی طرفداری کرتے ہیں اور شدت کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو پیار سے سمجھائیں، رشتوں کو بنانے کی کوشش کریں۔ہم نے رسول اللہ کے طریقوں کو چھوڑ دیا اس لئے معاشرے میں برائیاں پیدا ہو رہی ہیں۔قاضی شہر نے کہا کہ گھریلو مسئلے تھانہ،کورٹ، کچہری نہ لے جائیں بلکہ اپنے بڑوں اور علماء کرام سے مسائل حل کروائیں۔ مولانا انوار الحق قاسمی کی دعا پر اجتماع کا اختتام ہوا۔
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے