ایس ڈی پی آئی سے سیاسی انتقام لینے کیلئے بی جے پی حکومت این آئی اے کا غلط استعمال نہ کرے

55

کرناٹک میں ایس ڈی پی آئی کارکنان کی گرفتاری پر ریاست گیر احتجاجی مظاہرے

بنگلور۔(پریس ریلیز)۔مرکزی بی جے پی حکومت مظلوموں کی آواز اٹھانے والی تنظیموں، تحریکوں کے خلاف بی جے پی این آئی اے کا غلط استعمال کررہی ہے اور مرکزی حکومت کے اشاروں پر این آئی اے سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کو نشانہ بنار ہی ہے اور اسی کے تحت گزشتہ دنوں ایس ڈی پی آئی بنگلور ضلعی صدر محمد شریف سمیت کچھ کارکنان کو این آئی اے نے یو اے پی اے گرفتار کیا ہے۔ اس کی مذمت کرتے ہوئے 23اور24دسمبر 2020کو ریاست کے تمام اضلاع میں ایس ڈی پی آئی کارکنان نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بنگلور، میسور بینک سرکل پر ہوئے احتجاجی مظاہرے سے ایس ڈی پی آئی ریاستی جنرل سکریٹری افسر کوڈلی پیٹ نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی کارکنان کی گرفتاری سیاسی سازش کا ایک حصہ ہے۔ بی جے پی کے رہنماؤں کے اشاروں پر NIAایس ڈی پی آئی کے کارکنوں کو نشانہ بنارہی ہے جو اپنی ناکامی کو چھپانے کا ایک ناکام ایجنڈا ہے۔ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں بنگلور ڈی جے ہلی میں اہانت رسول کا جو معاملہ چلا اور آقا صل اللہ وعلیہ سلم کی شان میں گستاخی کی گئی تھی اس پر ڈی جے ہلی میں ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ اس ہنگامے اور تشدد کے تعلق سے تفتیش پہلے دن سے ہی ریاستی پولیس اور این آئی اے کرتی آرہی ہے اور اب تک ہزاروں نوجوانوں سے پوچھ تاچھ ہوچکی ہے اور وہ بے قصور پائے گئے ہیں۔اس کے باوجود بی جے پی اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور اصل مجرموں کو پکڑنے کے بجائے ایس ڈی پی آئی کے پیچھے لگ گئی ہے۔ افسر کوڈلی پیٹ نے مزید کہا کہ جب جب بھی این آئی اے نے ایس ڈی پی آئی کے کارکنوں کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا اس وقت ہمارے کارکنوں نے این آئی اے کی تفتیش کا بھر پور تعاون کیا۔ یہاں تک کہ کارکنوں کے موبائل فون اور دفاتر کی تلاشی لی گئی مگر انہیں کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا اور ڈی جے ہلی فساد میں ایس ڈی پی آئی کا ہاتھ ہونے کا انہیں کوئی ثبوت نہیں ملا۔ دراصل بی جے پی کی ذہنیت رکھنے والا اور اس کی حمایت کرنے والا مجرم گستاخ نوین جس نے آقا صل اللہ وعلیہ سلم کی شان کے خلاف توہین آمیز پوسٹ کیا تھا۔ جس کے بنا پر بنگلور ڈی جے ہلی میں فساد برپا ہوا تھا۔ اس معاملے کا اصل مجرم کانگریس کا سابق کارپوریٹر سمپت راج ہے جو آج تک جیل میں بند ہے اور اس کے خلاف یو اے پی اے کالا قانون کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے اور دوسرا اصل مجرم گستاخ نوین کو معمولی سا کیس بناکر اس کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے جو سراسر ناانصافی اور دوہرا رویہ ہے۔دوسری طرف بے قصور مسلم نوجوانوں کو یو اے پی اے کالے قانون کے تحت گرفتار کیا جارہا ہے جو سراسر غلط ہے۔ این آئی اے آزاد بھارت کا آزاد ادارہ ہے اسے آزاد رہنے میں ہی اس کی بقاء ہے لیکن اس کے برعکس یہ موجود ہ فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والی بی جے پی کے حکومت کے اشاروں پر کام کررہا ہے۔ اگر این آئی اے اسی طرح کام کرتا رہا تو یہ ہمارے سیکولر ملک کیلئے اور یہاں کے انصاف پسند لوگوں کیلئے خطرہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایس ڈی پی آئی این آئی اے کی یا اس کی تحقیقات کی مخالفت نہیں کررہا ہے بلکہ اس کے یک طرفہ اور ناانصافی پر مبنی جانچ کی مذمت کررہی ہے۔ افسر کوڈلی پیٹ نے مزید کہا کہ کورونا کے دوران جس پارٹی نے بلا تفریق مذہب و ملت انسانیت کی خدمت کی جس کے بنا پر پورے ملک میں ایس ڈی پی آئی کے خدمات کو سراہا گیا اور قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا،اس کو بدنام کرنے کیلئے یہ تمام حربے اختیار کئے جارہے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی جو گزشتہ دس سالوں سے مسلمانوں اور پسماندہ طبقات میں سیاسی بیداری اور ترقی کیلئے کام کررہی ہے اب وہ بی جے پی کے آنکھ کا کانٹا بنی ہوئی ہے۔ ایس ڈی پی آئی تمام انصاف پسند لوگوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ایس ڈی پی آئی کا ساتھ دیں اور بے قصور نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کریں۔ اس احتجاجی مظاہرے میں گرفتار کئے گئے ایس ڈی پی آئی کارکنان کے اہل خانہ سمیت ہزاروں کارکنان اور سیکولر ذہن رکھنے والے بردران وطن شریک ہے۔