ایس ڈی پی آئی اور آل انڈیا لائرس کونسل کے وفد نے سمستی پور بہار کا دورہ کیا

40
ایس ڈی پی آئی اور آل انڈیا لائرس کونسل کے وفد نے سمستی پور بہار کا دورہ کیا
نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے پارٹی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد کی قیادت میں بہار کے سمستی پور کو ایک وفد بھیجا جہاں ایک ہی دن میں تین افراد ایک عورت اور دو مرد ہلاک ہوئے ہیں۔ وفد میں بہار کے ایس ڈی پی آئی لیڈران کے علاوہ آل انڈیا لائرس کونسل کے نائب صدر سیویلم پریتھی(تمل ناڈو)، نائب صدر اڈوکیٹ خواجہ جاوید یوسف(مغربی بنگال)،اڈوکیٹ حیدر علی (جھارکھنڈ) ،  اڈوکیٹ سنتوش جادھو (مہاراشٹرا)، اڈوکیٹ عامرخان (بہار)اور فیروز عالم بھی شامل رہے اور سمستی پور، بہار میں مسلمانوں کی آبادی پر سنگھ کی فرقہ وارانہ انجینئرنگ کے نتائج اور اثرات کا جائزہ لیا۔ اطلاع کے مطابق شرون اور حسنین کے مابین شرون کے گھر کے سامنے جانے والی سڑک بچھانے کی وجہ سے حالیہ جھگڑا ہوا۔ تین افراد کا قتل ہونے سے ایک دن پہلے شرون یادو نے جے سی بی مشین کا استعمال کرتے ہوئے اپنے گھر کے قریب سڑک کا وہ حصہ زبردستی ہٹادیا جو حسنین نے سرکاری حکام کے ساتھ معاہدے کے تحت مکمل کیا تھا۔ سڑک کے حوالے سے تنازعہ پیدا ہونے سے قبل دونوں افراد کے درمیان مبینہ طو رپر خوشگوار تعلقات تھے۔ حسین مقامی طور پر یاک مشہور شخصیت ہیں اور گاؤں میں ان کا اثر ورسوخ بھی ہے۔ وہ نائب مکھیا بھی ہیں اور اس سے قبل دو مرتبہ مکھیہ منتخب ہوچکے ہیں۔ آدھار پور علاقے میں مسلمانوں کے صرف سات گھر ہیں جن میں زیادہ تر حسنین کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ جیسے ہی شرون کے قتل کی خبر پھیلتی گئی،لوگ صبح 10بجے گاؤں سے جمع ہونا شروع ہوگئے اور باہر کے لوگوں کا بہت بڑا ہجوم جن کے گلے میں زعفرانی رنگ کا گمچھے تھے جمع ہوگئے اور مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ نعرے لگانے لگے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہجوم ایک منصوبے کے تحت یہاں جمع ہوا تھا اور ہجوم نے مسلمانوں کے تمام گھروں پر اندھا دھند حملہ شروع کردیا۔مسنر صنوبر خاتون 45سال،حسنین کی بیوی کو بالوں سے پکڑ کر گھر سے زبردستی باہر نکالا گیا۔ ان کے کپڑے اتار کر انہیں عوام کے سامنے گھمایا گیااور پانی میں ڈبو ڈبو کر ماردیا گیا۔ عینی شاہدین نے انکشاف کیا کہ خاتون کی چھاتی تیز دھار ہتھیار سے کاٹ دی گئی اور ان کی آخری سانس تک ان پر وحشیانہ تشد د کیا گیا۔ ہجوم نے پورے دن تک پولیس کی مداخلت کے بغیر تشدد جاری رکھا اور شام سے پہلے غنڈوں نے مسلمانوں کے ساتوں گھروں کو لوٹا اور آگ لگادی اور زمین بوس کردی۔ انور، عمر 30سال جو حسنین کا ایک بھتیجہ ہے پرتشدد ہجوم کے ہاتھوں آگیا اور اسے تشدد اور بے حرمتی کے تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے موقع پر ہی بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ حسنین کی بیٹیوں سمیت مسلمان عورتیں پڑوسی کے گھر میں گھس گئیں جنہوں نے غیر معمولی حالات میں ان کی حفاظت کو یقینی بنایا لیکن ہجوم نے حسنین کے کمزور اور بوڑھے باپ کو بھی نہیں چھوڑا، انہیں پیٹ پیٹ کر شدید زخمی کیا گیا ہے۔ پولیس نے انہیں بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا جہاں کئی دنوں کے بعد انہیں ہو ش میں لایا جاسکا ہے۔حسنین کے بھائی نور عالم کو بہتر علاج کیلئے ڈی ایم سی ایچ دربھنگہ بھیجا گیا ہے۔ اس علاقے میں حال ہی میں بجرنگ دل کی موجودگی دیکھی گئی ہے۔ وہ گلیوں اور سڑکوں پر زعفرانی گمچھوں کے ساتھ گھومتے ہیں تاکہ اپنی موجودگی کی محسوس کروائیں اور کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائیں۔ ایس ڈی پی آئی نے سمستی پور میں ہوئے تشدد اور ناانصافی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا ہے۔ پولیس نے ابھی تک تین مجرموں کو گرفتار کیا ہے لیکن سیاسی دباؤ کی وجہ سے ان میں سے سرکردہ کو ابھی تک گرفتا رنہیں کیا گیا ہے۔انور اپنے خاندان کا واحدروٹی کمانے والا تھا۔ مرحوم انور نے اپنے پیچھے ایک جوان بیوہ نصرت جہاں اور چار نابالغ بچے چھوڑا ہے جن میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ جن کی عمر 9,7,5اور تین سال ہے۔ انور کے سسر نے اس خاندان کو پناہ دی ہے۔ خاندان کے سر پر مستقل چھت تک نہیں ہے۔ گھر کیلئے ضروری سامان یا بچوں کیلئے کپڑے ابھی تک سوگوار کے پہنچ سے باہر ہیں۔ انہیں فوری طور پر کمیونٹی کی ہمدردانہ مدد کی ضرورت ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ نتیش کمار حکومت نے ابھی تک کوئی مدد فراہم نہیں کی ہے۔