‘ایران سے جوہری معاہدے پربات چیت غیرمعینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی’

23

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ 2015ء میں ہونے والے جوہری معاہدے کو بحال رکھنے کے لیے مذاکرات ”غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتے”۔ انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے میں پیش رفت دکھائے۔

بلنکن نے یہ بات جمعرات کے روز کویت میں اپنے کویتی ہم منصب شیخ احمد ناصر محمد الصباح کے ساتھ اخباری کانفرنس کے دوران کہی۔ اعلیٰ ترین امریکی سفارت کار نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ بات چیت جاری رکھنا چاہتی ہے، لیکن اب ایران کو فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

جنوری میں جب سے جو بائیڈن نے امریکی صدر کا عہدہ سنبھالا ہے، دونوں فریقوں نے ویانا میں بالواسطہ مذاکرات کے کئی دور کیے ہیں۔ ان مذاکرات میں ایران پر زور دیا گیا تھا کہ وہ بین الاقوامی سمجھوتے کی پاسداری یقینی بنائے جس میں پابندیوں میں نرمی کے عوض ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو محدود کیا گیا تھا۔

سال 2018ء میں امریکہ اس معاہدے سے علیحدہ ہو گیا تھا، جسے باضابطہ طور پر ‘جوائنٹ کمپری ہنسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے)’ کا نام دیا گیا تھا۔ اس وقت سے اب تک ایران نے اپنے اوپر لگائی گئی پابندیوں کے خلاف کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں یورینئم کی افزودگی کا درجہ بڑھانا اور افزودہ جوہری مواد کا اجازت سے بڑھ کر ذخیرہ کرنا شامل ہے۔

بلنکن کے بقول، اگر ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق اپنی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے، تو پھر معاہدے کا کوئی فائدہ نہیں، نہ ہی ‘جے سی پی او اے’ کی بحالی ممکن ہو گی۔

امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس نے اس تشویش کو مد نظر رکھتے ہوئے ایرانی نیوکلیئر سرگرمیوں کو محدود کرنے کا اقدام کیا تھا، تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے۔ ایران کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

علاقائی سیکیورٹی کے دیگر امور کا ذکر کرتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ امریکہ اور کویت مل کر کام کر رہے ہیں، تاکہ کرونا وائرس کی وبا کو ختم کیا جا سکے اور مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے عوام کی ضروریات پوری کرنے سے متعلق معاملات زیر غور لائے جا سکیں۔

انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان اتحاد برقرار رکھنے کے لیے کویت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ تین سال سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کو تنہا کر رکھا ہے۔

کویتی وزیر خارجہ سے ملاقات کے علاوہ بلنکن نے جمعرات کے روز کویت کے امیر، ولی عہد اور وزیر اعظم سے ملاقات کی اور ملک کی پارلیمان کا دورہ کیا۔