ایتھوپیا میں قتل عام پر اقوام متحدہ کی تشویش اور انتباہ

38

انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی سربراہ مشعیل بیشلیٹ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایتھوپیا کے علاقے ٹگرے میں بڑھتے ہوئے تنازعے کو جلد ہی قابو میں نہ لایا گیا تو یہ مزید شدت اختیار کر کے قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔

ایتھوپیا کی فوج اور ٹگرے کی علاقائی حکومت کی فورسز کے درمیان ایک ہفتے سے زیادہ جاری لڑائی میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر نجی املاک اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

علاقے میں انسانی حقوق کی وسیع پامالیوں کے سبب، ہزاروں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ایتھوپیا کے ساڑھے 14 ہزار سے زیادہ شہری بھاگ کر سوڈان پہنچ گئے ہیں، اور پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ ابھی مزید لوگ راستے میں ہیں۔

انسانی حقوق کیلئے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر بیشلیٹ نے ٹگرے کی تیزی سے بگڑتی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے ترجمان رُپرٹ کول وِل کا کہنا ہے کہ وہ خصوصی طور پر ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ پر مضطرب ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ٹگڑے کے جنوب مغربی علاقے مائی کادرا میں وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری ہوئی ہے۔​

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک رپورٹ کی تصدیق نہیں ہو سکی اور ہائی کمشنر نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی مکمل چھان بین کی جائے کہ دراصل وہاں ہوا کیا تھا۔

کول ول کہتے ہیں کہ اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ لڑائی میں ایک فریق نے جان بوجھ کر عام شہریوں کو قتل کیا، تو پھر یہ یقیناً جنگی جرائم کے زمرے میں آئے گا، اور وہاں جو ہوا، اس کے لئے ایک آزاد تفتیش اور مکمل جوابدہی کی ضرورت ہے۔ تاہم اس وقت پہلی ترجیح لڑائی کو بند کروانا اور مزید ایسی ظالمانہ کاروائیوں کو روکنا ہے۔

ایمنیسٹی کی فراہم کردہ تصاویر اور متعدد ویڈیوز میں لوگوں کو خنجروں اور کلہاڑیوں سے مارنے کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں ہلاک ہونے والے بظاہر عام مزدور نظر آتے ہیں جو کہ کسی عسکری کاروائی میں ملوث نہیں تھے۔

کول ول کا کہنا ہے کہ ہائی کمشنر کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایتھوپیا کی حکومت نے اپنی فضائی کاروائیوں میں شدت پیدا کی ہے اور مخالف بری فوج کے ساتھ شدید لڑائی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ کول ول کا کہنا ہے کہ بیشلیٹ کو پانی بند کرنے، بجلی کی فراہمی معطل کرنے، اور کمیونیکیشن کو مکمل طور پر ختم کرنے کی اطلاعات پر بھی شدید تشویش ہے۔

کول ول کا کہنا تھا کہ یو این ہائی کمشنر بیشلیٹ نے دونوں فریقوں سے لڑائی بند کرنے اور بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے۔

ہائی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ اندرونی تنازعہ طول پکڑتا ہے تو پھر اس سے ٹگرے اور ایتھوپیا، دونوں کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے برسوں میں حاصل کی گئی اہم ترین ترقی ضائع ہو جائے گی۔

کول ول نے کہا کہ ہائی کمشنر کو ڈر ہے کہ اگر دونوں فریقوں نے ان کے انتباہ کو نظر انداز کیا، تو پھر یہ معاملہ آسانی سے سرحدوں کے پار تک پھیل سکتا ہے، جس سے مشرقی افریقہ کے چند علاقے ممکنہ طور پر عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔