اک دن کے لئے ذرا سا تم غریب ہوجاؤ

37
تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی مدرس بارہمولہ کشمیر
یہ موسم سرد ہواؤں کا،کیوں لوٹ کے پھر سے آیا ہے
مجھ کو کر کے تنہا سا، بے تابی ساتھ میں لایا ہے
برف اللہ کی عظیم رحمتوں میں سے ایک رحمت عظمیٰ ہے۔ بالخصوص جب بات وادی کشمیر کی جاۓ تو یہاں کا حسن و جمال بغیر برف ادھورا  بلکہ ناقص ہے۔ وادی کشمیر پوری دنیا میں جنت بے نظیر کے خطاب سے معروف ہے۔ اور اس خطاب کے پیچھے برف کی اپنی اہمیت آپ ہے۔ثانیاً وادی کشمیر کا ایک بہت بڑا طبقہ سیاحت کے ساتھ مقید ہے۔ نوجوان کشمیر کا ایک بہت بڑا طبقہ ایسا ہے جن کا روزگار سیاحت کے ساتھ منسلک ہے۔اہل شعور جانتے ہیں کہ برف کے نزول سے سیاحوں کی آمد میں کافی اضافہ ہوتا ہے۔ وادی کشمیر کی معیشت کا بڑا حصہ اسی برف پر منحصر ہے۔ایک اور بات واضح ہے کہ اہل کشمیر برف باری میں اپنے آلام و مصائب کو بھول کر برف سے لطف اندوز ہوکر اپنے دل کو مسرت بخشتے ہیں۔بچوں سے لیکر بزرگ افراد تک برف کی خوبصورتی سے مستفید ہوتے ہیں۔وادی کشمیر کے شب و روز چونکہ پہلے ہی درد و غم میں گزرتے ہیں، ایسے میں اللہ کی اس نعت کا نزول زخموں کو کسی حد تک مرہم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔شریعت کے آئینہ میں دیکھا جائے تو برف پاک ہے اور وضو و غسل کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے یعنی برف طاہر ہے اور پاک کرنے والی بھی۔ثانیاً رسول کریمﷺ نے دعاء افتتاح و دعاء جنازہ میں برف سے گناہ دھونے کی دعا اللہ سے مانگی ہے، معلوم ہوا کہ برف ایک اعلی تحفہ الہی ہے۔
جیسے ہی برف کا نزول ہوتا ہے تو لوگ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ایک گروہ ایسا ہے جو اس برف سے نفرت و براءت کا اظہار کرتا ہے۔ یاد رہے کہ ایسی صفت ایمان کے مخالف ہے۔جس سے تحذیر لازمی ہے۔ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ برف کی آمد سے بجلی، پانی اور راستے ٹھپ پڑ جاتے ہیں جس سے لوگوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ نقطہ اظہر من الشمس ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ہر تکلیف کے پیچھے خیر کا پہلو پوشیدہ ہوتا ہے۔جس کا ادراک کرنے کے لئے شرعی نصوص کی طرف رجوع کر نا لازمی ہے۔قرآنی آیات اس بات پر دال ہے کہ نعمتوں کا شکر کرنا، بقاء نعمت کی مفتاح ہے اور کفران نعمت زوال نعمت کی راہ۔ثانیاً اللہ رب العزت نے وحی خفی میں برف کو پسند فرمایا ہے تبھی تو تاجدار حرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دعاء کلمات میں استعمال فرمایا تو معلوم ہوا کہ برف سے نفرت کرنا خلاف سنت بھی ہے۔دوسرا گروہ ایسا ہے جو علانیہ برف کے متعلق ناشائستہ الفاظ استعمال کرتا ہے۔ بجلی کی عدم موجودگی کی باعث یہ گروہ انٹرنیٹ و دیگر چیزوں سے عارضی طور پر متاثر ہوتا ہے، لہذا اپنا غصہ ظاہر کرنے کے لئے ایسے افراد برف کے بارے میں غیر صحیح الفاظ استعمال کرتے ہیں جو کہ شرعاً حرام ہے۔ رسول کریمﷺ نے اپنی احادیث صحیحہ کے اندر وقت، تیز ہوا، بخار، مرغی کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ شیطان کو گالی دینے سے بھی امت کو روکا گیا البتہ پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا کیونکہ ان سب کی تخلیق خالق کائنات نے فرمائی ہے۔ایسے الفاظ انسان کو ایمان سے بھی محروم کراسکتے ہیں لہذا توبہ لازم ہے۔
میں خون بیچ کے روٹی خرید لایا ہوں
امیر شہر بتا یہ حلال ہے کہ نہیں
برف کی آمد پر لوگوں کا ایک گروہ سیر و تفریح کے نام پر فحاشی اور عریانی میں غرق ہوتا ہے۔ جیسا کہ سال 2021 کے ابتدائی دن کے موقع پر جشن کے نام پر وادی کشمیر کے بعض بھٹکے ہوئے نوجوانوں نے گلمرگ و دیگر مقامات پر فحاشی کے انجمن سجائے۔ یہ اللہ کی پکڑ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ نعمت کا شکر، اس نعمت کا ذکر خیر اور اس کا صحیح استعمال کرنے سے ہوتا ہے جس سے اکثر لوگ غافل ہیں۔نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا آپس میں برفانی جنگ کرنا بھی شرعی و اخلاقی نقطہ نظر سے حرام اور باطل ہے۔جوانی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے لیکن دنیا کو شرم و سادگی کا درس دینے والے آج علانیہ راہوں پر شرام کی نجاست میں خود کو زہر آلودہ کر رہے ہیں جو کہ اس قوم کی زوال کی بنیادی وجہ ہے۔اب ایسا لگتا ہے کہ جہاں دو لڑکے یا دو لڑکیاں جمع ہو جائیں وہاں خیر نہیں اور جہاں لڑکا اور لڑکی جمع ہو جائیں وہاں سے بھاگنے میں ہی خیر ہے۔لیکن مصلحین کو ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں۔ملت کے والدین اپنے اولادوں کی نگرانی کا حق ادا کرنے میں کافی غافل نظر آرہے ہیں۔دوسری وجہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والے YouTube  کے ذریعے اپنی تشہیر (publicity) کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ (إلا من رحم ربي)
میں کہیں بھوک سے نہ مر جاؤں اے امیر شہر
گر مستقبل ہوں تمھارا تو بچا لو مجھ کو
برف کی آمد پر لوگوں کا ایک گروہ سستی اور کاہلی کا شکار ہوجاتا ہے اور ان کا پورا وقت بستر میں خواب خرگوش کی حالت میں ضایع ہوجاتا ہے۔بحیثیت ایک مسلمان، وقت کی قدر کرنا ہم پر واجب ہے۔ وقت میسر ہوتو قرآن کا مطالعہ، کتب احادیث کا مطالعہ، سلف و صالحین کے اقوال و افعال و سیر کا مطالعہ بڑی عمدگی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔قرآن کے ترجمہ و تفسیر کا درس اپنے اہل خانہ کو دیا جاسکتا ہے جس سے وقت کی برکت حاصل کی جاسکتی ہے۔موبائل فون (smart phones) پر سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کی جگہ اگر کتب بینی کی جائے تو ہمارے زنگ آلودہ ذہن صاف ہوسکتے ہیں۔حفظ قرآن و حفظ احادیث کا موقع اس سے بہتر حاصل نہیں ہوسکتا۔اسی طرح اہل علم کے دروس سماعت کئے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح اہل ایمان اللہ کی اس کائنات پر غور و تدبر و تفکر سے کام لیکر معرفت الہی کا چراغ دل میں جلایا جاسکتا ہے۔لوگوں کا ایک باشعور طبقہ برف کے نزول پر غیر ریاستی و غیر ملکی سیاحوں میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیتا ہے۔کشمیر چونکہ اولیاء و صالحین کا مرکز رہا ہے، انہیں اسلاف کے مشن کو آگے پہنچانے کے لئے یہ گروہ کمربستہ ہوتا ہے اور کما حقہ اپنے فریضہ کا حق ادا کرتا ہے۔ ایسے نوجوانوں کی محنت شاقہ قابل تحسین و قابل فخر ہے۔
سرما کی ہواؤں میں ہے عریاں بدن اس کا
دیتا ہے ہنر جس کا امیروں کو دوشالہ
امید نہ رکھ دولت دنیا سے وفا کی
رم اس کی طبیعت میں ہے مانند غزالہ
رحمت الہی کی آمد پر لوگوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اپنی قسمت کو کوس رہے ہوتے ہیں۔ یہ افراد اپنی غربت و بے بسی سے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں۔ موسم سرما کی ابتداء سے ہی یہ اس ڈر میں سہمے ہوئے ہوتے ہیں کہ کہیں اس سال کی برف ان کے گھر کی چھت اتار کر کہیں ان کے وجود کو روئے ارض سے مٹا نہ دے۔غرباء و فقراء اور مساکین کا یہ طبقہ اپنی مجبوریوں کی وجہ سے بکھر چکے ہوتے ہیں۔ بعض افراد ایسے بھی ہیں جن کی گھریلو زندگی کا خرچہ مزدوری پر ہی منحصر ہے۔ برف کی آمد پر ایسے افراد بے روزگار ہوجاتے ہیں اور ان کے اہل خانہ بھوک و پیاس کی شدت میں اپنے خوابوں کو مسل دیتے ہیں۔ہم پر واجب اور فرض الہی ہے کہ ایسے بے کسوں کی مالی مدد کریں۔ مالی مدد کے ساتھ ساتھ جن کے مکان کا چھت مضبوط نہیں ، انہیں اپنے گھروں میں جگہ دے کر ایمانی غیرت کا بین ثبوت دیں۔رسول کریمﷺ کی تعلیمات اس بات پر دال ہیں کہ محتاج مسلمان کی معاونت کرنے والا دن کے صائم، رات کے قائم اور مثل مجاھد ہے۔مسلمان تو وہی ہے جو دوسروں کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے محبوب رکھتا ہو۔اہل ایمان تو ایک جسم کی مانند ہے۔مبارک کے مستحق ہیں ایسے افراد جو اس تیز برف باری میں بھی کمربستہ ہوکر ضرورت مندوں کی ضرورت پورا کرتے ہیں۔لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ انفرادی سطح پر ہر ایک voluntary سامنے آئے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ’’اور اس کے اس احسان کو یاد کرو جو اُس نے تم پر کیا ہے جب کہ تم آپس میں ایک دُوسرے کے سخت دُشمن تھے، پھر اُس نے تمہارے دلوں میں اُلفت پیدا کردی، تم اُس کے فضل سے آپس میں بھائی بھائی ہوگئے۔”(آل عمران)۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سرمائی سردیوں میں مساجد کے ائمہ و مدرسین کافی بری طرح سے متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ روز قبل بھارت کے ایک امام مسجد کی وفات سردیوں کے باعث ہوئی۔ یہ ایک سؤالیہ نشان ہے مساجد کی انتظامیہ کے لئے۔ ایک تو مساجد کے ائمہ قلیل تنخواہ پر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں ثانیاً ان کے لئے جو کمرے دستیاب ہوتے ہیں وہ کسی لائق نہیں ہوتے۔ اے اہل اسلام!  اپنے ضمیر کو زندہ کرلو۔۔ اپنی غیرت کو جھکاؤ۔ کیا مساجد کے ائمہ یتیم ہوتے ہیں۔؟ پوری قوم کو خیر و بھلائی کا  درس دینے والے آج کیوں سردیوں کے حوالے کئے جاتے ہیں۔۔۔۔؟ ان کی فکر ہمیں ہی رکھنی ہے۔۔۔ انبیاء کے وارثین کو بے یار و مددگار نہ چھوڑو۔۔۔۔ جیسا کہ فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ “مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اُس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ اُسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اُسے حقیر جانتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے قلب مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار یہ الفاظ فرمائے: تقویٰ کی جگہ یہ ہے۔ کسی شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان پر دُوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔”.(صحیح مسلم،ج:۲،ص: ۳۱۷، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ) نیز فرمایا کہ  ’’ایمان والوں کی آپس کی محبت، رحم دلی اور شفقت کی مثال ایک انسانی جسم جیسی ہے کہ اگر جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے تو (وہ تکلیف صرف اُسی حصہ میں منحصر نہیں رہتی، بلکہ اُس سے) پورا جسم متأثر ہوتا ہے، پورا جسم جاگتا ہے اور بخار و بے خوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘.(صحیح البخاری)
مجھے غرور رہتا ہے تیری آشنائی کا
مگر ساتھ غم بھی ہے تیری جدائی کا
بھیڑ میں اکیلے پن کا احساس ہوتا ہے
تیرے بن یہ حال ہے میری تنہائی کا
موسم سرما کی برف میں اکثر بچھڑے ہوئے لوگوں کی یاد ستاتی ہے۔ راقم نے یہ محسوس کیا ہے کہ جیسے اس موسم اور جدائیوں کا ایک خاص رشتہ ہے۔ اسی طرح یاد ماضی اور سرمائی ہواؤں کا رشتہ کافی گہرا ہے۔جیسا کہ شاعر نے کہا۔۔۔۔
دسمبر لوٹ آیا ہے
تمھارے لوٹ آنے کی، نئی امید جاگی ہے
سنا ہے میرے آنگن کی
تمھیں اب یاد آتی ہے، سنا ہے تم پشیماں ہو
چلو پھر ایسا کرتے ہیں
دسمبر کا مہینہ ہے، نیا آغاز کرتے ہیں
اہل دن جانتے ہیں کہ وادی کشمیر کی ہر ماں  یہ درد لئے اپنے سینے کو کرید رہی ہے۔ یہاں کی مائیں اپنے لخت جگروں کی یاد میں دیوانی ہوچکی ہیں۔ یہاں کی بہنیں اپنے سہاروں کو سفید برفیلے کفن کے نیچے ڈھونڈ رہی ہیں۔یہاں کی نئی نویلی دلہن اپنے سرتاج کو تلاش کر رہی ہیں جس کے وجود کو ظالموں نے مٹا دیا۔یہاں پچیس برس سے ماں اپنے گمشدہ نور نظر کی کھوج میں سرد ہواؤں کو چیرتے ہوئے مجنون ہوچکی ہیں۔۔۔برف کا یہ سفید کفن میری وادی کے خون کو نہیں چھپا سکتا جس خون سے ہماری گلیاں نہارہی ہیں۔ ہاۓ میرے رب! میرے اس گلستان کو کس نے آگ لگادی؟ میرے اس مہکتے چمن کو کس نے لوٹ کر تباہ کیا؟ یہاں کے  والدین اپنے اکلوتے بیٹوں کی جدائی سے نڈھال ہوچکے ہیں۔۔۔ ہاتھ میں مہندی سجائے دلہن اپنے بھائی کی منتظر ہے جو اس کے ہاتھوں میں مہندی لگائے۔۔۔اے اہل ارض! یہ خون قرض ہے تم پر۔۔۔ لیکن شاید جواب آرہا ہے کہ کہیں تم نے اپنے ضمیر کا سودا تو نہ کیا۔۔۔۔۔؟
بس ان بے سہارا، مجبور افراد کی دل جوئی کریں جو اپنے درد کی وجہ سے اندر ہی اندر قبر کے حوالے ہورہے ہیں۔
وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے
شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے
یہ قول یاد رکھنا کہ
“The best and most beautiful things in this world cannot be seen or even heard, but must be felt with the heart.”
اپنی اس تحریر کا اختتام اس نصیحت سے کروں گا جو راقم کے مرشد نے راقم کو کی ہے کہ “بانٹنے کی عادت ڈالئے۔۔۔ جزبے بھی،چیزیں بھی، خُوشیاں بھی۔” کسی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھانا۔۔۔ کسی محتاج بیٹی یا بہن کو بری نگاہ سے مت دیکھنا۔۔۔۔ یہ یاد رکھنا کہ جہاں امیری ہو وہاں فقر بھی لوٹ کے آتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں کو محبت و الفت سے مزین کردے۔۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔