جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتاکیسویں صدی میں بچوں کی تربیت ایک بڑا چیلنج..!

اکیسویں صدی میں بچوں کی تربیت ایک بڑا چیلنج..!

  والدین بننا ایک فطری عمل ہے مگر گارجین یا نگراں و سرپرست بننا ایک فکری عمل ہے۔اسی طرح تعلیم یافتہ ہو جانا ایک فطری عمل ہے مگر تربیت دینا یا حاصل کرنا ایک فکری کوشش ہے۔ تعلیم ماحول ملنے پر حاصل ہو جاتی ہے مگر تربیت خواہش یا چاہت کی بنیاد پر ہی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔تعلیم حاصل کرنا مشکل ضرور ہے مگر اچھی تربیت دینا اس سے بھی بڑا چیلینج ہے۔عمر کے مطابق تقاضے کا لحاظ کرتے ہوئے تربیت مہیا کرانا سب سے زیادہ اہم کام ہے ۔اسی لئے اکثر ماہر نفسیات کا خیال ہے کہ اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے ڈاکٹر، انجینئر، سائینسدان یا افسر وغیرہ کی تو بہتات ہو رہی ہے مگر اچھے انسانوں کی کمی ہوتی جارہی ہے ۔

          میں اکثر کہتا ہوں کہ دنیا میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہی سب سے زیادہ بدعنوان ثابت ہوئے ہیں ۔دولت کی بنیاد پر اعلیٰ تعلیم تو حاصل کی جا سکتی ہے لیکن اچھی تربیت کے حصول میں ذاتی توجہ کی اشد ضرورت پڑتی ہے ۔اعلیٰ تعلیم کی بنیاد پر دنیا میں اعلیٰ عہدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن انسانی قدریں ہمیشہ اچھی تربیت کی محتاج ہوتی ہیں ۔اس طرح غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پوری زندگی کو سنوارنے میں تعلیم کا صرف دس فیصد حصہ ہو سکتا ہے جبکہ تربیت کا رول نوے فیصد تک مانا جا سکتا ہے۔شاید اسی لئے اکثر کم تعلیم یافتہ افراد بھی بڑے مہذب اور زیادہ تعلیم یافتہ لوگ بے ڈھنگے ہوسکتے ہیں ۔
        ذرا پیچھے مڑ کر اپنے والدین اور پھر ان کے والدین کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کم تعلیم کے باوجود وہ اکثر مہذب اور شائستہ ہوتے تھے۔ان کے پاس اعلیٰ تعلیم یافتہ بچے نہیں تھے مگر زندگی میں ان کو اپنی اولاد سے سکون حاصل تھا۔ یاد رہے کہ تعلیم مدرسہ یا اسکول میں حاصل کی جاسکتی ہے لیکن تربیت کا اصل گہوارہ گھر ہی ہوتا ہے جسے اب ہمارا سماج لگ بھگ بھلا چکا ہے ۔والدین اپنی ذمہ داری کو بھول کر بچوں کی تعلیم پر خوب خرچ کرکے تعلیم اور تربیت دونوں کو خرید لینا چاہتے ہیں ۔
      موبائل جس کو اکیسویں صدی کی سب سے بڑی ضرورت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، حقیقتاً بچوں کی تربیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا ہے۔ موجودہ دور میں موبائل جیسی کسی بھی سائنسی ایجاد نے انسان کو جہاں ترقی کی راہ دکھائی ہے وہیں زبردست نقصان بھی پہنچایا ہے۔ پہلے کی ایجادات نے زندگی کو آسان زیادہ بنایا، نقصان کم پہنچایا لیکن موبائل نے تو انسان کو اپنی گرفت میں لے کر لگ بھگ تمام اخلاقی اقدار کا جنازہ ہی نکال دیا ہے ۔
      کسی بھی شخص کے لئے اس دنیا میں صالح اولاد سب سے بڑا سرمایا ہوتی ہے۔ اس لئے کہ مرنے کے بعد اپنی نیکی اور نیک اولاد کے اعمال صالحات ہی والدین کی اخروی کامیابی کا واحد ذریعہ ہوتے ہیں ۔ایسے حالات میں موجودہ صدی میں والدین کو بچوں کے تعلق سے درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے چند اہم نکات اس طرح ہو سکتے ہیں ۔
       1۔ والدین اپنی کوششوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی صالحیت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا ضرور کریں۔
    2۔ اپنی اولاد پر رشک ضرور کریں لیکن گھمنڈ کبھی نہ کریں ۔
    3۔ بچوں کی حوصلہ افزائی ضرور کریں لیکن ان کے منھ پر بیجا تعریف کبھی نہ کریں، ہاں دوسرے لوگ کریں تو ان کا شکریہ ادا کریں ۔
    4۔ غلطی ہونے پر اکیلے میں سمجھائیں۔ دوسروں کے سامنے برا بھلا کہنے سے گریز کریں تاکہ ان کی خودی کو ٹھیس نہ پہنچے ۔
    5۔ اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت پر کئے گئے خرچ کا ان کے یا دوسروں کے سامنے بار بار ذکر نہ کریں۔ اس سے ان کے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوگا اور ان کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے ۔
    6۔ حتی المکان بچوں کے سامنے گھر کی دوسری پریشانیوں کو لے کر بحث و گفتگو کرنے سے پرہیز کریں ۔
   7۔ ان کی تربیت اس طرح کیجئے کہ وہ دوسروں کے بچوں کو حقیر نہ سمجھیں ۔
   8۔ دوسروں سے موازنہ نہ کریں بلکہ ان کی اپنی صلاحیتوں کے حساب سے آگے بڑھنے کا سبق سکھائیں ۔
   9۔ ان کی بیجا ضد کو کبھی نہ مانیں بلکہ اس کے نقصانات کو سمجھائیں ۔
   10۔ انہیں ضروریات زندگی اور بے جا خواہشات کا فرق بتائیں تاکہ فضول خرچی کی عادت نہ لگے۔
   11۔ بچوں کی روز مرہ کی غلطیوں کو درگزر کریں اس لیے کہ بچے غلطیوں سے ہی سیکھتے ہیں ۔
   12۔ ہر حال میں بچوں کو سچ بولنا سکھائیں اور خود بھی اس پر عمل کریں ۔اس لئے کہ موبائل نے ان دنوں سب کو جھوٹ بولنا سکھا دیا ہے ۔
     13۔ موبائل کا استعمال ضروری سے زیادہ مجبوری بن چکا ہے لہٰذا ہفتہ یا مہینہ میں کم از کم ایک بار پورا گھر No Mobile Day ضرور منائے تاکہ موبائل کے بغیر بھی زندگی ممکن ہے، کا احساس زندہ رہے۔
    14۔ ان کے اندر ایسا اعتماد پیدا کریں کہ وہ گھر سے باہر گزارے گئے اپنے اوقات کا گھر لوٹ کرخود ہی حساب دیے دیں ۔
   15۔بچوں کو آزادی ضرور دیں مگر دوسرے ذرائع سے ان پر نظر بھی رکھیں ۔اچھے دوستوں سے بھی اپنے بچوں کی ذہنی صورتحال کا پتہ لگاتے رہیں ۔
   16۔ بچوں کے اچھے دوستوں کو گھر پر ضرور بلائیں اور ان سے گفتگو کرکے ان کی حوصلہ افزائی کریں ۔
  17۔ آج کل زیادہ دولت کمانا پہلی ترجیح بن چکا ہے لہٰذا اس ذہنیت کو بدلیں کہ زیادہ پیسہ خرچ کرکے بچوں کا زیادہ بھلا ہوتا ہے۔
   18۔ ہر ممکن بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں ۔ بدنصیبی سے کسی بھی وجہ سے جو اپنے گھروں سے دور رہتے ہیں، موقع نکال کر ان کو ضرور وقت دیں ۔
    19۔ جب بھی موقع ملے گھر میں دسترخوان پر ایک ساتھ کھانے کی عادت ڈالیں۔
   20 ۔ بچے کوئی بات چھپائیں تو پیار سے تحقیق کریں ورنہ بے وجہ سختی کرنے پر وہ آپ سے دور ہوتے جائیں گے۔
  21 ۔ بچے جب اچانک خاموش ہو جائیں تو اس کی وجہ جاننے کی کوشش کریں اور اس کا حل نکالیں ۔
  22 ۔ بچوں کے سامنے والدین کو آپس کے غیر ضروری بحث اور جھگڑے سے بچنا چاہئے ۔
   23 ۔ والدین اپنی زندگی کی تکلیفوں کا حوالہ بار بار مت دیں ورنہ بچےغیر ضروری احساس میں مبتلا ہو جائیں گے اور آگے نہیں بڑھ سکیں گے ۔
   24 ۔ کسی بھی حالت میں بچوں کے لئے غلط جملے یا بددعا کے الفاظ مت نکالیں ۔
    25 ۔ خود بھی مہذب لباس پہنیں اور اپنی اولاد کو بھی مہذب لباس چننے کی تلقین کریں اس لئے کہ انسان اپنے لباس سے بھی  پہچانا جاتا ہے ۔
   26 ۔ اچھی اور تعمیری کتابوں کا خود بھی مطالعہ کریں اور بچوں کے ذوق کے مطابق انہیں بھی اچھی کتابیں پڑھنے کی عادت دلائیں ۔
    27 ۔ آس پاس، ملکی اور غیر ملکی حالات سے باخبر رہنا سکھائیں ۔بے خبر لوگ اکثر نفس پرست ہوجاتے ہیں ۔
  28 ۔ گھر سے لے کر باہر تک چھوٹے موٹے فیصلے کرنے کی اجازت دیں تاکہ خود اعتمادی پیدا ہو سکے۔
   29 ۔ بچوں کو نماز، تلاوت قرآن پاک اور دیگر اچھی عادتوں کا پابند بنائیں ۔
    30 ۔ انہیں یہ یاد دلاتے رہیں کہ سویرے سونے اور سویرے اٹھنے میں ہی دین و دنیا کی کامیابی ہے ۔
    31 ۔ بچوں کی جسمانی ضرورتیں ضرور پوری کریں مگر یاد رکھیں روحانی غذا سے ہی ذہنی نشوونما ہوتی ہے جو دونوں جہان میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔
   32 ۔ اپنے بچوں کے مابین فرق نہ کریں اور ہر حال میں سبھوں کو ایک نظر سے دیکھیں۔
     33۔ گھر میں مہمانوں کے آنے یا کہیں مہمان بن کر جانے کے بعد موبائل چھوڑ کر ملاقات اور گفتگو پر توجہ دلانے کی پوری کوشش کریں ۔
    34۔ اولاد سے بہت زیادہ توقعات نہ رکھیں بلکہ امید اللہ سے جوڑیں، ان شاءاللہ نیک بچے والدین کے سکون دل کا ذریعہ ضرور بنیں گے۔
    35 ۔ یاد رکھیں سب سے بہترین والدین وہی ہو سکتے ہیں جو اپنی اولاد کو عمر کے مطابق اچھی تعلیم وتربیت دیتے ہیں ۔
     اللہ ہمیں دولت جمع کرنے سے زیادہ نیک اولاد تیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
               سرفراز عالم، عالم گنج پٹنہ
                  رابطہ: 8825189373
روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے