اکابرِ دیوبند نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوے فرنگی اقتدار کے طوفان کو روکا

75

اکابرِ دیوبند نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوے فرنگی اقتدار کے طوفان کو روکا،
24 دسمبر 2020
نمائندہ نوائے ملت
پریس ریلیز
اسلامیانِ ہند کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ اور نسلِ نو کو دشمنانِ اسلام کی فکری یلغار سے بچانے کے لئے اکابرِ دیوبند نے جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے.
اکابرِ دیوبند نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوے فرنگی اقتدار کے طوفان کو روکا. دینِ حق کا دفاع کیا ,ناموسِ رسالت کی حفاظت کی, اپنی تصنیف و تالیفات میں صحیح اسلامی افکار کی ترجمانی کرکے ہمارے جداگانہ اسلامی تشخص کو برقرار رکھا .
ان اکابرِ دیوبند کی علمی جد و جہد فکرِ دیوبند کی توسیع و تشییر کے حوالہ سے تاریخ ساز ثابت ہوئی . ان کے فکر کے تسلسل کو باقی رکھنے کے لئے آل انڈیا تنظیم و علماء حق کا ترجمان “فکرِ انقلاب” اکابرِ دیوبند نمبر, جس کی رونمائی کی تقریب سرزمینِ دیوبند پر دار العلوم اشرفیہ کے شیخ الہند حال میں بعد نمازِ مغرب چھ بجے شام کو منعقد ہوئی. جس کا افتتاح کرتے ہوے صدرِ تنظیم مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کیا. جس اجراء کی تقریب میں دار العلوم دیوبند اور وقف دار العلوم دیوبند کے اصحابِ علم و قلم اور اہالیانِ دیوبند نے آل انڈیا تنظیم علماء حق کی تحسین کی. اور کہا کہ جو کام دیوبند کی سرزمین میں ہونا چاہیے تھا. اس کو کام کو “فکرِ انقلاب” کے مدیران نے مولانا محمد اعجاز عرفی کی نگرانی میں دہلی کی سرزمین میں انجام دیا. جس کے لئے ادارہ فکرِ انقلاب مبارک باد کے مستحق ہے. مولانا سالم اشرف قاسمی نے اکابرِ دیوبند کی علمی فکری جد و جہد پر تبصرہ کرتے ہوے کہا کہ آل انڈیا تنظیم علماء حق مسلسل پندرہ سال سے اکابرِ دیوبند کے اوصاف و کمالات پر دستاویزی شمارے شائع کرکے اوراکابرِ دیوبند پر عظیم تاریخی دستاویزی شمارہ اکابرِ دیوبند نمبر کی اشاعت سے وہ تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے کہ اہلِ دیوبند اور علماء دیوبند کو ممنون و مشکور ہونا چاہیے.
کلامِ الہی کی تلاوت کے بعد خضر حیات ندوی نے نعت اور اکابرِ دیوبند کی خدمات کے حوالہ سے نظم پیش کرکے سامعین کو مسحور کردیا. ترجمانِ دیوبند کے مدیر مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ اس دور میں اکابرِ دیوبند کے حالات و کوائف کی ترویج و اشاعت میں جو کردار آل انڈیا تنظیم علماء حق ادا کررہی ہے, وہ لائقِ تحسین اور قابلِ تبریک ہے.
تنظیم کے صدر مولانا محمد اعحاز عرفی قاسمی اکابر شناسی کے حوالہ سے اپنی ایک منفرد اور اہم شناخت قائم کرچکے ہیں. اکابرِ دیوبند کے فیوض و کمالات کو عام کرنا ان کے سوانحی کوائف سے نئی نسل کو روشناس کرانا ان کی زندگی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے. دار العلوم وقف کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے فکرِ انقلاب کے اکابرِ دیوبند نمبر کو ایک تاریخ ساز صحیفہ قرار دیا. اور انہوں نے کہا کہ اس شمارے میں سرکردہ شخصیات کے پیغامات میں اکابرِ دیوبند کے سلسلہ میں جن جذبات کا اظہار کیا گیا ہے اور ہندوستان کے ممتاز عالم مولانا سید رابع حسنی ندوی کے خیالات کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ تحریکِ دیوبند ایک مدرسہ ایک تربیت گاہ ایک مکتبۂ فکر اور ایک مسلک کی حیثیت سے متعارف ہے. اور دار العلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی اور درجنوں کتابوں کے مصنف مفتی تقی عثمانی کے تاثرات کی تائید کی , کہ اکابرِ دیوبند کے اس مجلہ اور مولانا عرفی کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے.
قاری ابوالحسن اعظمی اور مولانا فرید الدین قاسمی نے کہا کہ دار العلوم دیوبند ایک زندہ و تابندہ تحریک کا نام ہے. اس تحریک نے جریدۂ عالم پر اپنا جو کردار ادا کیا ہے اور اس تحریک سے وابستہ اکابر نے عالمِ اسلام پر وہ گہرے اثرات چھوڑے ہیں, کہ وہ آنے والے ہر دور کے لئے مشعلِ راہ بنیں رہیں گے.
“فکرِ انقلاب” کے مدیران مولانا اسعد مختار اور مولانا احسن مہتاب نے کہا کہ اکابرِ دیوبند کے احوال و آثار پر جو روشنی ڈالی گئی ہے, اس مقصد میں “ادارہ فکرِ انقلاب” کس حد تک کامیاب ہے. اس کا فیصلہ قارئین ہی کریں گے .
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ڈاکٹر عبید اقبال عاصم سہارنپور سے مفتی ناصر الدین مظاہری رکنِ شوری دار العلوم دیوبند, مولانا سید انظر حسین, سید وجاہت شاہ, عبد الرحمان سیف عثمانی, مولانا انوار , مولانا زین الدین اور مولانا احمد اویس قاسمی کیرانوی نے مشترکہ طور پر کہا کہ اکابرِ دیوبند نے اتباعِ سنت اور اسلام کے حسین چہرے کو جس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا ہند و برصغیر کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے. ہمارے اکابر اللہ سے لو لگانے والے اور سنت کے تحفظ کے لئے جان دینے والے تھے. وہ اگر ایک طرف مفسر اور محدث تھے تو دوسری طرف داعی اور دین کے سپاہی بھی تھے. ان کے روشن کارناموں نے خیر القرون کی یاد تازہ کردیں. اور” فکرِ انقلاب” دیوبند نمبر کو ایک انقلابی کارنامہ قرار دیتے ہوے کہا کہ اس کتاب کا مطالعہ یقینا ذہن و فکر میں انقلاب برپا کرے گا. دیوبند کے معروف سماج وادی نیتا معاویہ علی نے بھی اپنی مسرت وخوشی کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ ہمارے اکابر نے اپنے حصہ کے کام بخوبی انجام دئے ہیں. اب ہماری ذمہ داری ہے کہ حق کی اس قندیل کی حفاظت و صیانت میں ہم اپنا خونِ جگر صرف کریں. آخر میں دار العلوم دیوبند کے ممتاز استاذ و مفتیِ اعظم حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمان صاحب کی دعا پر تقریب کی مجلس اختتام پذیر ہوئی.