بدھ, 30, نومبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزاپنے معاملات اللہ اور رسول کے فیصلہ کے مطابق حل کرانا ہم...

اپنے معاملات اللہ اور رسول کے فیصلہ کے مطابق حل کرانا ہم سب کی شرعی ذمہ داری: حضرت امیر شریعت

اپنے معاملات اللہ اور رسول کے فیصلہ کے مطابق حل کرانا ہم سب کی شرعی ذمہ داری: حضرت امیر شریعت
مدرسہ عارفیہ سنگرام، مدھوبنی میں دار القضاء کا قیام اور قاضی کی تقرری کے موقع پر اجلاس عام سے علماء کرام کا خطاب
اللہ کا احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر ایسا موقع دیا کہ ایسی مجلس میں شرکت کر سکوں جہاں آپ کے سامنے ابھی دو بہت خوبصوت منظرسامنے آیا ، ایک طرف تو اس مدرسہ کے فارغین کے سر پر دستار باندھی گئی کیوں کہ انہوں نے قرآن کے حفظ کو مکمل کر لیا ہے اور دوسری جانب یہاں دار القضاء کا قیام بھی عمل میں آیا اور یہاں کے قاضی شریعت بھی متعین ہو گئے۔سبحان اللہ بحمدہ سبحان اللہ العظیم۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد میں شکر گزار ہوں جناب مولانا صفی الرحمن ممتاز صاحب کا، جناب مولانا مفتی انوار صاحب کا ، جناب مکھیا عبد الرشید صاحب ،جناب مولانامنتظر قاسمی، جناب مولانا عمران مظاہری صاحب اور جناب مولانا اسعد ندوی صاحب کا اور آپ تمام لوگوں کا جنہوں نے مجھے یہاں دعوت دی ۔ بارک اللہ فیکم جمیعاً
اصل میں آج کی مجلس میں صر ف قرآن کی بات ہونی چاہئے ،کیوں کہ آپ کے سامنے حفاظ کے سر پر دستار باندھی گئی ہے۔اصل میں آج کی پوری تقریب صرف اسی کے لیے ہونی چاہئے ، لیکن ہم لوگوں نے دو پروگرام کو ایک ساتھ ملا دیا ہے، الحمد للہ یہ بھی بڑا اچھا ہوا ہے۔ سب سے پہلے مبارک باد کے مستحق ہیں ان حفاظ کے والدین، جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کی قربانیوں کو قبول فرمائے ، آپ سب نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اپنے سے دور کر کے اللہ کی کتاب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ان کو مدرسے میں بھیجا ۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا خوب خوب بدلہ دے۔اس کے بعد سب سے زیادہ مبارک باد کے مستحق یہاں کے اساتذہ ہیں جنہوں نے بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ ان بچوں کو حافظ قرآن بنایا۔ہم سب کو چاہئے کہ ہم اپنی دعاؤں میں ان اساتذہ کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ یہ باتیں امیر شریعت بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے مورخہ 21نومبر کو مدرسہ عارفیہ سنگرام میں دستار بندی حفاظ کرام اور قیام دار القضاء کی مناسبت سے منعقد اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کہیں۔ آپ نے حفاظ کرام کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی زندگی کا ایک بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہے ، اب آپ کے لیے ضروری ہے کہ یہاں پر نہ رکیں ، آپ نے حفظ مکمل کر لیا ہے ، آپ نے قرآن کو اپنے سینے میں محفوظ کر لیا ہے اب آپ کے لیے ضروری ہے کہ اس کے فہم سے اپنے ذہن اور دل کو منور بھی کریں ۔اس کے لیے آپ کو ضرورت پڑے گی کہ آپ عربی سیکھیں ، آپ عالم بنیں ، اس لیے آپ رکیے گا مت ، بلکہ اس کے بعد کے سفر کو جاری رکھئے گا۔
دار القضاء کے موضوع پرخطاب کرتے ہوئے آپ نے کہاکہ قاضی آج کے زمانے میں صرف وہ شخص نہیں ہے جس کے پاس صرف آپ اپنے جھگڑے کو حل کر انے کے لیے آئیں ،بلکہ قاضی ایک عالم ، فقہ و فتاویٰ کا ماہر اور آپ کے دیگر شرعی و دینی مسائل کا حل کرنے والا بھی ہے ، اس لیے اپنی زندگی سے متعلق کو ئی بھی مسئلہ معلوم کرناہو تو آپ قاضی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔آپ نے دار القضاء کی قانونی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ دار القضاء کا قیام آئین ہند اور ہندوستانی قانون کے مطابق ہوا ہے ، یہ کوئی متوازی کورٹ سسٹم نہیں ہے ،بلکہ اقلیت کو جو آزادی آئین کے اندر دی گئی ہے ،اس کے تحت بنایا گیا ادارہ ہے۔دار القضاکے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس دار القضاء کے قیام سے ہم سر کاری عدالتوں کا تعاون کر رہے ہیں اور اس کے بوجھ کو کم کر رہے ہیں۔آپ نے لوگوں کو پیغام دیا کہ وہ مسلک ، ذات برادری اور دیگر تفریقات کو ختم کر کے آپس میں مل جل کر رہیں ۔ اور اگر کوئی تنازع ہوجائے تو اس کو اللہ او ر رسول کے حکم کے مطابق دار القضاء سے حل کرائیں۔ یہ بڑا اہم اور قیمتی کام ہے، ہمارے معاملات ہم لوگ خود حل کر یں، ہمارے جھگڑے قرآن و حدیث کے اور اللہ کے حکم کے مطابق حل ہوں یہ ہم سب کی شرعی ذمہ داری اور جواب دہی ہے اور دار القضاء کا قیام اس کی طرف ایک مضبوط قدم ہے۔مجھے امید ہے کہ آپ تمام حضرات جو اس علاقہ اور اس دار القضاء کے دائرہ کارمیں آتے ہیں، نہ صرف اس کی بھر پور تائید، مضبوط حمایت اور دل کھول کر تعاون کریں گے، بلکہ پورے اعتماد اور بھروسے کے ساتھ اپنے آپسی معاملات یہاں لائیں گے اور قرآن و حدیث کے مطابق فیصلہ کرائیں گے۔آپ نے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ وہ اپنے تمام افعال و اعمال میں آخرت کا مضبوط تصور قائم کریں ۔آپ نے لوگوں کو جھوٹ، تعصب اور دیگر سماجی برائیوں سے دور رہنے کا بھی پیغام دیا۔
نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی صاحب نے مدارس کی اہمیت و ضرورت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس ہندوستان میں اسلام کی بقاء اور تعلیم کا بہترین ذریعہ ہیں۔ان مدارس سے تعلیم کی جوروشنی پھیلی اس نے پورے عالم کو روشن کیا ہے۔ملک کے چپے چپے پر موجود ان مدرسوں سے فارغ ہونے والے علمائے کرام اوراہل علم نہ صرف دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں بلکہ ملک میں تعلیم کے فروغ کا خوب کام کررہے ہیں۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ اس ملک میں اسلام کی بقاء میں ان مدرسوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ آ پ نے کہا کہ حکومت کودینی مدارس کاشکر گذار ہونا چاہئے، کہ یہ نہ صرف تعلیمی ضرورت پورا کرتے ہیں، بلکہ ملک میں امن وآشتی کی فضا قائم کرنے میں بھی اس کا اہم رول ہے۔ مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی قاضی شریعت مرکزی دار القضاء نے کہا ، اللہ کا فضل و کرم ہے کہ امارت شرعیہ کا نظام قضاء سو سالوں سے امت کے مسائل حل کر رہا ہے، اور پریشان حال لوگوں تک منصفانہ و عادلانہ اندا ز میں اسلام کے نظام عدل کو پہونچا رہا ہے۔ آپ نے کہا کہ کار قضاء امارت شرعیہ کی بنیاد ہے۔ پورے ہندوستان میں نظام قضاء امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کے ذریعہ پھیلا ہے۔نظام قضاء اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، اس کو پھیلانا اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے
مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے کہا کہ کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سب کے لیے یکساں ہیں ، جس طرح ایک مسلمان کی جان محترم ہے اسی طرح غیر مسلم کی جان بھی محترم ہے ، جس طرح ایک مسلمان کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت ضروری ہے اسی طرح برادران وطن کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت بھی ہمارے لیے ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ جو زندگی اللہ نے دی ہے وہ بہت قیمتی اور اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے اس نعمت کی قدر کریں اور اس کو نیکی کے کاموں میں ،آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اور سماج کو فائدہ پہونچانے میں خرچ کریں۔انہوں نے شادی بیاہ میں فضول خرچی، جہیز اور تلک جیسی برائیوں سے دور رہنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے ، ضرورت مندوں کی ضروت میں کام آنے کی تلقین کی۔مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے ایک امیر شریعت کی ماتحتی میں زندگی گزارنے ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اللہ رسول کی اطاعت کے بعد امیر کی اطاعت کا حکم دیا ہے ۔اس لیے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی شریعت کے مطابق ایک امیر کی ماتحتی میں گزاریں۔اجلا س میں مولانا محمد شمیم اکرم رحمانی معاون قاضی شریعت مرکزی دار القضاء، مولانا رضوان احمد مظاہری قاضی شریعت یکہتہ مدھوبنی، مولانا امداد اللہ قاسمی قاضی شریعت مدرسہ فلاح المسلمین گوا پوکھر مدھوبنی،مولانا عبد الباسط رحمانی قاضی شریعت مدرسہ تعلیم القرآن بھیم پور مدھے پور ، مدھوبنی نے بھی خطاب کیا اور اپنے خطاب میں لوگوں کو پیغام دیا کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالیں اور اپنے معاملات بالخصوص نکاح، طلاق،وراثت، عورتوں کے حقوق،و دیگر خاندانی و معاشرتی مسائلکا تصفیہ شریعت اسلامی کے مطابق دا ر القضاء کے ذریعہ کرائیں۔
اجلاس میں مولانا سلطان صاحب کی بطور قاضی تقرری کا اعلان بھی حضرت امیر شریعت مد ظلہ نے کیا اور اپنے ہاتھ سے انکے سر پر دستار قضاء باندھی اور ان کو سند قضا دیتے ہوئے تلقین کی کہ موصوف فریقین اور گواہان کے بیانات کی سماعت کے بعد ان کے درمیان باہمی رضامندی سے مصالحت کرانے کی کوشش کریں گے، اگر معاملہ صلح پر حل ہو جائے تو بہتر ہے ورنہ معاملہ کی مسل کو تصفیہ کے لیے مرکزی دار القضاء ارسال کریں گے۔آپ نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر معاملہ پر مکمل غور و فکر کریں، کسی شریف کی حمایت ان کی شرافت کی وجہ سے اور کمزور پر ظلم ان کی کمزوری کی وجہ سے نہ کریں۔اورمیں ان کو تمام ظاہری اور باطنی معاملات میں اللہ کی اطاعت اور اللہ سے ڈرنے کا حکم دیتا ہوں،نیز مامورات کو بجالانے اور منہیات سے بچنے کی تاکید کرتا ہوں۔اللہ ہی توفیق دینے والا اور معین و مددگار ہے۔
اجلاس کا آغاز قاری وسیم اکرم استاذ مدرسہ عارفیہ سنگرام کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ، نعت شریف محمد توفیق عالم متعلم مدرسہ عارفیہ سنگرام نے پڑھی، نظامت کے فرائض جناب مولانا اسعد ندوی صاحب ململ مدھوبنی نے انجام دیا ۔ آخر میں حضرت امیر شریعت کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں جناب مولانا صفی الرحمن ممتاز صاحب، جناب مولانا مفتی انوار صاحب مہتمم مدرسہ عارفیہ سنگرام ، جناب مکھیا عبد الرشید صاحب ،جناب مولانامنتظر قاسمی، جناب مولانا عمران مظاہری صاحب ، ، جناب حافظ احتشام رحمانی صاحب جناب شعیب عالم قاسمی صاحب مبلغ امارت شرعیہ کے اسماء قابل ذکر ہیں ۔ ان حضرات نے اجلاس کو کامیاب و بامقصد بنانے میں بھی اہم رول ادا کیا۔
اپنے معاملات اللہ اور رسول کے فیصلہ کے مطابق حل کرانا ہم سب کی شرعی ذمہ داری: حضرت امیر شریعت
اپنے معاملات اللہ اور رسول کے فیصلہ کے مطابق حل کرانا ہم سب کی شرعی ذمہ داری: حضرت امیر شریعت
اپنے معاملات اللہ اور رسول کے فیصلہ کے مطابق حل کرانا ہم سب کی شرعی ذمہ داری: حضرت امیر شریعت
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے