ہومبریکنگ نیوزارریا نیوز#اپنے اپنے علاقہ میں لوگوں کی علمی، فکری اور اخلاقی رہبری کرنا...

#اپنے اپنے علاقہ میں لوگوں کی علمی، فکری اور اخلاقی رہبری کرنا نقباء امارت شرعیہ کی اہم ذمہ داری ہے:حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی

#اپنے اپنے علاقہ میں لوگوں کی علمی، فکری اور اخلاقی رہبری کرنا نقباء امارت شرعیہ کی اہم ذمہ داری ہے:حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی

#ارریہ میں میں نقباء و نائبین نقباء، علماء و دانشوران کے خصوصی تربیتی اجلاس میں حضرت امیر شریعتکا بصیرت افروز خطاب

https://youtu.be/NlJeD_MichM

#امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کی ماتح

 میں نقباء و نائبین نقباء امارت شرعیہ، علماء، ائمہ مساجد، ذمہ داران مدارس، دانشوران و سماجی و ملی شخصیات کا ایک خصوصی تربیتی اجلاس آج مورخہ 29نومبر 2022روز منگل کو امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈحضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی صدارت میں آزاد اکیڈمی ارریہ کے وسیع و عریض میدان میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران حضرت امیر شریعت نے نقباء کے اجلاس کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس اجلاس کا مقصد جماعت کی اسلامی فکر کی تنفیذ ہے۔آپ نے نقباء کی ذمہ داریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ آپ اپنے علاقہ میں امارت شرعیہ کی نمائندگی کر سکیں اور لوگوں کی علمی، اصلاحی، فکری اور اخلاقی رہبری کر سکیں۔یاد رکھئے ہم میں سے ہر شخص اپنے اوپر، اپنے گھر والوں کے اوپر اور اپنے معاشرہ کے اوپر شریعت اسلامی کی تنفیذ کے لیے مسؤل اور ذمہ دار ہے۔آپ نے فرمایا کہ اجتماعیت کے ساتھ رہنا اسلامی فکر کا حصہ ہے اس فکر کا مستحکم نفاذ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔آپ نے کہا کہہم سب اپنی ذاتی زندگی کے لیے، اپنے بال بچوں کے لیے بہت محنت کرتے ہیں، لیکن کیا ہم اتنی ہی محنت اپنی اجتماعی اور ملی زندگی کے لیے کرتے ہیں،اس بات پر ہم سب کو غور کرنا چاہئے، ہمارا ذاتی کام کتناہی اچھا ہو جائے، اگر سماجی اور اجتماعی کام مضبوط نہیں ہے تو ملی وزن نہیں بن سکتا، بحیثیت مسلمان آپ کی حیثیت کمزور ہو جائے گی۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ جماعتی کاموں میں صرف زبانی طور پر مصروف ہیں، عمل کے معاملہ میں کوئی سرگرمی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ہماری اجتماعی حالت کمزور ہو رہی ہے۔اس لیے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی ہے، اور اجتماعی زندگی کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی ہے جتنی اہمیت ہم اپنی ذاتی زندگی کو دیتے ہیں، اگر ہم اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں گے تو ملت سرفراز ہو گی اور اگر تبدیلی پیدا نہیں کریں گے تو ملت کے کامیاب فرد نہیں بن سکتے۔آپ نے کہا کہ مسلمان بحیثیت قوم ابھی بھی دنیا کی سب سے اچھی قوم ہیں، مسلمانوں کے معاشرہ میں بہت سی اچھائیاں ہیں ہمیں ان اچھائیوں کا بھی تذکرہ کرنا چاہئے اور تمام انسانوں کو اس کی دعوت دینی چاہئے۔ہاں کچھ خرابیاں بھی ہیں ہمارا کام ہے کہ عملی طور ان خرابیوں کو دور کریں۔صرف دل میں برا سمجھنا کافی نہیں ہے، یہ تو ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے، ہمیں عزیمت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔آپ نے مذہبی، لسانی، علاقائی اور ذات برادری کی عصبیت کو چھوڑ کر کلمہ کی بنیاد پر اتحاد کی دعوت دی اور کہا کہ عصبیت بہت بڑا گناہ اور بڑی جہالت ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبہ میں ہر طرح کی عصبیت کو اپنے پاؤں تلے کچل یا، اسلام کے اندر عصبیت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔اللہ کے نزدیک ایمان، تقویٰ اور اچھے اعمال کی بنا پر ہی ایک انسان کو دوسرے پر فضیلت حاصل ہے۔آ پ نے تعلیمی پسماندگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تعلیم میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی، آپ نے کہا کہ نفع بخش علم حاصل کرنے کا اسلام نے حکم دیا ہے، سب سے نفع بخش علم قرآن کا علم ہے، قرآن نے کائنات میں غور و فکر اور تدبر کا حکم دیا ہے اور یہ غور و فکر اور تدبر سائنس ہے، اس لیے سائنس کا علم بھی حاصل کیجئے، لیکن سائنس کا علم قرآن کے نقطہئ نظر سے حاصل کیجئے، اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کیجئے۔

نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی صاحب نے نقباء کے سامنے امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی اہمیت کوبیان کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کا وجود آپ سب سے ہے، آپ نے مل جُل کر امارت شرعیہ کو آگے بڑھا یا ہے آپ سے امارت شرعیہ کی طاقت ہے اور امارت شرعیہ سے آپ کی مضبوطی ہے اگر آپ مضبوط ہوں گے تو امارت شرعیہ طاقتور ہو گی اور اگر امارت شرعیہ طاقتور ہو گی تو آپ کو مضبوطی ملے گی، امار ت شرعیہ ایک نعمت ہے جو اللہ نے بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ والوں کو عنایت کیا ہے،ہندوستان کے بہت سے صوبے اس نعمت سے محروم ہیں اور ان صوبوں میں رہنے والے بہت سے اکابر علماء نے اس بات کا اظہار بھی کیا ہے۔آپ نے ملی کاموں کے لیے فکر مندی کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ جب آپ کو ملت کی فکر ہو گی تبھی ملت کا کام آگے بڑھیگا۔ اس کے لیے مسلسل محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ نے بچوں کی تربیت پر بھی لوگوں کو متوجہ کیا اور کہا کہ آپ کا مستقبل آپ کے بچوں کے دین میں ہے، اپنے بچوں کو دیندار بنائیے، ان دین کا علم سکھائیے۔اپنے اندر بھی دین کو داخل کیجئے، اجتماعی سوچ پیدا کیجئے،باہمی تعاون کا مزا ج بنائیے، ملت کے کاموں میں ملت کے ہر فرد کو ایک دوسرے کا تعاون کرنا چاہئے۔آپ نے مدارس کی روشن تاریخ اور خدمات کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ مدارس اس ملک میں تعلیم کی شرح کو بلند کرنے میں بہت بڑے معاون ہیں، مدارس اسلامیہ نے ان جگہوں پر علم کا چراغ جلایا ہے جہاں حکومت بھی نہیں پہونچ سکی ہے، آپ نے جنگ آزادی میں مدارس کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے مدارس کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جن لوگوں کی زندگی انگریزوں کے سامنے کاسہ لیسی میں گزری آج وہ مدارس پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔آپ نے اہل مدارس کو مدارس کے داخلی و خارجی نظام، نصاب، تعلیم و تربیت کے نظام اور طلبہ کو دی جانے والی سہولیات میں اصلاح کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی، آپ نے پیغام دیا کہ حالات چاہے جتنے پر خطر ہو جائیں، ہمیں پورے عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے وقار، شناخت اور تہذیب کی حفاظت کے لیے سر بلند رہنا ہے۔قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کی خدمات، عزائم اور اہداف کی تفصیل بیان کی اور امار ت شرعیہ کے مختلف شعبہ جات کے تحت ہونے والی خدمات سے سامعین کو روشناس کرایا۔مولانا محمد انظار عالم قاسمی قاضی شریعت مرکزی دار القضاء نے، دار القضاء کی اہمیت و ضرورت بیان کی اور امارت شرعیہ کے نظام قضاء کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ سماجی انصاف کے لیے امارت شرعیہ نے دار القضاء کا بڑا نظام قائم کیا ہے، جہاں لوگوں کے مسائل کا حل شریعت اسلامی اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق کیا جاتا ہے۔مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ امارت شرعیہ ہمارے ملی وجود کی علامت، اسلام کے اجتماعی نظام کا مظہرا ور ہمار ے ایمان و عقیدے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا اسلام ہر قدم پر اجتماعیت کی دعو ت دیتا ہے، امارت شرعیہ کی جو گاؤں گاؤں میں تنظیم قائم ہے وہ اسی جماعتی نظام کو قائم کرنے کے لیے ہے۔اس جماعتی نظام کو قائم کرنے کے لیے امارت شرعیہ اور عوام کے بیچ کی کڑی ہمارے نقباء ہیں، کسی بھی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے انفارمیشن(اطلاع) اور کو آرڈینیشن (باہمی تعاون)بہت ضروری ہے۔لہٰذا کام کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ ہر امر سے مرکز کو باخبر رکھیں او ر آپس میں ربط اور تعاون کو بحال رکھیں۔مولانا جمیل احمد رحمانی استاذ جامعہ رحمانی مونگیر نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت کی ضرورت پر زور دیا اور بچوں کو دینی و دنیاوی دونوں تعلیم سے آراستی کرنے کی ترغیب دی۔ مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے عصری تعلیم کی ضرورت و اہمیت بیان کی اور عصری تعلیم کے میدان میں امار ت شرعیہ کی خدمات کا تفصیلی تعارف کرایا۔مولانا مفتی محمد انور قاسمی قاضی شریعت رانچی نے تحفظ اوقاف کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے وقف کی شرعی حیثیت کو بیان کیا۔ آپ نے وقف کی جائدادوں کی حفاظت اور ان کو قابل انتفاع بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور لوگوں کو ترغیب دی کہ علاقہ کے اوقاف کی جائدادوں کی تفصیل امارت شرعیہ کے شعبہ تحفظ اوقاف کو کریں تاکہ ان کی حفاظت کا نظم کیا جا سکے۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے انجام دیا، آپ نے اپنی ابتدائی گفتگو میں اجلاس کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور نقباء و نائبین نقباء کی ذمہ داریاں بھی بیان کیں۔آپ نے بتایا کہ امارت شرعیہ کا مقصد پوری امت کو کلمہ کی بنیاد پر متحد کرنا ہے،امارت شرعیہ چاہتی ہے کہ ہماری اجتماعی و انفرادی زندگی ایک امیر شریعت کے ماتحت ہو کر قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوئے گذرے، اس پیغام کو ہر گھر تک پہونچانے کے لیے نقباء اور نائبین نقباء کا نیٹ ورک ہے، ہمارے نقباء اپنے علاقہ کے لوگوں کی دینی زندگی کے سردار اور امیر شریعت کے نمائندے ہوتے ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داریاں بہت بڑی ہیں۔انہوں نے سماج میں جہیز اور نشہ خوری کی بڑھتی ہوئی بیماری پر بھی اظہار تشویش کیا اور لوگوں سے اپیل کی کہ ان دونوں جرائم کو سماج سے دور کرنے کے لیے عملی جد و جہد کریں۔مولانا ظفر عالم ندوی استاذ دار العلوم ندوزۃ العلماء لکھنؤ نے وراثت کے احکام بیان کیے اور لوگوں کو ترغیب دی کہ وہ وراثت کے شرعی قانون پر پوری طرح عمل کریں اور ہر حقدار کو اس کا شرعی حق دیں، خاص طور پر خواتین کو حق دینے پر خصوصی توجہ دیں۔مولانا نوشاد نوری قاسمی استاذ دار العلوم وقف دیوبند نے علماء و ائمہ کرام کی ذمہ داریوں کا تذکرہ کیا۔مولانا قاری شریف عالم صاحب ناظم مدرسہ ریاض العلوم جگت سنگھ پور اڈیشہ نے اطاعت امیر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لوگوں کو علماء کرام سے مربوط رہنے کی تلقین کی۔اجلاس کا آغازقاری عادل نعمانی استاذ جامعہ تجوید القرآن میر نگر کی تلاوت سے ہوا، نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم جناب خطیب حیدر صاحب ارریاوی نے پیش کی۔ استقبالیہ کلمات مولانا مفتی علیم الدین مظاہری شیخ الحدیث دار العلوم زیرو مائل ارریہ نے پیش کیا اور تمام مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔آپ نے پیغام دیا کہ علماء کرام جو باتیں بتارہے ہیں ہمیں ان پر عمل کا عزم کرنا ہے، صرف باتوں سے کام نہیں بنے گابلکہ جو باتیں ہو رہی ہیں ان پر عمل کرنا ہو گا۔آخر میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر ملک کے مشہور خطاط جناب طارق بن ثاقب صاحب نے اپنی خوبصورت خطاطی کا نمونہ طغریٰ کی شکل میں حضرت امیر شریعت کی خدمت میں پیش کیا۔

اجلاس کو کامیاب بنانے میں اجلاس کے کنوینر مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا عتیق اللہ رحمانی قاضی شریعت ارریہ، جناب حاجی اکرام الحق رکن شوریٰ و عاملہ امارت شرعیہ، مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ،مولانا مفتی انعام الباری،مولانا قاری نیازقاسمی،مولانا مفتی راغب قاسمی، جناب فضل الرحمن صاحب، جناب امتیاز صاحب،جناب بلال صاحب،جناب شہباز عرف کاسو صاحب، مولانا مفتی ہمایوں اقبال صاحب، مولانا عبدالتواب قاسمی قاضی شریعت بیر نگر بسہریا، مولانا اسعد عثمانی قاضی شریعت جوگبنی، مولاناسرفراز رحمانی نائب قاضی ارریہ، مولانا اسعد اللہ نیموی، حافظ شہاب الدین، ظہیر الحسن رحمانی، حافظ رفیع احمد ودیگر مبلغین امارت شرعیہ نے اہم رول ادا کیا۔اجلاس میں جناب احسان الحق صاحب رکن شوریٰ، حاجی عارف رحمانی ناظم جامعہ رحمانی مونگیر،حافظ احتشام رحمانی مولانا منظر قاسمی،مولانا محمد منہاج عالم ندوی، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی، مولانامحمد ارشد رحمانی آفس سکریٹری امارت شرعیہ مولانا سید محمد عادل فریدی، جناب مسلم صاحب کشن گنج رکن شوریٰ امار ت شرعیہ کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں نقباء و نائبین نقباء، علماء، ائمہ و دانشوران نے شرکت کی۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے