اپنی ہی آگ میں جل گئے خندق والے،مفتی ہمایوں اقبال ندوی

250

اپنی ہی آگ میں جل گئے خندق والے،مفتی ہمایوں اقبال ندوی

کھائیاں کھودنے کا اپنےملک میں اب عام چلن ہوگیا ہے،کسانوں کوروکنے کے لئے ابھی کچھ دنوں قبل شاہراہ پر خندق کھودی گئی،مگرحاصل ندارد،آخر کو کسان ملک کی راجدھانی پہونچ ہی گئے،اور وہاں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں،ہمیں آج اس کھائی پر بات نہیں کرنی ہے،بلکہ سب سے بڑی کھائی جو اس وقت اپنے وطن عزیز میں کھودی جارہی ہے اس پر گفتگو کرنی ہے،اس لئے کہ یہ محض خندق ہی نہیں ہے جسکو عبور کرنا دشوارتو ہے مگر ناممکن نہیں ،آج موضوع سخن وہ کھائی ہےجو محض کھائی ہی نہیں ہےبلکہ اس میں نفرت کی آگ بھی آج دہکائی جارہی ہے،یہاں کی اکثریت کو اقلیت سے بالخصوص ایک اللہ کے ماننے والے مسلمانوں سے ڈرایا جارہا ہے،اور ان دونوں کے مابین خندق کھودی جارہی ہے،ساتھ ہی ساتھ اسمیں میں نفرت کی زبردست آگ بھی دہکائی جارہی ہے جس کو کسی بھی حال میں عبورنہیں کیا جاسکے،اس کی بھی کوشش کی جارہی ہے،حالیہ کچھ دنوں سے ملک میں قانون سازی کے نام پر بھی یہی خندق کھودنے کا کھیل شروع کیا گیا ہے،ٹریپل طلاق ہو یا ابھی کا یہ لو جہاد یہ دراصل نفرت کی آگ سے لبالب گڈھے ہی ہیں،جوخاص انہیں مقاصد کےتحت کھودے گئے ہیں،شوشل میڈیا پر اسی سے شہ پاکر آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں سرگرم ہوگئی ہیں اور اسلام ومسلمان کے خلاف تسلسل کے ساتھ زہر اگل رہی ہیں،انہیں کوئی روکنے اور ٹوکنے والا دوردورتک نظر نہیں آتاہے،بلکہ اس سے ایک خاص طبقہ خوش ہورہا ہے اور اسے اپنی سیاسی حصولیابی بھی کہتا ہے،مگر انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا انجام کتنا بھیانک ہے،خودانمیں انہی کی ہلاکت مقدر ہے، پرانی کہاوت ہے کہ جو دوسروں کے لئے گڈھا کھودتا ہے خود جاکر اسمیں گرجاتا ہے، اقلیت اور بالخصوص مسلمانوں کو اذیت میں مبتلا کر کے،انکی پاک پاز ونیک عفت خواتین کے خلاف زبان درازی کرکے،اور یہ کہ کر کہ ہم انکی اکیس سو بیٹیوں کو بہو بناکر لائیں گے،کبھی یہ اپنے ناپاک مقاصد میں کامیاب نہ ہوں گے،اس کے برعکس اس خندق میں خودجا گریں گے ،یہ کوئی انسان نہیں کہ رہا ہے بلکہ قرآن کہتا ہے،اورخداکافرمان بولتا ہے،قران کریم میں خندق کھودنے والی جماعت کا یہی انجام لکھا ہوا ہے،قران یہ کہتا ہے کہ ایسے لوگ اپنی دہکائی ہوئی آگ میں خود جل گئے ہیں،اور سبھی صفحہ ہستی سے ناپید ہوئے ہیں ،انہیں کسی نے نہیں ماراہے بلکہ اسی کھائی کی آگ نے انہیں ہلاک کردیایے، جسے انہوں نے اہل ایمان کے خلاف تیار کیاہے، سورہ بروج میں ارشاد ربانی ہے:”مارے گئے کھائیاں کھودنے والے “(قرآن)
پورا واقعہ احادیث کی کتابوں میں کچھ اس طرح ہے؛
پہلے زمانہ میں ایک بادشاہ تھا،اس کے ہاں ایک جادوگر رہتا تھا ۔جب اس کی موت کا وقت قریب ہوا،اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ایک ہونہار لڑکا مجھے دیا جائے تو میں اس کو اپنا علم سکھادوں،تاکہ میرے بعد یہ علم مٹ نہ جائے ،ایک لڑکا تجویز کیا گیا جوروزانہ ساحر کے پاس جاکر اس کا علم سیکھتا تھا،راستے میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا، جو اس وقت کے اعتبار سے دین حق پر تھا،لڑکا اس کے پاس بھی آنے جانے لگا،اور راہب کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا،اس کے فیض صحبت سے کرامت کے درجہ کو پہونچ گیا ،ایک روز لڑکے نے دیکھا کہ کسی بڑے جانور نے راستہ روک رکھا ہے جس کی وجہ سے مخلوق پریشان ہے،اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ!اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے،یہ کہ کر پتھر پھینکا جس سے اس جانور کا کام تمام ہوگیا،لوگوں میں شور ہوا کہ اس لڑکے کو عجیب علم آتا ہے کسی اندھے نے سنکر درخواست کی کہ میری آنکھیں اچھی کردو،لڑکے نے کہا اچھی کرنے والا میں نہیں،وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے،اگر تو اس پر ایمان لائے تو میں دعا کروں،امید ہے وہ تجھ کو بینا کردے گا،چنانچہ ایسا ہی ہوا،شدہ شدہ یہ خبریں بادشاہ کو پہونچیں،اس نے برہم ہوکر لڑکے کو مع راہب اور اندھے کے طلب کرلیا اور کچھ بحث وگفتگو کے بعد راہب اور اندھے کو قتل کردیا ،اور لڑکے کی نسبت حکم دیا کہ اونچے پہاڑ پر سے گراکر ہلاک کردیا جائے،مگر خدا کی قدرت جو لوگ اس کو لے گئے تھے،سب پہاڑ سے گرکر ہلاک ہوگئے اور لڑکا صحیح سالم چلا آیا،پھر بادشاہ نے دریا میں غرق کرنے کا حکم دیا،وہاں بھی یہی صورت پیش آئی کہ لڑکا صاف بچ کر نکل آیا اور جو لے گئے تھے وہ سب دریا میں ڈوب گئے،آخر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ میں خود اپنے مرنے کی ترکیب بتلاتا ہوں،آپ سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کریں،ان کے سامنے مجھ کو سولی پر لٹکائیں اور یہ لفظ کہ کر میرے تیر ماریں:اس اللہ کے نام پر جورب ہے اس لڑکے کا”چنانچہ ایسا ہی کیا اور لڑکا اپنے رب کے نام پر قربان ہوگیا،یہ عجیب واقعہ دیکھ کر لوگوں کی زبان سے ایک نعرہ بلند ہوا کہ:ہم سب لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے،بادشاہ کے لوگوں نے کہا کہ لیجئے،جس چیز کی روک تھام کر رہے تھے وہی پیش آگئی،پہلے تو اکا دکا کوئی مسلمان ہوتا تھا اب خلق کثیر نے اسلام قبول کرلیا،بادشاہ غصہ میں آکر بڑی بڑی خندقیں کھدوائیں اور ان کو خوب آگ سے بھروا کر اعلان کیا کہ جو شخص اسلام سے نہ پھرے گا اس کو ان خندقوں میں جھونک دیا جائے گا،لوگ آگ میں ڈالے جارہے تھے مگر اسلام سے نہیں ہٹتے تھے،ایک مسلمان عورت لائ گئی جس کے پاس دودھ پیتا بچہ تھا،شاید بچہ کی وجہ سے آگ میں گرنے سے گھبرائی،مگر بچہ نے خدا کے حکم سے آواز دی”اماں جان صبر کر،تو حق پر ہے،بادشاہ اور اس کے وزیر ومشیر خندقوں کے آس پاس بیٹھے ہوئے نہایت سنگدلی سے مسلمانوں کے جلنے کا تماشہ دیکھ رہے تھے،بدبختوں کو ذرا بھی رحم نہ آتا تھا،ان مسلمانوں کا قصور اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ ایک زبردست اور ہر طرح کی تعریف کے لائق خدا پر ایمان لائے،جس کی بادشاہت سے زمین و آسمان کا کوئی گوشہ باہر نہیں ہے،جب ایسے خدا کے پرستاروں کو محض اس جرم پر کہ وہ کیوں اسی اکیلے کو پوجتے ہیں،آگ میں جلایا جائے تو کیا یہ گمان ہوسکتا ہے کہ ایسا ظلم وستم یوں ہی خالی چلا جائے گااور وہ خداوندقہارظالموں کو سخت ترین سزا نہ دے گا،حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں،:جب اللہ کا غضب آیا وہی آگ پھیل پڑی،بادشاہ اور امیروں کے گھر سارے پھونک دئیے”(بحوالہ،تفسیر عثمانی،ص:785)اس طرح وہ اپنی دہکائی آگ کی نذر ہوگئے،انکا وجود تو ختم ہوچکا ہے مگر قرآن میں قصہ موجود رکھا گیا ہے،تاکہ لوگ اس آخری کتاب کے آخری فیصلہ کو پڑھتے رہیں اور اپنے انجام کی فکر کریں،نفرت کے پچاریوں کے لئے یہ قرآن کا پیغام ہے کہ وہ باز آجائیں،ورنہ یہ سمجھ لیں کہ یہ دین اسلام کو وہ ختم کسی حال میں نہیں کرسکیں گے،ہاں اتنا ضرور ہوگا اور ہوبھی رہا ہے کہ جہاں اکا دکا لوگ مسلمان ہورہے تھے،اب پوری کی پوری جماعت اسلام کو گلے لگانے جارہی ہے،مذکورہ واقعہ میں بھی یہی کہا گیا ہے،اسلام ایک ایسا دین ہے جسمیں قدرت نے بڑی لچک رکھی ہے،اسے جدھر سے دبانے کی کوشش کی گئی ہے،اس کی تبلیغ ہوگئی ہے،کیا خوب کہا ہے شاعر نے کہ:ع
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
یہ اتنا ہی ابھرے گا جتنا کہ دباوگے
“فانتظر اني معكم من المنتظرين