ہوممضامین ومقالاتاپنی تاریخ،دین اورتہذیب کی حفاظت کرناہماری ذمہ داری: مفتی سعد نور 

اپنی تاریخ،دین اورتہذیب کی حفاظت کرناہماری ذمہ داری: مفتی سعد نور 

اپنی تاریخ،دین اورتہذیب کی حفاظت کرناہماری ذمہ داری: مفتی سعد نور 
کانپور(سیف الاسلام )ملک کی آزادی کا تحفہ علماء دیوبند کی قربانیوں کا ثمرہ ہے: مفتی عاقب شاہد
آزادی ہند میں علمائے کرام و مسلم عوام کی قربانیوں سے نئی نسل کو روشناش کرانے کے لئے شہری جمعیۃ علما کے زیر اہتمام وقاضی شہر حافظ وقاری عبد القدوس ہادی کی قیادت سرپرستی میں چلائی جا رہی مہم ”جنگ آزادی ہند میں علماء و مسلم عوام کا کردار“ کا ساتواں جلسہ زیر نگرانی پروگرام کنوینر مولانا ابوبکر ہادی آج بمقام مکتب الحرمین،طلاق محل کانپور میں منعقد ہوا، جلسہ کی صدارت مولانا محمد طاہر جامعی نے و نظامت مولانا صدیق ثاقبی نے فرمائی،جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد عاقب شاہد نے کہا کہ جنگ آزادی کی پہلی جنگ نواب سراج الدولہ نے شروع کی تھی اور پھر اٹھارہ سو ستاون کی مشہور جنگ میں شکست کے بعد صحیح معنوں میں دوبارہ جنگ آزادی جمعۃ علماء ہند اور علمائے دیوبند نے شروع کی تھی جس کا نتیجہ ملک کی آزادی کے طور پر 15 اگست کو ہمیں حاصل ہوا۔جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے مفتی سعد نورقاسمی امام مسجد رمضانی پانی والی طلاق محل نے کہا کہ آج کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ایک تہذیب پورے ملک میں غالب ہوجائے وہ چاہتے ہیں کہ پورا ملک ایک تہذیب کا پیروکار بن جائے وہ لوگ ایک تہذیب کا فروغ کر رہے ہیں اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی تاریخ،دین اور اپنی تہذیب کی حفاظت کریں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کی صحیح تربیت کریں ان کو ان کی اپنی تاریخ سے روشناس کرائیں، ہماری فکر ہونا چاہیے کہ ہم دنیا میں ایمان کے ساتھ باقی رہیں اس کے لئے ہمیں چھوٹے چھوٹے مکتب کے ذریعہ یا جو بھی ذرائع آسانی سے دستیاب ہوں ان کے ذریعہ نوجوان نسل کو اسلامی اور دینی تعلیم فراہم کریں آج ہم اردو زبان سے نابلد ہیں، اسلئے ضرورت ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو اردو زبان ضرور سکھائیں،اورہم یہ کام اپنے گھر سے شروع کر سکتے ہیں جب ہمارا گھر دیندار اور صحیح ہوگا تو معاشرہ بھی صحیح ہوگا جلسے کو خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد یوسف نے کہا کہ کہ حالات چاہے جیسے ہوں ہماری فکریں ختم نہیں ہونا چاہیے اگر فکر ختم ہو جائے گی تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا، جنگ آزادی میں ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریز سردار نے کہاتھا کہ اب ہندوستان ہمارا ہے ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کے بعد علمائے دیوبند حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اور نہ جانے کتنے مسلمانوں نے جنگ آزادی کی لڑائی میں حصہ لیا اور شہید ہوئے،کیوں کہ ہمارے علماء کرام کی فکر ختم نہیں ہوئی ان کے اندر ایمان کی حرارت موجود تھی، مولانا عبدالقادرقاسمی کی ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام اور ملک میں امن وامان کے قیام کی دعا کے ساتھ جلسہ کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر مفتی محمد سلطان قمر قاسمی، قار ی کمال فرقانی، مولانا سعد خاں ندوی،مفتی رضا اللہ مظاہری خصوصی طور پر موجود تھے۔
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے