بدھ, 30, نومبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتآثار قدیمہ کی تباہی مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

آثار قدیمہ کی تباہی مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

آثار قدیمہ کی تباہی

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

آثار قدیمہ ہماراسرمایہ اور ماضی کی تاریخ کا آئینہ ہے، انگلینڈ ، امریکہ، متحدہ عرب امارات میں اسے اسی پس منظر میں دیکھا جاتا رہا ہے، آج بھی وہاں ان مکانوں کو جس سے تاریخی واقعات ومعاملات وابستہ ہیں، محفوظ رکھنے کی بے پناہ کوشش کی جاتی ہے، بعض عمارتوں میں ماضی کو اس طرح منقش کیا گیا ہے کہ اختتام تک پہونچتے پہونچتے آپ وہاں کی پوری تاریخ سے واقف ہوجاتے ہیں، یہی وہ احساسات تھے جس کے نتیجے میں ہندوستان میں بھی آثار قدیمہ کے طور پر بعض عمارتوں کو رجسٹرڈ کیا گیا تھا، اور ان کی حفاظت اور رکھ رکھاؤ کی ساری ذمہ داری مرکزی حکومت کی تھی ان عمارتوں میں جزوی تبدیلی کی اجازت بھی نہیں ہوا کرتی تھی؛ کیوں کہ اس سے ملک کی تاریخ اور اہم واقعات وابستہ تھے، بعض عمارتوں کو آثار قدیمہ کی حیثیت سے رجسٹرڈ نہیں کیا گیا تھا، لیکن عوام کی نگاہ میں ان کی حیثیت آثار قدیمہ کی ہی تھی۔

پھر بھاجپا کی حکومت آئی،اس کی سوچ کے اعتبار سے آثار قدیمہ غلامی کی علامت ہیں، اس لیے ان کو بدل دینا چاہیے، چنانچہ بابری مسجد شہید کر دی گئی اور اس جگہ کوعدالت نے دوسروں کے حوالہ کر دیا اور اب وہاں رام مندر زیر تعمیر ہے ، گیان واپی مسجد، متھرا، ہبلی اور بنگلور کی عیدگاہ کو ختم کرنے کی مہم چل رہی ہے اور گیان واپی مسجد کے معاملہ کی سماعت کی اجازت مقامی کورٹ سے مل چکی ہے جومذہبی عبادت گاہ ایکٹ ۱۹۹۱ء کے خلاف ہے ، آثار قدیمہ کی تباہی کی طرف یہ بھی بڑھتا ہوا قدم ہے ۔

 وزیر اعظم نریندر مودی نے ’’سودیشی‘‘ ملکی کے نام پر پارلیامنٹ، انڈیا گیٹ اور راج پتھ کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے ، امر جیوتی انڈیا گیٹ سے ہٹائی جا چکی ہے اور اسے وار ہاؤس منتقل کر دیا گیا ہے ، وہاں پر نیتا جی سوبھاش چندر بوس کی مورتی لگائی گئی ہے،یقینا نیتاجی کی خدمات آزادی کی جد وجہد میں اہم رہی ہے ، آزاد ہند فوج نے آزادی کے لیے مزاحمت کا راستہ اپنا یا اور اس کے اثرات بھی سامنے آئے، لیکن ہندوستان کی آزادی میں عدم تشدد کا رول زیادہ اہم رہا ہے، اسی لیے مہاتما گاندھی کو باپو اور ’’راشٹرپتا‘‘کا خطاب دیا گیا تھا، نیتاجی کی ساری قدر ومنزلت کے باوجود ہندوستان کو اہنسا اور عدم تشدد ہی راس آتا رہا ہے ، اس لیے اگر وہاں پر کوئی مورتی نصب کرنی تھی تو گاندھی جی کی ہونی چاہیے تھی، کیوں کہ گاندھیائی اصول کا یہاں کی سیاست میں اہم رول رہا ہے، اور یہاں کی جمہوریت میں عدم تشدد کی جڑیں بہت گہری رہی ہیں۔

 نتیاجی سبھاش چندر بوس کی شبیہ ، مزاحمت اور طاقت کے بل پر آزادی حاصل کرنے کی رہی ہے، یہ دونوں متضاد نظر یے ہیں، نیتاجی کو انڈیا گیٹ پرنصب کرکے شاید مودی جی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اب عدم تشدد نہیں، تشدد ، لڑائی جھگڑے اور طاقت کے ذریعہ کام کیا جائے گا، اور جو لوگ اس ملک میں ہندوتوا کے خلاف ہیں، ان پر یہ حربے آزمائے جائیں گے ، جس کا آغاز ماب لنچنگ سے ہو چکا ہے ۔

 پارلیامنٹ بھی آثار قدیمہ ہی کا ایک حصہ تھا، گو اس کا اندراج اس حیثیت سے تھا یا نہیں،مجھے معلوم نہیں؛ لیکن اب اس کی جگہ عظیم اور مرکزی وستا کی تعمیر ہو رہی ہے، جو پارلیامنٹ کی جگہ لے لیگی، ایک ایسے ملک میں جہاں بے روزگاری اور فاقہ کشی عام ہے ، لاکھوں کروڑ روپے اس عمارت کی تعمیر پر صرف کرنے کا جواز نہیں سمجھ میں آتا، اس پر جو ہندوستان کی نشانی اشوک استمبھ پر چار شیر ہیں ان کی خاموش اور عدم تشدد کی تصویر ؛بلکہ مورتی کو منہہ کھول کر تشدد پر آمادہ بنادیا گیا ہے، یہ آثار قدیمہ میں ایسی تبدیلی ہے جس کی مخالفت ہوتی رہی ہے ، لیکن مقصد اپنے نظریہ کی تشہیر اور کتبوں پر اپنا نام درج کرانا ہو تو دوسرے نظریات کو زیر زمین دفن کرنے کے لیے منطقی جواز ڈھونڈھ لینا کچھ مشکل نہیں ہوگا۔

اسی وجہ سے راجیہ پتھ کو کرتو یہ پتھ کر دیا گیا ہے ، راجیہ پتھ تو سودیشی ہی لفظ تھا، جب راج بھون ہو سکتا ہے تو راجیہ پتھ میں کیا بُرائی تھی، لیکن بدلنے کی ایک سوچ ہے اور یہ سارے کام اسی سوچ کے نتیجے میں انجام پا رہے ہیں۔

 اگر آثار قدیمہ کے ساتھ کھلواڑ اور ان کو تباہ کرنے کی یہ مہم چلتی رہی تو قدیم مساجد، تعلیمی ادارے، تاریخی عمارتیں، سبھی اس کی زد میں آئیں گی، اور پہلے بلڈوزر ان عمارتوں پر چلے گا، جو مسلم دور کی یاد گار ہیں، بہار حکومت بھی اس راہ پر چلنا چاہتی ہے ، سلطان پیلیس کے انہدام کی تجویز اسی مہم کا ایک حصہ ہے ، پٹنہ شہر میں وہ اکلوتی عمارت ہے جو مسلم تہذیب وثقافت کی آئینہ دار ہے اور اس لائق ہے کہ اس میں یونیورسیٹی سطح کا کوئی تعلیمی ادارہ کھولا جائے، مولانا مظہرالحق عربی فارسی یونیورسیٹی کو ہی دیدیا جاتا تو ایک بات ہوتی ، پہلے اسے ٹرانسپورٹ بسوں کا دفتر بنایا گیا ، اور اب اس کو توڑ کر ہوٹل بنانے کی تجویز زیر غور ہے ۔ یہ تاریخی عمارتیں اور آثار قدیمہ کے طور پرجانے والی چزیں ختم ہو گئیں تو ایک عہد کی تاریخ گم ہوجائے گی جو تہذیبی ، تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے بڑا ملکی نقصان ہوگا۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے