اُف! یہ مہنگائی بھی نہیں جاتی

77

تحریر:محمد اورنگ زیب مصباحی

IMG 20201126 162227

گڑھوا جھارکھنڈ (رکن:مجلس علمائے جھارکھنڈ)

مکرمی!

آج پوری دنیا کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مہنگائی میں ہندوستان کو فوقیت حاصل ہے جبکہ ڈیولپمینٹ کی بات کریں تو ہندوستان بالکل آخری پوزیشن پر کھڑا ہو چکا ہے۔

وہیں قرضوں کے معاملے میں بھی مودی حکومت سے قبل 36فیصد ہندوستان پر قرض تھے مگر اب 49فیصد قرض میں ہندوستان ڈوبا ہوا ہے ۔اس کے باوجود سرکاری کمپنیاں ،انڈین ریلوے، اسٹیشنوں ،ہوائی اڈوں سمیت ملک کے ثقافتی بلڈنگیں اور پراپرٹیز بک چکے ہیں یا گروی ہیں ،مگر ہندوستان میں بتدریج مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔

11 دسمبر کو اخبار پڑھ رہا تھا جونہی میری نظر فرنٹ پیج کے گوشے میں ایک ہیڈ لائن پر پڑی میں انگشتِ بدنداں رہ گیا کہ یہی باقی تھا جو حج 2021 کے لئے تقریبا چار لاکھ ادا کرنا پڑے گا۔

ع۔ اے خاک وطن تجھ سے میں شرمندہ بہت ہوں

مہنگائی کے موسم میں یہ تیوہار پڑا ہے

اسی طرح دوسرے امور میں بھی روز بروز بڑھتی مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے، اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وہیں بجلی ،گیس ،پیٹرول اور ڈیزل کے بھی نرخ آسمان چھو رہے ہیں۔ آپ دیکھیں کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ گھر میں استعمال ہونے والے سرسوں تیل، فارچون رفائن اور کھانے لگانے والے ہر طرح کے تیل بھی مہنگائی کی زد میں دوگنی قیمتوں پر بکنے پر مجبور ہیں۔

ع۔ چینخ اٹھے ہیں میرے گھر کے یہ خالی برتن

اب تو بازار سے مہنگائی کو واپس لے لے

پھر اوپر سے عوام پر نئے ٹیکس لگانے کے لیے مختلف قسم کے حیلوں بہانوں کی جستجو ہو رہی ہے ۔یاد رکھیں یہ جو آپ پیکج پر پیکج دے رہے ہیں وہ اسی وقت کارگر ثابت ہو گا جب ہمارے درمیان سے مسلسل بڑھ رہی مہنگائی پر روک تھام ہو سکے ورنہ یہ پیکیج دکھاوا ثابت ہوگا کسی کام کا نہیں ہوگا۔

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا اسی وقت رخت سفر باندھے گا جب عوامی مسائل میں کمی آئے اور ہندوستانی باشندے مذہب و ملت کے نام پر ظلم کی آگ میں نہ جھو نکے جائیں، ہندوستانی بیٹیاں بلاتکاریوں کے پنجوں سے محفوظ رہیں اور حکمران طفل تسلیاں دینے کے بجائے غیر دانشمندانہ اور فسادی فیصلوں سے پرہیز کریں، جنکی بدولت عام ہندوستانی باشندوں کی معیشت تباہ و برباد اور ان کی زندگیاں اجیرن ہو جاتی ہیں ۔

پھر غیر ملکی قرضوں کا تقاضہ اور بروقت ادا نہ کرنا جو سودی حجم بڑھانے کا باعث ہیں۔یہ بھی ہمارے مہنگائی کے اسباب سے ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ غیر ملکی وسائل اور سرمایوں سے قطع نظر ملکی سرمایوں اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے غیر ملکی قرضوں سے نجات پائیں ۔ مگر ایسا تب ہوگا جب وزیراعظم چوروں اور لٹیروں کے ذریعے ہندوستانی رقم اور سرمایوں کو بیرون ملک بھیجنا چھوڑ دیں اور مذکورہ بالا حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے جھوٹے وعدوں سے اجتناب کریں۔ مگر موجودہ حکمرانوں سے ایسی امیدیں لگانا دن میں تارے دیکھنے کے مترادف ہے۔

حکومتی اقدامات اخباری بیانات ،ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیائی پیغامات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں ۔

حکومت کی جانب سے اگر کوئی اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ ہے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے جھوٹی تسلیاں اور وعدے دکھاوے کے کام جو پچھلے چھ،سات سالوں کی کارکردگی قوم کے سامنے ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی بات کریں تو 12 سے 19روپے فی لیٹر ڈیلر مسلم ممالک سے لاتے ہیں پھر اس پر 50 سے 60 روپے فی لیٹر ٹیکس لگا کر ہندوستان میں فروخت کرتے ہیں اس کے باوجود ہندوستان معاشی بدحالی میں اولیت کا گٹھری سر پر لیے پھر رہا ہے ۔

مہنگائی کے اس خوفناک اور دہشت ناک صورت حال کو دیکھ کر مستقبل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک ہندوستان اور اس کے باشندے کس صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں ۔

باپو نے جو دیا تھا سبق یاد ہے ہمیں

پھر زہر کیوں سماج میں پھیلا دیا گیا

مہنگائی فیض چھونے لگی ہے اب آسمان

دلی کے تخت پر کسے بیٹھا دیا گیا