اولاد کے حق میں والدین کی قربانیاں

82

اسلام ایک ایسا پاکیزہ اور مہذب دین ہے جس نے اشرف المخلوقات کے مابین ایک دوسرے پر حقوق کی ادائیگی مقرر کر کے امن وسلامتی، تہذیب و تمدن، عدل و انصاف، اور برابری کا درس دیا ، اور حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد میں سے والدین کے حقوق کو مقدم کیا ہے۔
دیگر ادیان و مذاھب کی نگاہ میں بھی والدین کا مقام و مرتبہ بہت ہی اونچا اور بلند بالا ہے،
والدین اپنی اولاد کی زندگی سنوارنے، سدھارنے اور ان کے تابناک مستقبل کے لیے اپنی راحت وآرام، چین و سکون کا گلا گھونٹ کر مصائب و آلام کے بڑے بڑے چٹان، پہاڑ، آندھی، طوفان، اور موج کا جی توڑ مقابلہ کرتے ہیں۔
جب بچہ نطفہ کی شکل میں ہوتا ہے تو ماں کئ مہینوں تک قئےاور الٹی کا شکار رہتی ہیں، عموماً ان دنوں گھریلو پکوان تناول کرنا ان کے نفس کے لیے باعث نفرت ثابت ہوتی ہے، شوہر انکی فرمائشوں پر لبیک کہتا ہے، اور رنگ برنگ کے فل فروٹ اور مختلف قسم کے اشیاء کا ڈھیر لگا دیتے ہے،
ماں وضع حمل کے وقت درد زہ سے دوچار رہتی ہے، اگر زمین پر اس تکلیف کو ڈال دی جائے تو زمین بھی برداشت کرنے سے قاصر و عاجز رہے گی، چونکہ اس دوران ماں اپنی جان کی قربانی پیش کرتی ہے، بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ماں اپنے بچہ کو جنکر اللّٰہ کو پیاری ہو جاتی ہے،
بچہ کی پیدائش کے بعد ماں اسکو دو، ڈھائی سال تک اپنے خون کا قطرہ یعنی دودھ پلاتی ہے،
والدین اپنے بچوں کے ننھے منھے نازک اعضاء کی حرکتوں اور چہرے پہ بےمثال خوبصورت کھلکھلاہٹوں کو دیکھ کر چین و سکون کی ٹھنڈی ہواؤں میں سانس لیتے رہتے ہیں، گویا” گلاب کے کٹوروں میں شبنم کی بارش ہو رہی ہے” ،
لیکن جب ان کے ننھے منھے اعضاء مضطرب اور بے قرار ہو کر کچھ کہنا چاہتے ہیں، ان کے چہرے کی ترو تازگی اور کھلکھلاہٹوں کی جگہ تکالیف کی آہیں، اور چیخ و پکار گھٹا ٹوپ بادلوں کی طرح برستا ہے، تو والدین پر خوف و خطر کی بجلیاں چمکنے لگتی ہیں، اور منٹو میں انکی راحت و آرام فنا ہو جاتی ہے، اور پھر ان پر رنج و غم کے بادل برسنے لگتےہیں
والدین بچوں کے بڑے ہونے تک مختلف قسم کے کھلونوں اور طرح طرح کے، انکی فرمائشوں اور تمناؤں کو پورا کرنے میں کوئی قصر باقی نہیں چھوڑتے ، انکو تعلیم و تربیت جیسی زیورات سے مزین کرنے کے لیے دن و رات پسینہ بہا کر خون پانی ایک کر کے روپیہ کماتے ہیں۔
انہیں تمام خدمات عظیمہ اور شفیقہ کے پیش نظر اسلام نے والدین کے حقوق کو بہت ہی اونچا اور بلند بالا کیا ہے، اور اولاد کو والدین کے ساتھ حسن سلوک، اور اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا، ان پاک ہستیوں کو اف تک کہنے اور جھڑکنے سے بھی منع کیاگیا ہے،
چونکہ والدین کے حقوق کی ادائیگی سے خاندان کا نظام محکم و مستحکم ہوتا ہے، معاشرہ مہذب کہلاتا ہے، خیر و برکت انسان کا مقدر بنتی ہے، حتیٰ کہ والدین کی رضامندی ہی میں رب کی رضامندی ہے، دین اسلام نے ان کے ساتھ خدمات صالحہ و حسنہ اور شیریں کردار سے پیش ہونے پر انکی پیروں تلے جنت کو قائم کر دیا ہے۔
اسی لئے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے جن کے والدین باحیات ہیں انھیں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اخلاق حسنہ وکریمہ کے ساتھ پیش آنا چاہیے، ان کی مکمل ضروریات کو پورا کرنے کی حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے، اور ہم سے جن لوگوں کے والدین اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں، انہیں انکے حق میں دعا کرنی چاہیے۔
آخر میں اللّٰہ سے دعا گو ہوں کہ مولی تو ہمیں اپنے والدین کے ساتھ اخلاق طیبہ و حسنہ کے ساتھ پیش آنے کی توفیق دے آمین یا رب العالمین