اورنگ آباد میں مہاتما گاندھی کی 151 ویں سالگرہ منائی گئی

62

اورنگ آباد میں مہاتما گاندھی کی 151 ویں سالگرہ منائی گئی انوکھے انداز سے..
ماہنامہ بچوں کی دنیا کی 500 کاپیاں تقسیم کی گئی..
اورنگ آ باد 2؍اکتوبر مہاتما گاندھی کی 151 ویں سالگرہ انوکھے انداز سے منائی گئی.. ریڈ اینڈ لیڈ فاؤنڈیشن کی جانب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی نے گاندھی جی کی 151 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ’’ ماہنامہ بچوں کی دنیا ‘‘ خصوصی شمارہ شائع کیا ہے اس کے علاوہ دیگر شمارے شہر کے مختلف گلیوں سڑکوں اور محلوں میں تقسیم کیے گئے . ۔ شہر کی مشہور سماجی تنظیم ریڈ اینڈ لیڈفاؤنڈیشن مختلف اردو اسکولوں میں 15؍ ہزارطلباء تک یہ شمارہ پہنچایا تھا جسے طلباء نے خرید کر اجتماعی مطالعہ کر گاندھی جی کی سالگرہ منائی تھی ۔ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مرزاعبدالقیوم ندوی نے بتایاکہ گزشتہ پانچ برسوں سے 2؍ اکتوبرگاندھی جینتی،۱۵ ؍اکتوبرڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور 17؍ اکتوبر سر سید احمد خان کی یومِ پیدائش کی مناسبت سے طلباء میں ماہنامہ بچوں کی دنیااور دیگررسائل و جرائدکے ساتھ ان شخصیات کی زندگی پرشائع کتابوں کا مطالعہ کرنے اہتمام کراتے ہیں۔ امسال پوری دنیامیں بڑے دھوم و عقیدت کے ساتھ گاندھی جی کی 151 و یں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ ملک بھر میں الگ الگ پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں۔
کویڈ19 کے چلتے اسکول بند ہیں فاؤنڈیشن نے یہ پروگرام بنایاکہ طلبا ء کو ان کے گھروں اور محلوں میں جا کر کتابیں تقسیم کی جائیں.. اس آج صبح ہی سے شہر کی غریب بستیوں میں جن میں نارے گاؤں، مصر واڑی، بائجی پورہ، قیصر کالونی میں ’’بچوں کی دنیا‘‘دیا گیا.۔مرزا نے یہ بھی کہا کہ وہ گزشتہ 5 سالوں سے اورنگ ا ٓباد،مراہٹواڑہ کے مختلف اسکولوںمیں ملک کی مشہور شخصیتوں کے یومِ پیدائش و یومِ وفات کی مناسبت سے ان کی زندگیوں پرشائع کتابوں کو مفت تقسیم کر طلباء میں مطالعہ کا شوق پیدا

ghnsdi

کر رہے ہیں.. ساتھ ہی طلباء و سرپرستوں کو کتابیں خرید کر پڑھنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے ۔ ابھی تک انہوںنے18500؍ ہزار کتابیں طلباء و عوام میں مفت تقسیم کی ہے۔ واضح رہے کہ قومی کونسل دہلی سے شائع ’’ماہنامہ بچوں کی دنیا ‘‘ ملک بھر میں سب سے زیادہ اورنگ آباد شہر ہی میں فروخت ہوتا ہے جسے یہاں کے طلباء بڑے پابندی سے خرید تے ہیں ۔ مرزاعبدالقیوم ندوی نے گزشتہ چھ سالوں میں اس رسالہ کی ساڑھے پانچ سے زائد کاپیاں فروخت کر عالمی ریکارڈ بنایا ہے۔مرزا ندوی کا کتابوں کے تئیں بیداری پیدا کرنے کا ایک اپنا ایک الگ انداز ہیں وہ شہر کے مختلف اردو اسکولوں میں جاتے ہیں طلباء سے خطاب کرتے ہیں حکومت کی جانب سے جن شخصیات

ghnad1

کی یوم ِ پیدائش و وفات اورقومی تہواروں پر جوتعطیلات دی جاتی ہیں وہ اس استعمال اسطرح کرسکتے ہیں کہ ان شخصیات کی خدمات اور کارناموں سے طلباء واقف ہوں تو ان کی زندگی پر شائع کتابوں کا مطالعہ کیا جائے اور وہ کتابیں طلباء کی لائبریریوں میں فراہم کی جائے جس سے صحیح معنی میں عظیم شخصیات کو یاد کیا جا سکتا ہے..فاؤنڈیشن کے اراکین کا ایک ہی مقصد ہے کہ عوام میں مطالعہ کا شوق پیدا کیا جائے..