ان کو کون سمجھائے؟خورشید انور ندوی

58

تحریر :خورشید انور ندوی
19 اپریل 2021
ان کو کون سمجھائے؟
خطرہ اس قدر قریب آچکا ہے کہ خطرے کی گھنٹی بجنے کا محاورہ دور کی بات لگنے لگی.. گھر میں محصور محتاط لوگ بھی اب محفوظ نہیں رہے.. دروازے پر دستک دے کر ملنے کے لئے آنے والے ہاتھ مصروف دعا ہیں.. سارے بدعقلوں کی عقل ٹھکانے لگ چکی.. مسلمانوں کا نیم مذہبی طبقہ جو ہر بات میں سازش سازش کی رٹ کا عادی ہے اپنا اور اپنوں کا بہت سا نقصان کرچکا ہے، ہندوؤں کا سیاسی اور نعرہ باز عنادی حلقہ سب کا برا کرکے شمشان گھاٹوں پر لاشیں پھینک کر بھاگ رہا ہے.. مسلمانوں کے جہل اور ہندوؤں کے عناد نے اپنے اپنے گھر اجاڑ لئے اور مارے مارے پھر رہے ہیں.. یہ کہنا کہ کوئی گھر بچا ہے مشکل بات ہے.. جس دن ماس ٹسٹ ہوگیا سب بھرم رہ جائے گا.. مجھے سمجھ میں نہیں آرہا کہ آخر کیا پڑھ کر انسان بات سمجھتا ہے.. تبلیغ والوں کے ساتھ انتظامیہ کے ظلم اور میڈیا کی سفاکانہ جھوٹی تشہیر نے ایک اچھا کام کیا کہ تبلیغ کا کام حد درجہ محتاط ہوگیا اور خطرے سے باہر ہوگیا.. ادھر عدالتوں نے تقریباً سارے کیسز کلیر کردیئے اور باعزت بری کئے، اٹھاریٹیز کے خلاف بدنیتی اور زیادتی کے ایسے ایسے ریمارکس دیئے کہ ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں ایسے ریمارکس پر سیاسی اور انتظامی استعفے ہوجاتے ہیں.. ادھر کمبھ کے ضدی اور اندھے منتظمین نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے ہر حکم اور ہر ہدایت کو پوری طرح نظرانداز کیا اور سارے ملک میں وبا کے پھیلاؤ کو پر لگادئے.. جو رپورٹس آپ پڑھ رہے ہیں وہ کچھ نہیں ہے.. وہ آنکھ میں دھول ہے.. جتنے کیسز آپ کے آس پاس ہورہے ہیں جن میں اموات بھی ہیں، وہ شاید ہی اس رپورٹ کی آپ ڈیٹ کا حصہ ہوں..زیادہ تر لوگ سرکاری اور سرکاری امداد کے پرائیویٹ ہسپتالوں سے بچ رہے ہیں اور لاشیں اٹھارہے ہیں.. کرونا سے متاثر زیادہ تر کیسز ہسپتال لے نہیں رہے ہیں اور لے کر بھی واپس کررہے ہیں.. میرے کئی عزیز اور واقف کار ہسپتالوں سے نامراد لوٹے اور بستروں کی عدم دستیابی کا عذر کردیا گیا.. کئی اللہ کو پیارے ہوگئے، اور باقی صحت و سلامتی کی امیدوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں.. سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ حالات کی ابتری میں ہسپتال میں بستر اور گھر پر آکسیجن سلنڈر کی آس دھندلی ہوچلی ہے..بعض ہسپتالوں میں کثرت اموات کے بارے میں انتظامیہ اور طبی عملہ کی وضاحت نے عام لوگوں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے.. لوگ ڈر گئے ہیں.. حیدرآباد کا گاندھی ہسپتال ایک بہت بڑا ہسپتال ہے وہاں سے ایک دن میں 35 لاشیں اٹھنا ایک ہیبتناک منظر ہے.. مجھے ذاتی طور پر ڈاکٹروں کی اس رائے سے اتفاق ہے کہ کیسز انتہائی مخدوش قسم کے آرہے ہیں.. لوگ ہمارے پاس تقریباً مایوس کن طبی حالت کے ساتھ رجوع ہورہے ہیں. دوسری طرف عام لوگ اس کابوس کا شکار ہیں کہ وہاں جاکر واپسی نہیں ہوتی.. یہ حال میری ریاست تلنگانہ کا ہے جہاں صورت حال اتنی ابتر نہیں ہے… کوئی لاک ڈاؤن نہیں، رات کا کرفیو نہیں، مسجدیں آباد ہیں.. پوری تراویح ہورہی ہیں. بازار کھلے ہیں.. پھر مہاراشٹرا ،دہلی اور اتر پردیش کا اندازہ کرلیں جہاں قیامت صغریٰ بپا ہے.. اور حکومتوں کے پاس اچھے بندوبست کے نام پر بے رحم ڈنڈے باز پولیس کے سوا کچھ نہیں.. جس ملک کا وزیراعظم “کووڈ اتسو” منانے کا پروگرام دے رہا ہے وہاں اکثر ریاستوں کے پاس ویکسین کے دوز کا اسٹاک تین دن سے زائد کا نہیں..آکسیجن سلنڈر کی کمی کی شکایت ہر ریاست کو ہے لیکن اس کو اپوزیشن اور اقتدار کی بیان بازی کا کھیل بنایا گیا.. پیوش گوئل جیسے وزیر بھی اس کو الزام تراشی قرار دے رہے تھے لیکن کل گجرات کی حکومت نے بھی یہ شکایت کرڈالی جہاں بی جے پی کی حکومت ہے.. ان حالات میں چھ ریاستوں میں صوبائی الیکشن اور دس ریاستوں میں ضمنی الیکشن جاری ہیں. امیت شاہ کہتے ہیں کہ جہاں الیکشن ہورہے ہیں وہاں وبا کا اثر کم ہے.. تو پھر ایک حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سارے ملک میں اسمبلیاں اور پارلیمان توڑ کر نئے انتخابات قبل از وقت کرادئے جائیں تاکہ وبا اس الٹی منطق ہی کے ذریعہ سہی، قابو میں تو آئے.. یہ ذمہ داروں کا رویہ ہے جن کے ہاتھ میں ملک بانی کی زمام ہے.. اب آپ کسی کی نہ سنیں، اپنے مذہبی علماء کی بھی اگر وہ اس وبا کی سنگینی کے خلاف بات کریں.. آپ اپنی عبادت کے معمولات میں بھی محض طبی ماہرین کی رائے کو اہمیت دیں، اگر وہ عبادت کے لئے اجتماع کو ضرر رساں کہیں تو اجتماع سے پرہیز کریں.. کون کیا کرتا ہے اس کی صوابدید پر چھوڑیں.. کمبھ کی ان دیکھی خود پر مسلط نہ کریں.. اپنے بچوں کی سوچیں.. وبا سے بچاؤ ردعمل کے ذریعہ نہیں ہوسکتا.. آپ پر اپنی اور دوسروں کی جان کا تحفظ فرض ہے.. اب بھی جو لوگ ادھر ادھر کی بہکی بہکی کہتے ہیں ان کو موت کا تجربہ کرنے کی شخصی آزادی برت لینے دیں.. اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے..